دلوں کی رنجشیں بڑھتی رہیں گی ، اگر کچھ مشورے باہم نہ ہونگے

دلوں کی رنجشیں بڑھتی رہیں گی ، اگر کچھ مشورے باہم نہ ہونگے
دلوں کی رنجشیں بڑھتی رہیں گی ، اگر کچھ مشورے باہم نہ ہونگے

  

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی گرفتاری جس مقدمے میں ہوئی ہے، اس کا فیصلہ تو عدالتیں کریں گی کہ اس میں وہ کتنے قصوروار تھے اور کتنے نہیں، لیکن اتنا تو عام آدمی کو بھی معلوم ہے کہ انہیں صاف پانی کیس میں جمعہ کے روز طلب کیا تھا اور گرفتاری آشیانہ کیس میں ڈال دی۔ ایسے ہی جیسے نواز شریف کے خلاف کیس تو پانامہ کا تھا لیکن نااہلی اقامہ پر ہوگئی اور یہ سوال سپریم کورٹ کے ایک فاضل جج نے اٹھایا تھا۔ صاف پانی کیس کی تفتیش کہاں تک پہنچی، یہ تو ابھی معلوم نہیں، یہ بھی ممکن ہے کہ آشیانے کا اونٹ کسی کروٹ بیٹھ جائے تو پھر صاف پانی کی ضرورت پڑ جائے۔ اب شہباز شریف جانیں اور عدالتیں، لیکن کیا اس گرفتاری کا کوئی تعلق اس غیر ذمہ دارانہ بیان سے بھی بنتا ہے، جو چند دن پہلے مسلم لیگ (ن) کے ایک رہنما رانا مشہود نے داغ دیا تھا۔ یہ پتھر جس تالاب میں پھینکا گیا تھا، اس کی لہروں نے دور دور تک اضطراب پیدا کر دیا تھا اور کوئی وقت ضائع کئے بغیر حامی اور مخالف سب دھڑا دھڑا وضاحتیں کرنے لگے تھے۔ جس نے بھی وضاحت کی اس نے پہلے رانا مشہود کو ان کی ’’اوقات‘‘ یاد دلانا ضروری سمجھا۔ کسی نے کہا کہ ان کے بیان کی کوئی اہمیت نہیں پھر اس بیان کی بھرپور انداز میں مذمت بھی کر دی۔ کسی نے کہا رانا مشہود کو کیا پتہ مذاکرات کیا ہوتے ہیں، وہ تو زمینوں پر قبضے کی بات کریں۔ ان کی اپنی جماعت نے بھی ان کے خلاف انضباطی کارروائیاں شروع کر دیں، رکنیت بھی معطل کر دی، لیکن لگتا یوں ہے رانا مشہود کے غیر ذمہ دارانہ بیان نے کچھ ذمہ داروں کو بھی سوچنے پر مجبور کر دیا تھا۔ ممکن ہے شہباز شریف چند دن بعد گرفتار ہو جاتے لیکن ضمنی الیکشن سے آٹھ دن پہلے ان کی گرفتاری اگر عجلت میں کی گئی تو اس کی وجہ مسلم لیگ (ن) کے یہ حقیقی یا فرضی دعوے بھی ہوسکتے ہیں، جس میں وہ اپنے آپ کو ضمنی انتخاب کی فاتح قرار دیتی ضمنی انتخاب قومی اسمبلی کی 11 نشستوں پر ہو رہا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کا فوکس تو لاہور پر ہے جہاں سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور سابق وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق امیدوار ہیں۔ دونوں کا دعویٰ ہے کہ وہ جیت جائیں گے، کیونکہ حمزہ شہباز شریف والے حلقے میں شاہد خاقان عباسی کو کسی خاص مقابلے کا سامنا نہیں، جتنے بڑے مارجن سے حمزہ جیتے تھے، امکان ہے کہ ضمنی انتخاب میں بھی وہ برقرار رہے گا۔ جہاں تک خواجہ سعد رفیق کا تعلق ہے وہ وزیراعظم عمران خان سے صرف 602 ووٹوں سے ہارے تھے۔ اب ان کے مدمقابل ہمایوں اختر خان ہیں، جنہیں یہ شکایت ہے کہ ان کے بورڈ اتارے جا رہے ہیں، جس کا کسی دل جلے نے یہ جواب دیا کہ بورڈ اتارے نہیں جا رہے، انہیں لوٹے کے ہاروں سے سجایا جا رہا ہے۔ بہرحال اس حلے کا نتیجہ دلچسپ رہے گا، اسی طرح لاہور میں صوبائی اسمبلی کی دو نشستوں پر بھی کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے، لیکن اس وقت زیادہ اہم بات یہ ہے کہ قومی اسمبلی میں حکومت کے ایک بڑے اتحادی سردار اختر مینگل کی جماعت حکومت کا ساتھ چھوڑنے کے لئے پر تول رہی ہے اور کوئی دن جاتا ہے وہ حکومت سے الگ ہو جائے گی۔ ڈیڑھ ماہ سے بھی کم عرصے میں سردار مینگل کو یہ شکایت پیدا ہوئی ہے کہ ہم حکومت کے اتحادی ہیں لیکن حکومت کسی معاملے پر ہم سے مشاورت نہیں کرتی۔ عموماً چھوٹی جماعتوں کو اپنی بڑی اتحادی جماعت سے ایسی شکایت رہتی ہے، اس لئے اگر سردار مینگل کو بھی شکایت ہے تو زیادہ حیرت کی بات نہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ اگر صرف مشاورت نہ کرنے کی شکایت ہے تو حکومت ایسا کیوں نہیں کرتی اگر ایک پارٹی سے آپ نے صدر اور وزیراعظم کے انتخاب میں ووٹ لیا ہے اور اس کے مطالبات مان کر ایک تحریری معاہدہ بھی کیا ہے تو کیا حرج ہے اس جماعت سے وقتاً فوقتاً مشورہ ہی کرلیا جائے۔ باہمی مشاورت ہمیشہ مفید ثابت ہوتی ہے بصورت دیگر رنجش پیدا ہوتی اور بڑھتی رہتی ہیں۔ سیاسی فاصلے بھی پیدا ہو جاتے ہیں، بقول شاعر

دلوں کی رنجشیں بڑھتی رہیں گی

اگر کچھ مشورے باہم نہ ہوں گے

اس لئے بہتر یہ ہے کہ اگر وفاقی حکومت بی این پی کو اپنے ساتھ رکھنا چاہتی ہے تو کم از کم مشاورت نہ ہونے کی شکایت تو دور کر دے اور اگر اس کا خیال ہے کہ بی این پی جاتی ہے تو جائے، ہمارے پاس ایسے کاموں کے لئے مشاورت کا وقت نہیں تو پھر ’’رموز مملکت خویش خسرواں داند‘‘ لیکن یہ یاد رکھنا چاہئے کہ قومی اسمبلی کے ایوان میں اکثریت کے لئے 172 ارکان کی سادہ اکثریت درکار ہے اور وزیراعظم عمران خان کو 176 ووٹ ملے تھے یعنی سادہ اکثریت سے صرف چار زیادہ، اور یہ کوئی ایسی تعداد نہیں جس پر حکومت اتراتی پھرے، لیکن بعض وزرأ کے رویے ایسے ہیں جیسے ان کی حکومت دو تہائی اکثریت سے قائم ہوئی ہو۔ اختر مینگل کو تازہ شکایت یہ پیدا ہوئی ہے کہ بلوچستان کا نیا گورنر لگاتے ہوئے ان سے مشورہ نہیں کیا گیا اور اتحادیوں کو اعتماد میں لئے بغیر بلوچستان کے متعلق اہم فیصلے کرنا مناسب نہیں ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت سازی کے وقت بی این پی نے بلوچستان کی بہتری کے لئے چھ نکات پیش کئے تھے جن میں سے چار نکات سے حکومت پیچھے ہٹتی نظر آتی ہے، تحریک انصاف اپوزیشن کا رویہ اختیار کئے ہوئے ہے اور محاذ آرائی کی سیاست کر رہی ہے۔ نوازشریف حکومت نے بلوچستان کے متعلق بجٹ میں منصوبے رکھے، لیکن ان پر عمل نہیں کیا جبکہ تحریک انصاف نے ان منصوبوں کے حوالے سے ضمنی بجٹ میں کوئی ذکر نہیں کیا۔ اختر مینگل کا خیال تھا کہ اب حکومت ان سے جان چھڑانا چاہتی ہے، اب اس بیان کے بعد آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ اختر مینگل مزید کتنا عرصہ حکومت کا ساتھ دیتے رہیں گے؟ دیکھنا صرف یہ ہے کہ وہ حکومت کو چھوڑتے ہیں یا حکومت ان سے جان چھڑاتی ہے۔

اختر مینگل

مزید : تجزیہ