پاکستان سے امریکا کے مطالبات نئی بات نہیں

پاکستان سے امریکا کے مطالبات نئی بات نہیں

سینئرتجزیہ کار ڈاکٹر مہدی حسن نے کہا ہے کہ پاک امریکہ وزرائے خارجہ کی ملاقاتوں کے باوجود امریکہ کے پاکستان سے مطالبات کوئی نئی بات نہیں امریکہ افغانستان کے حوالے سے پاکستان سے مدد کا خواہاں ہے اور وہ چاہتا ہے کہ جس طرح پاکستان نے ماضی میں روس کے خلاف جنگ میں امریکہ کی مدد کی تھی اسی طرح اب دوبارہ پاکستان افغانستان میں امریکہ اور طالبان کے درمیان لڑی جانے والی جنگ میں امریکہ کا ساتھ دے لیکن پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی کی پرائی جنگ میں حصہ نہیں لے گا،وہ ایشو آف دی ڈے میں اظہار خیال کر رہے تھے ۔انہوں نے کہاکہ ماضی میں ضیاء الحق کے دور میں روس افغانستان جنگ میں امریکہ نے طالبان کو ہتھیار اور ڈالرز دئیے تھے اور طالبان کو بنانے میں پاکستان نے امریکہ کی مدد کی تھیاور پاکستان کی مدد کی بدولت روس کو افغانستان میں پسپائی اختیار کرنا پڑی لیکن روس کی پسپائی کے بعد امریکہ نے طوطا چشمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان سے منہ موڑ لیا اور پاکستان آج بھی اس جنگ کی بدولت 30لاکھ کے لگ بھگ افغان پناہ گزینوں کا بوجھ برداشت کر رہا ہے انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکومت نے پرائی جنگ کا حصہ نہ بننے کا فیصلہ کر کے امریکی حکومت کے ڈو مور کے مطالبے کا واضح جواب دے دیا ہے۔

مہدی حسن

مزید : صفحہ اول