بھارت کے نامور صحافی اور سابق سفیر کلدیپ نیر کی باقیات پاکستان پہنچا کر دریائے راوی میں بہادی گئیں مگر کیوں؟ ایسی وجہ سامنے آگئی کہ پاکستانیوں کےمنہ بھی کھلے کے کھلے رہ جائیں گے

بھارت کے نامور صحافی اور سابق سفیر کلدیپ نیر کی باقیات پاکستان پہنچا کر ...
بھارت کے نامور صحافی اور سابق سفیر کلدیپ نیر کی باقیات پاکستان پہنچا کر دریائے راوی میں بہادی گئیں مگر کیوں؟ ایسی وجہ سامنے آگئی کہ پاکستانیوں کےمنہ بھی کھلے کے کھلے رہ جائیں گے

  

لاہور(ویب ڈیسک)معروف بھارتی صحافی آنجہانی کلدیپ نائر کی لاش کی باقیات دریائے راوی میں بہا دی گئیں۔کلدیپ نائر کی پوتی مندرا نائر باقیات لے کر پاکستان پہنچی تھیں۔

23اگست 2018کو نئی دہلی میں انتقال کرجانے والے بھارتی صحافی کلدیپ نائر 1923میں سیالکوٹ میں پیدا ہوئے اور لاہور کے ایف سی کالج سے تعلیم حاصل کی۔تقسیم کے بعد کلدیپ نائر بھارت جانے کے بعد شعبہ صحافت سے منسلک ہوگئے اور مختلف ممالک میں بھار ت کے سفیر بھی رہے جبکہ 1997میں وہ بھارت کے ایوان بالا، راجیہ سبھا کے رکن بھی رہے۔کلدیپ نائر تمام عمر پاکستان اور بھارت کے درمیان بہتر اور اچھے تعلقات کے نہ صرف خواہش مند رہے بلکہ اپنی تحریروں کے ذریعے بھی وہ امن کی بات کرتے رہے۔

اپنے انتقال سے پہلے انہوں نے وصیت کی تھی کہ ان کی کچھ باقیات پاکستان میں دریائے راوی میں بہائی جائیں۔ ان کی پوتی مندرا نائر اپنے شوہر مکیش کے ساتھ پاکستان پہنچیں اور شاہدرہ کے مقام پر دریائے راوی میں اپنے دادا کی لاش کی باقیات بہائیں۔

مندرا نے بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان اچھے تعلقات کی خواہش کا اظہار کیا۔اِس موقع پر سول سوسائٹی کے مختلف نمائندے بھی موجود تھے جبکہ پی پی رہنما اعتزاز احسن نے خصوصی طور پر تقریب میں شرکت کی اور کلدیپ نائر کو صرف بھارت ہی نہیں بلکہ برصغیر کا شہری قرار دیا جو ہمیشہ عام آدمی کے مسائل پر دکھی رہے۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور