ٹرمپ کی شاہ سلمان کو دھمکی پر ولی عہد محمد بن سلمان نے خاموشی توڑ دی ، ایسا دبنگ جواب دیدیا کہ امریکی صدر کا منہ بھی کھلا کا کھلا رہ جائے گا

ٹرمپ کی شاہ سلمان کو دھمکی پر ولی عہد محمد بن سلمان نے خاموشی توڑ دی ، ایسا ...
ٹرمپ کی شاہ سلمان کو دھمکی پر ولی عہد محمد بن سلمان نے خاموشی توڑ دی ، ایسا دبنگ جواب دیدیا کہ امریکی صدر کا منہ بھی کھلا کا کھلا رہ جائے گا

  

ریاض (ڈیلی پاکستان آن لائن )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کو  دی جانے والی ’دھمکی‘ پر ولی عہد محمد بن سلمان نے انتہائی دبنگ جواب دیتے ہوئے امریکہ کو  دو ٹوک پیغام پہنچا دیاہے ۔

تفصیلات کے مطابق چند دن قبل امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے بیان جاری کیا گیا جس میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی بادشاہت امریکا کے دم سے قائم ہے اور امریکا اپنا ہاتھ کھینچ لے تو سعودی بادشاہت دو ہفتے بھی نہ نکال سکےجس پر سعودی ولی عہد اور وزیر دفاع محمد بن سلمان نے جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب  اپنے مفادات کی حفاظت کی صلاحیت رکھتا ہے،ہم امریکہ سے ہتھیار  خریدتے  ہیں مفت نہیں لیتے،سعودی عرب اپنے امن وامان کیلئے کسی کو کچھ نہیں دیگا،سعودی عرب اور امریکا کے باہمی تعلقات برسوں پر محیط ہیں، سعودی عرب 1744ءیعنی امریکا کے قیام سے بھی 30 سال پہلے موجود تھا۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی ادارے ’’بلومبرگ ‘‘ کو تفصیلی انٹرویو دیتے ہوئے  کہا کہ سعودی عرب کی سیکیورٹی کے لئے کوئی ادائیگی نہیں کریں گے،امریکاسے فوجی سازوسامان مفت میں نہیں لیا،سب کی قیمت اداکی ہے۔انہوں نے کہا کہ سابق امریکی صدر باراک اوباما 8 سال تک اقتدار پر فائز رہے اور انہوں نے نہ صرف سعودی عرب بلکہ پورے مشرق وسطیٰ میں ہمارے ایجنڈے کے خلاف کام کیا، امریکا نے ہمارے ایجنڈے کے خلاف کام کیا اس کے باوجود ہم نے اپنے مفادات کا تحفظ کیا، نتیجتاً ہم کامیاب رہے اور امریکا ناکام ہوا، اس کی مثال مصر میں دیکھی جاسکتی ہے۔سعودی ولی عہد کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ کہنا کہ سعودی عرب کو درپیش خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت حاصل کرنے کیلئے 2000برس کے لگ بھگ لگیں گے‘‘ میرے خیال میں انکا یہ دعویٰ ٹھیک نہیں۔ محمد بن سلمان نے کہا کہ وہ صدر ٹرمپ کے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں،امریکہ کے ساتھ مل کر انتہا پسندی ، دہشتگردی اور انتہا پسندانہ نظریات کے خلاف جدوجہد کرکے ہم نے کافی کچھ حاصل کیا، عراق اور شام میں محدود مدت کے اندر داعش کی بیخ کنی کردی گئی۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کے بارے میں انہوں نے کہا کہ غلط فہمیاں ہر جگہ پیدا ہوتی ہیں، ایک گھر میں بھی خانگی امور پر تمام افراد کا 100 فی صد اتفاق نہیں ہوتا۔ دوستوں کے درمیان بھی اختلاف رائے ہوسکتا ہے۔ ماضی کی نسبت سعودی عرب اور امریکا کے باہمی تعلقات بہتر اور خوش گوار ہیں۔سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ 2030ءتک کوئی نئے ٹیکس نہیں ہوں گے، ہم نے ملکی معیشت اور صنعتی شعبے کو مستحکم کرلیا ہے، 2020پروگرام پر تمام تر توجہ مرکوز ہے جبکہ بہت جلد 2025پروگرام پر روشنی ڈالی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ  2015میں ہمیں بہت کچھ کرنا چاہئے تھا لیکن ہم مزید مواقع ضائع نہیں کرنا چاہتے تھے، اب ہمارے پروگرام میں استحکام آگیا ہے، ایک فیصد امکان ہے کہ اس پروگرام میں کوئی تبدیلی کی جائے۔ایک سوال کے جواب میں سعودی ولی عہد کا کہنا تھا کہ انسداد کرپشن مہم سے ملکی خزانے میں 35بلین ڈالر واپس آئے، کرپٹ عناصر سے 40فیصد نقدی اور60فیصد جائیداد کی صورت میں رقوم واپس لی گئیں،اس وقت اس کیس میں 8افراد ابھی تک زیر حراست ہیں، دو سال بعد یہ کیس ختم کردیا جائے گا۔

ایک اور سوال کے جواب میں سعودی  ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا  کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی استنبول میں سعودی قونصلیٹ میں نہیں،وہ سعودی شہری ہے اور ہم اس کے بارے میں فکر مند ہیں، ترکی حکومت کے ساتھ اس حوالے سے مذاکرات کر رہے ہیں تاکہ معلوم ہوسکے کہ آخر خاشقجی کے ساتھ استنبول میں کیا ہوا ہے؟ اس کے باوجود اگر ترکی حکومت اسے قونصلیٹ میں تلاش کرنا چاہتی ہے تو ہم انہیں اجازت دے دیں گے گوکہ قونصلیٹ کا احاطہ غیرملکی علاقہ تصور کیا جاتاہے،اگر ترکی انتظامیہ چاہے تو وہ ایسا بھی کرسکتی ہے،ہمارے پاس کوئی چیز ایسی نہیں جسے چھپا یا جائے۔ میری معلومات کی حد تک جمال خاشقجی استنبول میں سعودی قونصلیٹ میں آئے تھے اور کچھ وقت کے بعد باہر نکل گئے تھے۔ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ ریٹز کارلٹن کی گرفتاریوں سے غیرملکی سرمایہ کاری متاثر نہیں ہوئی،اس میں 40فیصد اضافہ ہوا ہے ، ریٹزکارلٹن کی گرفتاریوں سے غیرملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے،سعودی سٹاک مارکیٹ میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے کل حجم میں 40.4فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے،2018ءکے آخر تک اس میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

مزید : عرب دنیا