کے ایم یو ، صوبے کے تمام سرکاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں داخلوں کا آغاز

کے ایم یو ، صوبے کے تمام سرکاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں داخلوں کا آغاز

پشاور( سٹی رپورٹر)خیبر میڈیکل یونیورسٹی پشاور نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل(پی ایم ڈی سی)کے نئے ریگولیشنز 2018کے تحت بطور ایڈمٹنگ یونیورسٹی صوبے کے تمام سرکاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں سیشن 2018-19کے داخلوں کا آغا زکردیا ہے۔داخلوں کے سلسلے میں فارموں کی وصولی 15اکتوبر تک جاری رہے گی۔یاد رہے کہ پی ایم ڈی سی کی حال ہی میں جاری ہونے والی نئی ریگولیشنزکے تحت خیبر پختونخوا کے تمام سرکار ی اور پرائیویٹ میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں داخلوں کے لیئے کے ایم یو کو ایڈمٹنگ یونیورسٹی قرار دیا گیا ہے۔ دریں اثناء کے ایم یو کی نئی داخلہ پالیسی کے مطابق صوبے کے تمام سرکاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں خیبر پختونخوا ،فاٹا،گلگت بلتستان اور آذاد جموں وکشمیر کے ڈومیسائل ہولڈرز وہ طلباء وطالبات داخلے کے اہل ہوں گے جو ایف ایس سی پری میڈیکل یا مساوی بارہ سالہ ہائر سیکنڈری سرٹیفیکیٹ تعلیم کے حامل ہوں گے جب کہ ان امیدواران کاا س سال منعقد ہونے والے ایٹا اینٹری ٹیسٹ میں شریک ہونا بھی لازمی شرط قرار دیا گیاہے۔داخلوں کے سلسلے میں پی ایم ڈی سی کے معیار یعنی میٹرک یا مساوی10فیصد،ایف ایس سی پری میڈیکل یا مساوی40فیصد اور ایٹا ٹیسٹ کے50فیصد نمبروں پر مشتمل میرٹ فارمولے کے تحت داخلے دیئے جائیں گے۔خیبر میڈیکل یونیورسٹی کی جانب سے داخلوں کے سلسلے میں جاری کردہ ہدایات میں کہا گیا ہے کہ امیدوران کے ایم یو کی ویب سائیٹ www.kmu.edu.pkسے داخلہ فارم ، داخلہ پالیسی اور بینک چالان فارم ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔داخلہ فارم بمع مصدقہ درکار دستاویزات 15اکتوبر تک صبح 9بجے سے شام 5بجے تک کے ایم یو فیز 5حیات آباد میں بلا ناغہ جمع کرائے جا سکتے ہیں ۔واضح رہے کہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ارشد جاوید کی خصوصی ہدایات پر ہفتے اور اتوار کے دن بھی داخلہ فارم وصول کیئے جائیں گے۔ امیدوران کو فارم کے ساتھ ساتھ ایم سی بی بینک کی کسی بھی شاخ میں مبلغ دو ہزار روپے بطور فارم پراسسنگ فیس جمع کر کے اس کی رسید داخلہ فارم کے ہمراہ لگانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ہدایات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کوریئر اور ڈاک کے ذریعے بھیجی جانے والی درخواستوں پر قطعاً غور نہیں کیا جائے گا جبکہ فاٹا کے امیدوارن کو کے ایم یوکے علاوہ فاٹا سیکریٹرئیٹ ورسک روڈ پشاور میں بھی داخلہ فارم بمع متعلقہ دستاویزات کی کاپی الگ سے جمع کرانی ہوگی۔ فاٹا اور صوبے کے پسماندہ رہائشی علاقوں کے امیدوارن کو اپنے متعلقہ تعلیمی اداروں کے مقام کا کے ایم یو کی ویب سائیٹ پر دستیاب نقل کے مطابق تصدیقی سرٹیفیکیٹ لازماً جمع کرانے ہوں گے بصورت دیگر ان کی درخواستوں کو زیر غور نہیں لایا جائے گا۔اسی طرح داخلہ فارم میں متعلقہ میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں کی ترجیح ایک دفعہ دینے کے بعد اس میں کسی قسم کی تبدیلی کی اجازت نہیں ہوگی۔

مزید : پشاورصفحہ آخر