غفار ذکری کی ہلاکت ، کیا لیاری مستقل امن کی طرح جا رہا ہے ؟

غفار ذکری کی ہلاکت ، کیا لیاری مستقل امن کی طرح جا رہا ہے ؟

تجزیاتی رپورٹ :نعیم الدین

لیاری جو کہ کراچی کا قدیم علاقہ ہے اس علاقے میں کئی سالوں سے جرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن آج بھی جاری ہے ۔پولیس نے جرائم کا ایک اور باب بند کردیا ۔لیاری گینگ وار کے سرغنہ غفار ذکری کو ہلاک کردیا جہاں اس کا ایک تین سالہ بچہ بھی ہلا ک ہوا ۔غفار ذکری کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ پچھلی دہائی میں جرائم کی دنیا میں داخل ہوا اور ارشد پپو کا دست راست رہا ہے اور کئی وارداتوں کی پشت پناہی میں بھی اس کا نام رہا ہے ۔وہ کراچی میں جرائم کی دنیا کا ایک خطرناک نام تھا ۔لیاری میں رحمن ڈکیت اور غفار ذکری کے گروہوں کے درمیان کافی عرصے سے جنگ چل رہی تھی جس کا اب خاتمہ ہوگیا ہے ۔لیاری میں کافی سالوں سے بدامنی کی کیفیت تھی جو ابھی بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوسکی ہے ۔اس علاقے میں اب تک نیم عسکری اور غیر عسکری آپریشنز کیے جاچکے ہیں اب تک کوئی ادارہ یہ نہیں جان سکا ہے کہ شہر میں اسلحہ کہاں سے آرہا ہے اور اس کے سپلائر کون ہے جس کے زور پر غریب عوام پر تشدد کیا جاتا ہے اور اس شہر میں اسٹریٹ کرائم جو کہ برسوں سے جاری ہے کیا اس خاتمے کے لیے کوئی صورت نکالی جاسکتی ہے ۔شہری حلقوں کا الزام ہے کہ پولیس کا مخبری کا نظام انتہائی کمزور ہے ۔ان حلقوں کو اس بات پر بھی حیرت ہے کہ پولیس جو کہ اپنے علاقے اور لوگوں سے واقف ہوتی ہے اور ہر کرمنل کے بارے میں معلومات رکھتی ہے پھر جیبوں میں پستول رکھ کر گھومنے والوں کو گرفتار کیوں نہیں کرتی ۔جو ملزمان گرفتار کیے جاتے ہیں ان سے موثر معلومات کیوں نہیں حاصل کی جاسکتیں ان کو دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے کیوں استعمال نہیں کیا جاتا یہ ایسا سوال جس کا جواب پولیس آج تک نہیں دے سکی ہے ۔ملزمان کو اسلحہ فراہم کرنے والوں کو گرفتار کیو ں نہیں کیا جاتا ۔کیا غفار ذکر ی کے مکان سے برآمد ہونے والے اسلحہ کے بارے میں سراغ لگایا جاسکے گا کہ اتنی بڑی مقدار میں اسلحہ وہاں تک کیسے پہنچا ۔متعلقہ حکام اتنے بے بس اور لاچار کیوں نظر آتے ہیں ۔کراچی میں 2015میں شروع کیے گئے آپریشن کے بہتر نتائج ضرور آئے ہیں لیکن کچھ دن خاموشی کے بعد اسٹریٹ کرائم نے شہریوں کا ایک مرتبہ پھر جینا دوببھر کردیا ہے ۔موٹرسائیکلوں پر ملزمان جگہ جگہ لوٹ مارکررہے ہیں ۔سوشل میڈیا پر ان جرائم پیشہ افراد کی تصویریں بھی دی جاتی ہیں لیکن پولیس کے لیے ان کو گرفتار کرنا کیوں مشکل ہے یہ ایک سوالیہ نشان ہے ۔

مزید : کراچی صفحہ اول