داسو 2023، مہمند ، 2024اور بھاشا ڈیم 2027تک مکمل ہو گا : حکومت

داسو 2023، مہمند ، 2024اور بھاشا ڈیم 2027تک مکمل ہو گا : حکومت

اسلام آباد( آئی این پی ) دیامر بھاشاڈیم 2027،داسو ڈیم 2023اورمہمند ڈیم2024تک مکمل ہو جائیگا،حکومت ،سینیٹ میں اپوزیشن کا پشاور یونیورسٹی طلباء پر تشدد کیخلاف احتجاج ، چیئرمین سینیٹ نے رپورٹ طلب کر لی،پشاور یونیورسٹی واقعہ کی تحقیقات کیلئے کمیٹی بنائی جا ئے گی ، قائد ایوان شبلی فراز۔تفصیلا ت کے مطابق سینیٹ کو حکومت نے آگاہ کیا ہے کہ دیامر بھاشاڈیم 2027،داسو ڈیم 2023اورمہمند ڈیم2024تک مکمل ہو جائے گا،ن لیگی دورہ حکومت میں 11ارب ڈالر سے زائد براہ راست بیرونی سرمایہ کاری پاکستان میں کی گئی ، گزشتہ تین سالوں کے دوران 3744وفاقی سرکاری ملازمین سرکاری رہائش گاہ الاٹ کی گئیں ، دیامر بھاشا ڈیم کے لئے کل 37 ہزار 419 ایکڑ جبکہ داسو ڈیم کے لئے 9ہزار 917 ایکڑ اراضی کی ضرورت ہے، مہمند ڈیم پراجیکٹ کی کل لاگت 309 ارب روپے سے زائد ہے، 2004ء سے 2009ء تک منگلا ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں 30 فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے ، موجودہ ڈیموں کی صلاحیت بڑھانے کی کسی تجویز پر غور نہیں کیا جارہا۔ ان خیالات کا اظہار جمعہ کو سینیٹ میں وزیر پیڑولیم غلام سرور وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان اور دیگر نے وقفہ سوالات کے دوران ارکان کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کیا۔آغا شاہ زیب درانی کے سوال کے تحریری جواب میں وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس نے ایوان کو بتایا کہ گزشتہ تین سالوں کے دوران 3744وفاقی سرکاری ملازمین سرکاری رہائش گاہ الاٹ کی گئی ہے ، سینیٹر مہر تاج روغانی کے سوال کے جواب میں وزارت آبی وسائل کی طرف سے تحریری جواب میں ایوان کو آگاہ کیا گیا کہ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے بجلی کے بلوں میں نیلم جہلم سرچارج وصول کرنے کی اس منصوبہ سے پیداوار شروع ہونے تک منظوری دی تھی۔ سینیٹ میں پوزیشن کا پشاور یونیورسٹی طلباء پر تشدد کیخلاف احتجاج ، پشاور پر طلبہ تشدد کی چیئرمین سینیٹ نے رپورٹ طلب کر لی۔طلباء پر تشدد اور لاٹھی چارج تکلیف دہ ہے،یہ واقعہ دہشت گردی کا ہے ، قوم نے 126دن دھرنے پر ان کو برداشت کیا ، یہ خود نوجوانوں کو چھبیس منٹ برداشت نہیں کرسکے، حکومت باز آجائے، ایسا ہی رویہ رہا تو چار مہینے میں ان کی حکومت ختم ہوجائے گی، گزشتہ دور حکومت میں تین چار مہینے پارلیمنٹ کے سامنے دھرنے ہوئے، پارلیمنٹ کو گالیاں پڑیں آج پی ٹی آئی کو بھی مظاہرے برداشت کرنے چاہئیں پاکستان کی عظیم درسگاہ میں جس طرح طالب علموں کو بے دردی سے مارا گیا اس کی حالیہ دس سالوں میں کہیں مثال نہیں ملتی، مارشل لاء حکومت میں بھی ایسا نہیں دیکھا گیا، اس معاملے کا نوٹس لیا جانا چاہئے۔ ان خیالات کااظہار راجہ ظفرالحق ، جاوید عباسی ، روبینہ خالد، چوہدری تنویر اور عبدالغفور حیدری سمیت دیگراپوزیشن ارکان کی سینیٹ میں نکتہ اعتراض پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ دریں اثناسینیٹ میں قائد ایوان شبلی فراز نے کہاہے کہ پشاور یونیورسٹی واقعہ کی تحقیقات کے لئے کمیٹی بنائی جا ئے گی ، فیسیں بالکل نہیں بڑھائی گئیں، پشاور یونیورسٹی کے ہاسٹل پر غیر قانونی طور پر لوگوں کا قبضہ تھا ، وہاں صرف70کمرے قانونی طور پر طلباء کے پاس ہیں ،جبکہ 630کمروں پر غیر قانونی قبضے ہیں۔جمعہ کو سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ پشاور یونیورسٹی سمیت خیبر پختونخوا کی یونیورسٹیوں کو ماضی میں جس طریقے سے چلایا جاتا رہا وہ سب کے سامنے ہے۔ ہم نے صوبے میں ہائیر ایجوکیشن میں اصلاحات کیں اور یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کو غیر سیاسی بنانے کے لئے ماہرین کی کمیٹی بنا کر ان کا انتخاب کیا، وائس چانسلر اب نئے آگئے ہیں پرانے وائس چانسلرز ایک خاص سیاسی جماعت سے وابستہ تھے۔

سینیٹ ،حکومت

مزید : صفحہ آخر