لاہور میں گاڑی سے جوڑے کی نیم برہنہ حالت میں برآمدگی، پارک کی گئی گاڑی میں کسی کی موجودگی کا شک کیسے ہوا اور دراصل وہ لڑکا اور لڑکی کون تھے? اندرونی کہانی سامنے آ گئی

لاہور میں گاڑی سے جوڑے کی نیم برہنہ حالت میں برآمدگی، پارک کی گئی گاڑی میں ...
لاہور میں گاڑی سے جوڑے کی نیم برہنہ حالت میں برآمدگی، پارک کی گئی گاڑی میں کسی کی موجودگی کا شک کیسے ہوا اور دراصل وہ لڑکا اور لڑکی کون تھے? اندرونی کہانی سامنے آ گئی

  

لاہور (ویب ڈیسک) صوبائی وزیر محمودالرشید کے بیٹے کیخلاف کیس کے حوالے سے پولیس کے ایک ذمہ دار ذرائع نے بتایا کہ جس وقت پولیس نے ویرانے میں کھڑی گاڑی کو مشکوک سمجھ کر چیک کیا جس کی پارکنگ لائٹ جل رہی تھی تو پولیس کو معلوم ہوا کہ کار میں کوئی موجود ہے لیکن پولیس کی جانب سے کار کو ’’ناک‘‘ کرنے کے باوجود کسی نے دروازہ نہیں کھولا جس پر پولیس نے اپنا روایتی طریقہ استعمال کیا اور جیسے ہی کار کا دروازہ کھولا پولیس اہلکار عثمان نے کار میں موجود لڑکا اور لڑکی کو باہر آنے کا کہاتاہم جب وہ باہر نہ آئے تو پولیس کو معلوم ہوا ہے کہ کار میں موجود لڑکا اور لڑکی نیم برہنہ ہیں جس پر پولیس نے ان کی نیم برہنہ حالت میں ویڈیو بنالی جس پر لڑکی نے لڑکے کوکہا کہ تم حسن کو فون کرو وہ اس وقت’’ ٹی پارٹی‘‘ میں موجود ہے۔جس پر صوبائی وزیر کے بیٹے کو اس کے دوست جس کا نام علی بتایا جاتا ہے، اس نے کال کی اور کہا کہ پولیس نے ان کی نازیبا ویڈیو بنالی ہے اس لئے وہ انہیں آکر بچائیں جس پر حسن اور اس کے دو دوست اپنی کاروں پر موقع پر پہنچے۔

روزنامہ جنگ کے مطابق یہ ایسی جگہ تھی جہاں سیف سٹی کے کیمرے نہیں تھے اور یہ کاریں اسی طرح کھڑی کی گئیں کہ ان کا نمبر ٹریس نہیں ہوسکتا تھا لہٰذا صوبائی وزیر کے بیٹے نے آتے ہی پولیس کے ساتھ مبینہ بدتمیزی کی اور اس کےدوستوں نے پولیس سے رائفلز، وائرلیس اور ان کے موبائل فونز چھین لئے۔ اس دوران صوبائی وزیر کے بیٹے کی کار میں ایک پولیس اہلکار عثمان سعید کو ڈال کر اسے مین بلیوارڈ کی طرف لے گئے اور وہاں اس کا اپنے موبائل سے اعترافی بیان ریکارڈ کیا اور انہیں چھوڑ دیا،جنگ کو باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اس لڑکی کا نام (س)سے شروع ہوتا ہے،تاہم جیسے ہی صوبائی وزیر نے پریس کانفرنس کی پولیس نے چپ کا روزہ رکھ لیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پریس کانفرنس کے بعد پولیس افسران کی جانب سے متعلقہ پولیس افسران اور پولیس اہلکاروں کو بتا دیا گیا کہ میڈیا کو کوئی بیان نہیں دینا، اس حوالے سے انچارج انوسٹی گیشن اسلم سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے جواب دینے کی بجائے کہا کہ میں بہت مصرو ف ہوں۔ اس حوالے سے کیس کے مدعی پولیس اہلکار ندیم اقبال سےرابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ ڈی آئی جی کو پیش ہونے لگے ہیں اس کے بعد بیان دیں گے۔ اس حوالے سے جب مبینہ اغوا ہونے والے پولیس اہلکار عثمان سعید سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ابھی وہ ایک میٹنگ میں مصروف ہیں بعد میں بات کریں گے، بعد ازاں انہوں نے اپنا فون بند کردیا۔ اس حوالے سے تفتیشی افسر اے ایس آئی سرور سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ تو اس کیس کی تفتیش کے بعد سے چھٹیوں پر ہیں۔ اس حوالے سے ایس ایس پی انوسٹی گیشن محمد اویس ملک سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ انہوں نے ابھی اس کیس پر تفتیش شروع نہیں کی تاہم جو بھی اس میں قصور وار ہوگا اس کو سخت سزا دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس دوہرا چارج ہے اس لئے وہ دوسری ذمہ داری پر مصروف رہے ہیں۔

مزید : قومی /سیاست /علاقائی /پنجاب /لاہور