سعودی عرب میں موجود پاکستانیوں سمیت تارکین وطن کا صبر جواب دے گیا، گاڑیاں الٹ پلٹ دیں اور پھر۔۔۔ایسا کام ہوگیا جو شاید آج تک کسی نے نہ کیا ہوگا

سعودی عرب میں موجود پاکستانیوں سمیت تارکین وطن کا صبر جواب دے گیا، گاڑیاں ...
 سعودی عرب میں موجود پاکستانیوں سمیت تارکین وطن کا صبر جواب دے گیا، گاڑیاں الٹ پلٹ دیں اور پھر۔۔۔ایسا کام ہوگیا جو شاید آج تک کسی نے نہ کیا ہوگا

  

جدہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) خلیجی ممالک میں عمومی طورپر ملازمت پیشہ اور مزدور طبقہ ایشیائی باشندے محنت مزدوری کرنے جاتے ہیں لیکن وہاں پر موجود پاکستانیوں سمیت دیگر ممالک کے شہریوں پر پابندیاں لگاناشروع کررکھی ہیں جس کی وجہ سے اب بیشتر افراد اپنے آبائی وطن واپس لوٹ چکے ہیں اور جو تاحال بھی سعودی عرب میں موجود ہیں ، ان کیلئے زندگی گزارنا مشکل ہوچکا ہے کیونکہ 6,6ماہ سے تنخواہیں ہی نہیں ملیں، ایسے میں تارکین وطن کا صبر جواب دے گیا اور احتجاج کرتے ہوئے آرامکو کمپنی کے دفتر توڑ دیئے اور  گاڑیاں الٹ دیں جس کے بعد سعودی پولیس نے مشتعل مظاہرین کو روکنے کیلئے فائرنگ کردی۔

تفصیلات کے مطابق یہ صرف آرامکو نہیں بلکہ الخضری اور بن لادن کمپنی کے ملازمین کو بھی اسی صورتحال کا سامنا ہے، مظاہرین نے حکومت پاکستان سے بھی معاونت کرنے کی اپیل کردی۔آرامکو کمپنی کے ازمیل ملازمین نے چھ ماہ کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر دھہران پراجیکٹ کیمپ پر احتجاج کیا جس دوران آفس اور گاڑیوں کی توڑ پھوڑ کی، گاڑیاں الٹ دیں ۔

سعودی اور آرامکو پولیس موقع پر پہنچی لیکن صورتحال کنٹرول کرنے میں ناکام رہی بلکہ اہلکاروں کو اپنی جان کا خطرہ پڑگیا جس کے بعد اہلکاروں نے گاڑیاں بھگادیں اور ہجوم سے باہر نکل کر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں دو افراد کی ہلاکت کی غیر مصدقہ اطلاعات ہیں۔

ادھر جدہ میں بن لادم کمپنی کے ملازمین بھی سراپا احتجاج ہیں اور انہوں نے روزنامہ پاکستان کو بھیجے گئے پیغامات میں بتایاکہ ان کا سب سے بڑا مسئلہ مہینوں سے رکی ہوئی تنخواہ ہے ، کیمپ آفس میں کم از کم پندرہ سو سے دو ہزار ورکرموجود ہیں لیکن اب چند ہفتوں سے ہڑتال پر ہیں، کئی ملازمین کو چھ ماہ میں صرف ایک تنخواہ ہی مل سکی، ایک لوڈرگاڑی میں ملازمین کیلئے کیمپ آفس میں کھانا لایاجاتاہے اور واپسی پر اسی گاڑی میں کچرا بھر کر کیمپ آفس سے باہر پھینکا جاتاہے ، چھوٹی سی میس موجود ہے لیکن سہولیات دوہزار بندے کیلئے بہت کم ہیں۔

یہی نہیں بلکہ الخضری کمپنی میں بھی پاکستان ، انڈیا اور دیگر ممالک کے شہری پھنسے ہوئے ہیں، احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے ملازمین نے بتایاکہ کمپنی کے حالات خراب ہیں اور ڈیرہ سال سے تنخواہ نہیں ملی ، جن لوگوں نے اپنے استعفے دیئے وہ بھی تاحال پھنسے ہوئے ہیں، کھانا ملتاہے اور نہ ہی کمپنی حساب کتاب کررہی ہے ، یہاں اگر کوئی بیمار ہوتو کوئی پوچھتانہیں، کھانے کے لیے پیسے نہیں جبکہ بیشتر ورکرز اپنے موبائل فون تک بیچ چکے ہیں، کمپنی سے بات کریں توانتظامیہ کہتی ہے کہ جب پیسہ آئے گا تو حساب کرلیں گے اور یوں ہی ڈیڑھ سال بیت گیا۔

الخضری کے 91کیمپ میں موجود مظاہرین کاکہناتھاکہ پاکستانی سفارتخانے سے بھی معاونت کی اپیل کی تھی لیکن 6ماہ کا عرصہ بیت جانے کے باوجود آج تک کوئی جواب نہیں ملا، یہاں نہ تو کوئی دھرنا دے سکتاہے اور نہ کوئی شور شرابہ لیکن اس کے بغیر کام بھی اب ہوتا دکھائی نہیں دیتا، ایسے کام سے ہمارے ملک کی بھی بدنامی ہوگی ، ہم حکومتِ پاکستان سے درخواست گرتے ہیں کہ نئے وزیراعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے کہ ہماری مشکلات کو حل کیا جائے، کسی طرح ہمیں یہاں سے گھر بھجوادیں کیونکہ ویسے بھی گھر سے پیسہ منگوا کر روٹی کھارہے ہیں، والدین اور فیملیز ہمیں زندہ رکھنے کیلئے مقروض ہوچکے ہیں ۔ سب سے دردناک انکشاف یہ ہوا کہ اگر کوئی ورکر بیمارہوجائے تو اسے باہر ہی نہیں لے جاسکتے کیونکہ اقامہ ختم ہوچکے ہیں اور سعودی قانون کے مطابق اگر آپ اقامہ کے بغیر پکڑے جاتے ہیں تو جیل میں ڈال دیا جاتا ہے۔

مزید : عرب دنیا