پاکستان کا سیاسی سرکس

پاکستان کا سیاسی سرکس
پاکستان کا سیاسی سرکس

  

پروفیسر یونس مسعود

پاکستان کے سیاسی سرکس میں حیران کن کرتب دکھانے کا عمل کافی عرصے سے جاری ہے جس میں انواع و اقسام کے شعبدہ باز اپنے اپنے کارنامے دکھا کر عوام الناس سے داد وصول کرتے آئے ہیں۔ جس کا شو جتنا بڑا اور انوکھا ہوتا ہے اس کے نعرے اسی قدر بلند لگائے جاتے ہیں۔حیران کن بات یہ ہے کہ نہ تو سیاسی مداری اپنے اپنے کرتب دکھا کر بیزار ہوئے ہیں اور نہ ہی پاکستانی عوام ایسے کرتب دیکھ کر۔شاید یہی وجہ ہے کہ یہ سلسلہ ایک طویل عرصے سے جاری ہے اور یقیناً اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ان دو میں سے کوئی ایک فریق اکتا نہیں جاتا، جس کے مستقبل قریب میں کوئی امکانات نظر نہیں آرہے کیونکہ "سرکس کی انتظامیہ" بھی اپنے شائقین اور شعبدہ بازوں کا بے حد خیال رکھتی ہے۔

سیاسی شو دو طرح کے ہوتے ہیں، ایک الیکشن سے پہلے دکھائے جاتے ہیں اور ایک وہ ہوتے ہیں جو حکومت میں آنے کے بعد ہوتے ہیں۔ ان دنوں کی اپنی اپنی اہمیت ہے۔ پہلے شو کا اصل مقصد کثیر تعداد میں ووٹ حاصل کرنا ہوتا ہے تو دوسرا شو حکومت کا پانچ سالہ دورانیہ مکمل کرنے کے لئے ہوتا ہے۔ ان دونوں میں ایک بات مشترک ہوتی ہے اور وہ یہ کہ دونوں کا مقصد عوام کی خدمت بتایا جاتا ہے۔ اب کیوں کہ الیکشن ہو چکے ہیں، نئی حکومت بن چکی ہے، اس لئے ہم دوسری قسم کے شو کا نظارہ کر رہے ہیں۔

عمران خان صاحب کی محیر العقول قیادت اس وقت وطنِ عزیز کا انتظام و انصرام سنبھالے ہوئے ہے۔ اپنی ابتدائی تقریر میں عمران خان صاحب نے جس قدر دعوے کیے تھے، عملی اقدامات کے نتیجے میں وہ کس قدر درست ثابت ہوئے ہیں یا ہو رہے ہیں، آج کل کئی دانشور اس پر اپنی قیمتی رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔ پاکستان تحریکِ انصاف کے حامیوں کو کئی مثبت تبدیلیاں نظر آرہی ہیں۔ ان کے نزدیک مہنگی گاڑیوں کی نیلامی، بھینسوں کی فروخت، پروٹوکول کے خاتمے، ہیلمٹ نہ پہننے اور ٹریفک کے دیگر اصولوں کی خلاف ورزی کی صورت میں ہونے والے چالان میں اضافے ، تجاوزات ہٹانے اور اقوامِ متحدہ میں شاہ محمود قریشی صاحب کی اردو زبان میں شاندار تقریر جیسے اقدامات حکومت کی کامیابی کی واضح دلیل ہیں۔

اس میں شک نہیں کہ یہ اقدامات یقیناً شاندار ہیں مگر ہمیں یہ بھی دیکھنا ہے کہ بجلی، گیس اور تیل کی قیمتوں میں اضافے، پانامہ لیکس کے مجرموں کی رہائی، سانحہ ماڈل ٹاون میں ملوث افسران کی اعلیٰ عہدوں پر تعیناتی جیسے امور حکومتی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ایک طرف گاڑیوں کی نیلامی کرکے بچت کی جاتی ہے تو دوسری طرف اراکینِ پارلیمنٹ کو مراعات کی مد میں ایک ارب مالیت کے سفری واؤچرز جاری کئے جاتے ہیں، جس کی روایت ہمیں دیگر جمہوری ملکوں میں نظر نہیں آتی۔ ایک طرف قانون کی حکمرانی کی بات کی جاتی ہے تو دوسری طرف بھری عدالت میں مظلوموں کو تھپڑ مارے جاتے ہیں اور کوئی نوٹس بھی نہیں لیا جاتا، مقتولین عدالتوں کے چکر لگاتے رہتے ہیں اور ظالموں کو استثنٰی دیا جاتا ہے، قومی خزانہ لوٹنے والوں سے پیسہ واپس نہیں لیا جاتا جبکہ غریب لوگ ڈیم فنڈ میں رقم جمع کراتے رہتے ہیں۔ بے شعور لوگوں کو ٹریفک قوانین کی اہمیت بتانے سے پہلے جرمانے کی رقوم بڑھا دی جاتی ہیں۔ پہلے گیس، بجلی اور تیل کی قیمتیں مہنگی کی جاتی ہیں اور بعد میں تجاوزات ہٹائی جاتی ہیں۔

حکومتی اقدامات کرنے سے قبل ترجیحات متعین کرنا بہت ضروری ہوتا ہے۔ اچھے کام بہت سے ہوتے ہیں، ہمیں پہلے یہ دیکھنا ہے کہ کون سا اچھا کام زیادہ ضروری ہے اور کون سے اچھے کام کو ملتوی کیا جا سکتا ہے۔ جس طرح پچھلی حکومت نے اربوں روپے خرچ کرکے میٹرو بس سروس شروع کر دی جبکہ صحت اور تعلیم جیسے شعبوں میں توجہ دینے کی ضرورت سفری سہولیات فراہم کرنے سے زیادہ تھی۔ اگر موجودہ حکومت بھی اپنی ترجیحات متعین کیے بغیر ہی اچھے کام شروع کر دے گی تو اس کے دور رس نتائج کبھی نہیں نکلیں گے، عوام تو خوش ہو جائے گی مگر خواص یہی سمجھیں گے کہ یہ اقدامات محض سیاسی شو کا ہی ایک حصہ ہیں۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں،ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ