بینظیر قتل میں ملوث پولیس افسروں کی ضمانت منسوخی کی درخواست مسترد

بینظیر قتل میں ملوث پولیس افسروں کی ضمانت منسوخی کی درخواست مسترد

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی ) سپریم کورٹ نے آرمی پبلک اسکول پشاور حملہ کیس کی تحقیقات کے لیے کمیشن قائم کردیا۔چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے اے پی ایس حملے پر از خود نوٹس کی سماعت کی۔سپریم کورٹ نے واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیشن قائم کردیا جو 6 ہفتوں میں اپنی رپورٹ عدالت میں جمع کرائے گا جب کہ کمیشن ہائیکورٹ کے سینیئر جج کی سربراہی میں کام کرے گا۔چیف جسٹس نے حکم دیا کہ سانحے کی تحقیقات کے علاوہ لواحقین کے خدشات اور ان کی داد رسی بھی کی جائے۔کمرہ عدالت میں موجودہ شہید بچوں کی ماؤں سے مکالمے کے دوران چیف جسٹس نے کہا اپنی بہنوں سے معافی چاہتا ہوں، زبانی حکم تو پہلے دیا تھا لیکن فائل پر آرڈر نہیں کر سکا، پشاور سماعت کے موقع پر بینچ ٹوٹ جانے سے ایسی صورتحال پیدا ہوئی۔چیف جسٹس نے کہا ہم آپ کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں اور انصاف کے تقاضے پوری کیے جائیں گے۔سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو قتل کیس میں 2 پولیس افسران کی ضمانت منسوخی کی درخواست مسترد کردی۔جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے انسداد دہشت گردی عدالت سے سزا پانے والے سابق ایس پی خرم شہزاد اور سابق سی پی او سعود عزیز کی سزاؤں کے باوجود ہائیکورٹ سے ضمانتوں کے خلاف درخواست کی سماعت کی۔عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد پولیس افسران کی ضمانت منسوخی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ضمانتوں کو برقرار رکھا ہے۔کیس کی سماعت کے دوران چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، سابق وزیراعظم راجا پرویز اشرف، فرحت اللہ بابر، مہرین انور راجا اور پیپلز پارٹی کے دیگر رہنماء بھی موجود تھے۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے بنی گالہ تجاوزات کیس میں ریمارکس دیئے کہ بنی گالہ میں عمران خان نے تعمیرات کسی منظوری کے بغیر کی ہیں۔سپریم کورٹ میں جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے بنی گالہ تجاوزات اور ماحولیاتی آلودگی سے متعلق کیس کی سماعت کی جس سلسلے میں وزیراعظم عمران خان کے وکیل بابر اعوان عدالت میں پیش ہوئے اور مؤقف اپنایا کہ عمران خان کو سی ڈی اے کی جانب سے نوٹس مل چکا ہے اور 15 دن کے اندر ہم اپنا جواب جمع کروا دیں گے۔اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ کیا جواب جمع کروائیں گے وہ ہی مبہم سا نقشہ جمع کروائیں گے۔انہوں نے کہا کہ آپ کی ملکیت تو بالکل ٹھیک ہے لیکن کسی ادارے سے آپ کا نقشہ منظور نہیں ہوا، عمران خان نے تعمیرات کسی منظوری کے بغیر کی ہیں۔جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ سی ڈی اے اس حوالے سے کوئی ڈیپارٹمنٹ بنائے جو اس جیسے نقشوں کی منظوری دے۔دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان نے راول ڈیم میں رہائشی علاقوں کا فضلہ شامل ہونے پر ایک ہفتے میں رپورٹ طلب کرلی اور ریمارکس دیئے کہ پانی میں فضلہ شامل ہونے سے لوگوں میں بڑی خطرناک بیماریاں پھیل رہی ہیں۔انہوں نے استفسار کیا کہ سابقہ حکومت نے جو 4 ٹریٹمنٹ پلانٹ کا منصوبہ بنایا تھا اس کا کیا ہوا؟جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ اگریہ 4 ٹریٹمنٹ پلانٹ نہیں لگے تو موجودہ حکومت اس کو مکمل کرے۔انہوں نے بابر اعوان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے پہلے بھی آپ کو کہا تھا کہ آپ اقتدار میں ہیں آپ کی ذمہ داری بنتی ہے۔ سپریم کورٹ نے موٹر وے پولیس میں ڈیبوٹیشن پر آ کر ضم ہونیوالے افسران کو واپس بھجوانے کا حکم دیتے ہوئے موٹر وے کو پبلک سروس کمیشن کے ذریعے بھرتیاں کرنے کی ہدایت کردی۔ جمعہ کو سپریم کورٹ میں موٹر وے پولیس میں افسران کے انضمام کے کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے ڈیبوٹیشن پر آئے افسران کو واپس بھجوانے کا حکم دیدیا۔ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق گریڈ 7سے اوپر کے تمام اہلکار بتدریج واپس بھیجے جائیں۔ موٹر وے فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے ذریعے بھرتیاں کرے۔ وکیل درخواست گزار نے بتایا کہ ضم ہونیوالے افسروں اور چھوٹے ملازمین کو متعلقہ اداروں میں واپس بھجوانے سے سنیارٹی مسائل پیدا ہوں گے۔ سپریم کورٹ نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی دہری شہریت سے متعلق درخواست سماعت کے لئے مقرر کردی‘ درخواست روشن علی برڑو نے احمد علی خان کی توسط سے سپریم کورٹ میں جمع کرائی۔ سپریم کورٹ نے پاکستانیوں کے غیر ملکی اکاؤنٹس اور اثاثوں سے متعلق کیس کی سماعت کیلئے مقرر کرتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر، ڈی جی ایف آئی اے، ڈی جی آئی بی اور سیکرٹری ایس ای سی پی کو نوٹس جاری کر دیا۔ جمعرات کو سپریم کورٹ نے پاکستانیوں کے غیر ملکی اکاؤنٹس اور اثاثوں سے متعلق کیس سماعت کیلئے مقرر کر دیا۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں 3رکنی بینچ منگل کو کیس کی سماعت کرے گا۔ عدالت نے چاروں صوبوں کے ایڈووکیٹ جنرلز اور اٹارنی جنرل کو سماعت پر طلب کرلیا، سپریم کورٹ نے چیئرمین ایف بی آر، ڈی جی ایف آئی اے، ڈی جی آئی بی اور سیکرٹری ایس ای سی پی کو نوٹس جاری کر دیا۔

سپریم کورٹ

مزید : صفحہ اول