چکوال،بلدیہ کا سلاٹر ہاؤس آلودگی پھیلانے کاسبب بننے لگ لگا

چکوال،بلدیہ کا سلاٹر ہاؤس آلودگی پھیلانے کاسبب بننے لگ لگا

چکوال( ڈسٹرکٹ رپورٹر)چکوال شہر میں موجود بلدیہ کے زیر انتظام سلاٹر ہاوس آلودگی پھیلانے کا سبب بن رہا ہے۔چکوال کا واحد سلاٹر ہاؤس کرائے کی زمین پر تعمیر کیا گیا ہے اور یہ آبادی کے عین وسط میں واقع ہے۔بلدیہ اس سلاٹر ہاؤس سے ماہانہ 80400روپیہ کماتی ہے مگر یہاں قصابوں کو جدیدسہولتیں فراہم کرنا تو دور کی بات پانی تک دستیاب نہیں ہے کیونکہ پانی کی ٹینکی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔صفائی کا عملہ اکثر غیر حاضر رہتا ہے۔جانوروں کی آلائیشیں کئی کئی دن بر لب سڑک پڑی رہتی ہیں۔اس گندگی کی بدولت آوارہ کتے اور چیلیں اس علاقے پر قابض رہتے ہیں جن کی بدولت یہ بعض اوقات بچوں کو بھی نقصان بھی پہنچاتے ہیں۔علاقہ مکینوں اور قصاب یونین نے بلدیہ چکوال سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سلاٹر ہاؤس کو شہر سے باہر منتقل کرے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ انہیں پاکستان تحریک انصاف کی نئی حکومت سے کا فی امید یں وابسطہ ہیں۔یہاں سے منتخب ہونے والے ایم اپی راجہ یاسر سرفرازجو سیاحت کے وزیر بھی ہیں کواہل علاقہ نے یہ پیغام دیا ہے کہ گندگی اور آلودگی کی موجودگی میں سیاحت کو فروغ نہیں دیا جا سکتا ہے۔کوئی بھی سیاح آلودہ ماحول کی طرف رخ نہیں کرتا ہے۔چکوال کے شہریوں کا کہنا ہے کہ و ہ اب تبدیلی کا عمل آنکھوں سے دیکھنا چاہتے ہیں کیونکہ ا س سے قبل وہ ان کے کان تبدیلی کے نعرے سن سن کر پک چکے ہیں۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر