لاہور کا عام شہری ’تبدیلی‘ کا نشانہ بن گیا، کروڑوں کا نقصان ہوگیا

لاہور کا عام شہری ’تبدیلی‘ کا نشانہ بن گیا، کروڑوں کا نقصان ہوگیا
لاہور کا عام شہری ’تبدیلی‘ کا نشانہ بن گیا، کروڑوں کا نقصان ہوگیا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور(ویب  ڈیسک) درآمد کی گئی چیزوں کی فروخت کیلئے معروف خان الیکٹرانکس مکمل طورپر تباہ ہوگئی اور اس کی وجہ کوئی حادثہ نہیں بلکہ تجاوزات کے خلاف انتظامیہ کے آپریشن کے دوران ایل ڈی اے اور دیگر اداروں کی غفلت تھی ، دکان کی دیواروں پر بل بورڈز لگے تھے جنہیں بجلی کی تاریں ہٹانے  اور بجلی بند کرانے کی زحمت کی بجائے کرین کیساتھ کھینچ دی گئیں ، تاروں کے ٹوٹنے کی وجہ سے شارٹ سرکٹ اور لگنے والی آگ  کے  نتیجے میں دکان مکمل طورپر جل کرخاکستر ہوگئی اور اس کے اندر پڑا کروڑوں روپے کا سامان جل کر خاکستر ہوگیا۔ سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ مالکان کو کسی بھی قسم کا نوٹس تک نہیں دیا گیا اوردکان کی دیوار کیساتھ لگے پانچ سے چھ انچ موٹے بل بورڈ ز کو اکھاڑنے کیلئے بھی کرین کا استعمال کیاگیا۔ 

ڈیلی پاکستان سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے مالکان کا کہنا تھاکہ ہم نے عمران خان کو ووٹ تبدیلی کیلئے دیا تھا اور یہ کیسی تبدیلی ہے کسی قسم کا نوٹس بھی نہیں دیاگیا اور جب آپریشن کیا گیا تو اندر کی  بجلی کی تاروں میں شارٹ سرکٹ ہوا اور  یہ ساری دکان تباہ و برباد ہوگئی۔ پختون بزرگ کا کہنا ہے کہ اچانک لوگ آئے ،کوئی اطلاع نہیں دی گئی۔ کرین آئی اور بورڈز اتارنے شروع کردیئے۔ جس کے نتیجے میں بجلی کی تاریں بھی بیچ میں کٹ رہی تھیں اور ہر طرف سے ناجائز نقصانات کر رہے تھے ۔ رات کو تقریباً مغرب کی اذان کی وقت ہم یہ سوچ کر  چلے گئے کہ سارا دن بجلی بھی نہیں آئی تو ہم نے دکان بند کردی۔ اس دوران اچانک بجلی آئی اورتاریں تو پہلی سے ہی کرین سے کٹی ہوئی تھیں جس کی وجہ سے شارٹ سرکٹ ہوا اور ہمارا سامان جل کر راکھ ہوگیا۔

دکان مالکان کے بیٹے کا کہنا تھا کہ ہم نے عمران خان کو ووٹ اس لیے دیا ہے کہ کوئی تبدیلی آئی ہے اور اس تبدیلی میں عوام کی آواز سنی جائے گی ، ہماری چیف جسٹس سے اپیل ہے کہ جو ہمارا نقصان ہوا ہے اس کو پورا کیا جائے اور جن لوگوں کی وجہ سے یہ نقصان ہوا ہے ان کو گرفتار کیا جائے۔ ان کے وکیل افتخار کا کہنا ہے کہ جنہوں نے یہ آپریشن کروایا ہے جن کے آرڈرز سے ہوا ہے ان کے ذمے یہ سارا نقصان ہے، ان کو چاہیے تھا کہ واپڈا کی ٹیم ساتھ ہوتی ، وہ آتے اور اپنی تاریں ریمووو کرتے اور جب انہوں نے بورڈ اتار لیے ہیں تو انہیں چاہیے کہ واپڈا والے اس کو کلیئر کردیں لیکن ہوا ایسے ہے کہ جب بجلی آئی ہے تو شارٹ سرکٹ کے ذریعے آگ پھیلی ہے اور ان بیچاروں کا  جو کہ بالکل لیگل کام کر رہے تھے ان کا ٹھیک ٹھاک نقصان ہوگیا۔ ایف آئی آر کیلئے انہوں نے درخواست دے دی ہے، ڈی جی ، چیف سیکریٹری اور لیسکو  کا عملہ اس میں شامل ہے۔

مزید : وڈیو گیلری