پتھر کا ٹکڑا جسے آدمی 30 سال تک دروازے کوہوا کے ذریعے حرکت کرنے سے روکنے کے لیے استعمال کرتا رہا، لیکن دراصل یہ کروڑوں روپے کی کیا مہنگی ترین چیز تھی؟ ایسی حقیقت سامنے آگئی کہ کبھی سوچ بھی نہ سکتا تھا

پتھر کا ٹکڑا جسے آدمی 30 سال تک دروازے کوہوا کے ذریعے حرکت کرنے سے روکنے کے لیے ...
پتھر کا ٹکڑا جسے آدمی 30 سال تک دروازے کوہوا کے ذریعے حرکت کرنے سے روکنے کے لیے استعمال کرتا رہا، لیکن دراصل یہ کروڑوں روپے کی کیا مہنگی ترین چیز تھی؟ ایسی حقیقت سامنے آگئی کہ کبھی سوچ بھی نہ سکتا تھا

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی ریاست مشی گن میں ایک شخص کو پتھر کا ایک ٹکڑا تحفے میں ملا جسے وہ 30سال تک ’ڈور سٹاپ‘ (دروازے کو حرکت کرنے سے روکنے والا پتھر)کے طور پر استعمال کرتا رہا لیکن درحقیقت وہ ایسی مہنگی ترین چیز تھی کہ سن کر کوئی یقین ہی نہ کرے۔ میل آن لائن کے مطابق اس شخص کو یہ 1988ءمیں ایک کسان نے دیا تھا۔ کسان نے اسے بتایا تھا کہ 1930ءکی دہائی میں اس نے یہ پتھر رات کے وقت آسمان سے گرتے ہوئے دیکھا تھا۔ ایک دھماکے سے یہ پتھر زمین سے ٹکرایا اور کئی فٹ نیچے دھنس گیا۔ اس نے زمین کھود کر جب پتھر نکالا تو یہ ہنوز گرم تھا۔

کسان سے یہ پتھرلینے کے بعد وہ شخص اس کے کئی ادنیٰ قسم کے استعمالات کرتا رہا اور اب یہ کئی سالوں سے دروازے کی رکاوٹ کے طور پر استعمال ہو رہا تھا لیکن اب معلوم ہوا ہے کہ یہ پتھر 88فیصد خالص آئرن اور 12فیصد نِکل (Nickel)پر مشتمل ہے۔ یہ ایسی نایاب دھات ہے جو ہماری زمین پر کم ہی پائی جاتی ہے۔ جب ماہرین نے اس پتھر کا معائنہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ اس وقت اس کی قیمت 1لاکھ ڈالر (تقریباً 1کروڑ 23لاکھ روپے) سے زائد ہے۔

پتھر کا معائنہ کرنے والی ٹیم کی سربراہ اور سنٹرل مشی گن یونیورسٹی کی ماہر مونا سربیسکو کا کہنا تھا کہ ”پتھر کو دیکھتے ہی میں نے کہہ دیا تھا کہ یہ کوئی خاص چیز ہے۔ جب ہم نے اس کا تجزیہ کیا تو میری بات درست ثابت ہوئی، یہ شہاب ثاقب تھا جو کسی سیارے کے ٹوٹنے کے باعث زمین پر گرا تھا۔ زمین پر ملنے والے زیادہ تر شہاب ثاقب میں 90سے 95فیصد آئرن اور دیگر کئی اقسام کی دھاتیں ہوتی ہیں لیکن اس میں آئرن اور نِکل ہی موجود تھی۔ اس طرح کا شہاب ثاقب میں نے زندگی میں پہلے نہیں دیکھا۔اس پتھر کی ساخت ویسی ہی ہے جیسی نظام شمسی کے ابتدائی دور میں سیاروں کی ہوتی تھی۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس