ناقص پالیسیوں کی بدولت توانائی کے شعبہ میں قرضوں کا حجم 1250ارب تک پہنچ گیا ہے : عمر ایوب

ناقص پالیسیوں کی بدولت توانائی کے شعبہ میں قرضوں کا حجم 1250ارب تک پہنچ گیا ہے : ...

صوابی(بیورورپورٹ)وفاقی وزیر پانی و بجلی عمر ایوب خان نے کہا ہے کہ سابقہ حکومتوں کے غلط پالیسیوں کی وجہ سے توانائی کے شعبے میں قرضے کا حجم 1250ارب روپے تک جا پہنچتا ہے جس میں موجودہ حکومت اور ہمارے وزراء کچھ بھی نہیں کر سکتے ہیں ان خیالات کااظہار انہوں نے تحصیل ہال ٹوپی میں کھلی کچہری سے خطاب کر تے ہوئے کیا جس میں تحصیل کونسل کے ناظم سہیل خان یوسفزئی کے علاوہ ایم پی اے حاجی رنگیز احمد ، اصلاحی جر گہ ضلع صوابی کے صدر گل مست خان ایڈوکیٹ ، تحصیل کونسلر علی حسین ، خان شیر ، سلطان علی اور لیبر فیڈریشن کے صدر شیر اعظم جدون و دیگر نے بھی خطاب کیا۔ قبل ازیں سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب خان کے ہمراہ تحصیل دفاتر میں پودا لگا کر گرین پاکستان مہم کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ کھلی کچہری سے خطاب کر تے ہوئے وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب خان نے کہا ہے کہ متاثرین تر بیلہ ڈیم اور غازی بھروتہ کے بنیادی مسائل حل کرنے کے علاوہ ان کے بنیادی حقوق کا تحفظ کیا جائیگا۔انہوں نے کہا کہ آئندہ سال گرمی سے پہلے پاکستان میں بجلی کے کم وولٹیج کا مسئلہ حل ہو جائیگا اور اس سلسلے میں ہماری حکومت نے ٹھوس اقدامات کئے ہیں انہوں نے کہا کہ صوابی میں 220کے وی اے کے لئے نئے گریڈ اسٹیشن کی منظوری دی جا چکی ہے اور اس پر جلد کام شروع ہونے سے یہاں لوڈ شیڈنگ اور وولٹیج کا مسئلہ حل ہو جائیگا انہوں نے کہا کہ جب پی ٹی آئی کی حکومت اقتدار میں آگئی تو اس وقت پاکستان پر عالمی دنیا کا مجموعی قرضہ 29ہزار ارب ڈالرتھا حالانکہ پانچ سال پہلے پاکستان پر یہ قرضہ 14ہزار ارب تھا اور جو پندرہ ہزار ارب مزید ڈالر بڑھا ہے تو عوام اس کے بارے میں پوچھنے میں حق بجانب ہے کہ یہ پندرہ ہزار ارب ڈالر اضافی قرضہ کہاں چلا گیا ہے انہوں نے کہا کہ عمران خان کی خواہش ہے کہ ہمارے ملک میں غریبوں کو ٹیکس سے مستثنیٰ کیا جائے اس لئے پاکستان میں سر مایہ کاروں پر ٹیکس لگایا جائیگا ۔ انہوں نے تحصیل ٹوپی میں بجلی کے خراب ٹرانسفارمرکو مرمت اور درست کرنے کے لئے ورکشاپ کے قیام کاا علان بھی کیا۔

مزید : کراچی صفحہ اول