لاہور میں پولیس والے کے موبائل سے انتہائی شرمناک ویڈیو برآمد، نوجوان لڑکے لڑکیوں کو روک کر کیا کرتے ہیں؟ دیکھ کر ہر شہری کا رنگ شرم سے لال ہوجائے

لاہور میں پولیس والے کے موبائل سے انتہائی شرمناک ویڈیو برآمد، نوجوان لڑکے ...
لاہور میں پولیس والے کے موبائل سے انتہائی شرمناک ویڈیو برآمد، نوجوان لڑکے لڑکیوں کو روک کر کیا کرتے ہیں؟ دیکھ کر ہر شہری کا رنگ شرم سے لال ہوجائے

  

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)ہماری پولیس کا حال کون نہیں جانتا؟ نئی حکومت آنے کے بعد بہت امید تھی کہ ان کا چال چلن بھی کچھ بدلے گے مگر فی الحال تو اس کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ جہاں پولیس اور بہت کچھ کرتی پھرتی ہے وہیں ایک سنگین مسئلہ شہریوں سے لوٹ مار بھی ہے۔ خاص طور پر اگر کوئی نوجوان جوڑا ان کے ہاتھ لگ جائے تو مالی نقصان کے ساتھ عزت بھی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔

چند روز قبل لاہور کے علاقے گلبرگ میں غالب مارکیٹ کے قریب ایک واقعہ پیش آیا۔ اب معلوم ہو رہا ہے کہ اس واقعے میں بھی پولیس اہلکاروں نے ایک جوڑے کو بلیک میل کرنے کی کوشش کی لیکن جب انہوں نے اپنے بااثر دوستوں کو بلا لیا تو معاملہ کچھ اور ہی رنگ اختیار کر گیا۔ بلیک میلنگ میں ملوث ایک کانسٹیبل کا موبائل فون بھی چھین لیا گیا، جس کی تلاش کے دوران پولیس کی غنڈہ گردی کے حیران کر دینے والے انکشافات سامنے آنے کا دعوٰی کیا جا رہا ہے۔

اخبار پاکستان ٹو ڈے کا کہنا ہے کہ لاہور پولیس کے بہت سے اہلکاروں نے نوجوان جوڑوں سے لوٹ مار کے لئے گینگ بنا رکھے ہیں۔ گلبرگ والے واقعے میں ملوث اہلکاروں میں سے ایک کے موبائل فون سے حاصل ہونے والی ویڈیوز سے پتہ چلا ہے کہ یہ اہلکار نوجوان جوڑوں کو روکتے ہیں اور پوچھ گچھ کے دوران ان کی ویڈیو بھی بناتے ہیں۔ اس کارروائی کے دوران انتہا درجے کی بدتمیزی اور بدسلوکی سے کام لیا جاتا ہے اور تشدد سے بھی گریز نہیں کیا جاتا۔ ویڈیو بنانے کے بعد یہ جوڑے کو دھمکی دیتے ہیں کہ میڈیا کو بلا لیا جائے گا اور ان کے گھروالوں کو بھی بلایا جائے گا، لیکن اس تمام کارروائی کا اصل مقصد زیادہ سے زیادہ رقم نکلوانا ہوتا ہے۔

یہ تمام معاملات اس وقت کھل کر سامنے آ گے جب لاہور میں غالب مارکیٹ پولیس سٹیشن کے کانسٹیبل ندیم اقبال نے ایک ایف آئی آر درج کروائی کہ اس نے اور اس کے ساتھیوں عثمان مشتاق اور عثمان سعید نے ایک جوڑے کو روکنے کی کوشش کی تو انہوں نے اپنے اثرو رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے درخواست گزار اور اس کے ساتھی اہلکاروں کو اغوا کروالیا ۔

دوسری جانب یہ بات سامنے آئی ہے کہ دراصل ان اہلکاروں نے ایل ڈی اے پارک غالب مارکیٹ کے قریب گاڑی میں موجود نوجوان لڑکی اور لڑکے کو ہراساں کر کے بھاری رقم نکلوانے کی کوشش کی۔ یہ نوجوان پنجاب کے وزیر برائے ہاﺅسنگ و اربن ڈویلپمنٹ میاں محمودالرشید کے صاحبزادے میاں حسن کا قریبی دوست بتایا جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق نوجوان نے اہلکاروں کو ویڈیو بنانے سے منع کیا لیکن جب وہ باز نہ آئے تو ہاتھ آپائی ہوئی اور اس دوران وہ ایک کانسٹیبل کا فون چھیننے میں کامیاب ہوگیا۔ اسی دوران لڑکی نے فون کر کے اپنی مدد کیلئے کچھ لوگوں کو بلایا جو اس جوڑے کو اہلکاروں کے چنگل سے چھڑوا کر لے گئے۔ بعد ازاں کانسٹیبل اقبال نے ایف آئی آر کٹوا دی ، جس کا مقصد اپنے غیر قانونی اقدامات کی پردہ پوشی کرنا بتایا جاتا ہے۔

دریں اثناءمیاں محمود الرشید نے اس الزام کی تردید کی ہے کہ اُن کے بیٹے نے کوئی غیر قانونی کام کیا۔ اُنہوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اگر اُن کے بیٹے پر الزامات ثابت ہوئے تو وہ وزارت سے استعفٰی دے دیں گے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /علاقائی /پنجاب /لاہور