پاکستان میں کلب کرکٹ کا ڈھانچہ مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرروت ہے ۔

پاکستان میں کلب کرکٹ کا ڈھانچہ مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرروت ہے ۔

  

چیئرمین لاہور چیلنج کپ کلب کرکٹ ٹورنامنٹ ملک سجاد اکبر کی کھری کھری باتیں 

ایک دور تھا کہ پاکستان میں کلب کرکٹ کا نظام انتہائی مضبوط تھا اور پاکستان کو کلب کرکٹ سے ہی سٹارکرکٹرزملا کرتے تھے جس کی مثال توصیف احمد ،وسیم اکرم ،انضمام الحق،عاقب جاوید،مشتاق احمد ،ندیم غوری ،عامر نذیر ،سعید انور سمیت کئی کرکٹرز کلب کرکٹ سے انڈر 19اور پھر پاکستان ٹیم میں آئے اورپھر دنیا میں اپنی صلاحیتوں کا لوہامنوایا ۔90کی دہائی کے اواخر تک پاکستان اور خاص طورپر کراچی اور لاہور میں کلب کرکٹ اپنے عروج پر تھی مگر پھربوڑڈ کی ناقص پالیسیوں اور ڈویژنل اور ریجنل عہدیداروں کی لاپرواہی کے نتیجے میںملک بھر میں کلب کرکٹ کا نظام متاثر ہوتے ہوتے بالکل خاتمے کے قریب پہنچ گیا ۔گذشتہ برس کے وسط میںملک میں نئی حکومت آنے کے بعد کرکٹ بورڈ میں ہونے والی تبدیلی کے نتیجے میںملک میں کرکٹ سٹرکچر کو تبدیل کرنے کی باتیں شروع ہوئیں ۔اور پھر پیٹرن انچیف وزیر اعظم عمرا ن خان کے احکامات کی روشنی میں پی سی بی کا آئین اور ڈومیسٹک کرکٹ سٹرکچرتبدیل ہوااور نئے ڈومیسٹک کرکٹ سٹرکچر کے تحت قائد اعظم ٹرافی پوری آب و تاب سے جاری ہے ۔نئے ڈومیسٹک کرکٹ سٹرکچر میں گراس روٹ لیول کرکٹ کی بہتری پر خصوصی توجہ دینے کی بات کی گئی ہے ۔پی سی بی کا نیا آئین اور نیا ڈومیسٹک کرکٹ سٹرکچر سامنے آنے کے بعد لاہور میں کلب کر کٹ کو فعال بنانے کے لئے گولڈن سٹار کرکٹ کلب نے اوٹی سی لاہور چیلنج کپ کرکٹ ٹورنامنٹ کروانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ٹورنامنٹ کے انعقاد کا مقصد کلب کرکٹ کوپروفیشنل انداز میں ڈھالنا ہے ٹورنامنٹ کے حوالے سے چیئرمین ٹورنامنٹ کمیٹی ملک سجاد اکبر کے ساتھ ایک خصوصی نشت کا اہتمام کیا گیا اس کا احوال اپنے قارئین کی نظر کرتے ہیں ۔کلب کرکٹ کی اہمیت کے حوالے سے چیئرمین اوٹی سی لاہور چیلنج کپ ملک سجاد اکبر کا کہنا تھا کہ ہمارا یہ ماننا ہے کہ کرکٹ سمیت تمام کھیلوں میں بین الاقوامی سطح پر کامیابیاں حاصل کرنے اور تسلسل کے ساتھ باصلاحیت کھلاڑیوں کی تلاش کے لئے گراس روٹ لیول جس میں کلب سپورٹس سب سے اہم ہے پر توجہ دینا ضروری ہے ۔اگر دیکھا جائے تو پاکستان خاص طور پر لاہور میںکلب کرکٹ انتہائی مضبوط تھی مگر پھر رفتہ رفتہ اپنوں کی عدم توجہی کے نتیجے میںکلب کرکٹ کا پوراسسٹم برباد ہو گیا۔ان کا کہنا تھا کہ ایک بات طے ہے کہ پاکستان کرکٹ کو اس کا حقیقی مقام دلانے کے لیے کلب کرکٹ کو بہتر بنائے بغیر کوئی چار ہ نہیں ہے ۔ملک سجاد اکبر کا کہنا تھا کہ ہم نے شہرکی کلب کرکٹ کو پروفیشنل بنیادوں پر استوار کرنے کے لئے اقدامات کا آغاز کردیا ہے اورلاہور چیلنج کپ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے اور ہماری کوشش ہو گی کہ ہم اس پلیٹ فارم سے نوجوان کھلاڑیوں کو خود کو منوانے کا بھرپور موقع دیں ۔ملک سجاد اکبر کا کہنا تھا کہ کوشش ہے کہ شہر میںکرکٹ کا معیار بہتربنانے پر توجہ دیں تاکہ نوجوان کھلاڑیوں کوآگے بڑھنے کے لئے ایک پلیٹ فارم ہوا۔انہوں نے کہا کہ لاہور چیلنج کپ میں شریک ٹیموں کو آٹھ گروپس میں تقسیم کیاجائے گااور ہر گروپ کی فاتح ٹیم لیگ مرحلے میںکوالیفائی کر ے گی ۔چیئرمین لاہور چیلنج کپ کا کہنا تھا کہ ٹورنامنٹ کو احسن انداز میں کروانے کے لئے تین مختلف کمیٹیا ں تشکیل دی جائیں گی اور ان کمیٹیوں میں پروفیشنل اور کرکٹ کی سمجھ بوجھ رکھنے والے لوگوں کو شامل کیا جائے گا ۔انہوں نے بتایا کہ لاہور چیلنج کپ میںنوجوان کھلاڑیوں کو بڑی کرکٹ سے ہم آہنگ ہونے کے لئے بہترین پلیٹ فارم مہیا کرنے کیا جائے گا اگر دیکھا جائے تو کرکٹ میں بال انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے اور ہم نے اسی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے پہلی مرتبہ کلب کرکٹ کی سطح پر گریس کے معیار کا بال استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اسی طرح ہم نے اپنے امپائرز پینل میں ملک کے ٹاپ امپائرز کو شامل کیا ہے تاکہ نوجوان کھلاڑیوں کو قواعد و ضوابط کے بارے میں آگاہی ہو سکے ۔اسی طرح ہم کوشش کریں گے کہ ٹورنامنٹ کے دوران تمام اینٹی کرپشن قوانین کی پابندی کو یقینی بنایا جائے اور کھلاڑیوں اور ٹیم آفیشلز پر مکمل نظر رکھی جائے ۔ملک سجاد اکبر نے بتایا کہ اس ٹورنامنٹ کے پلیٹ فارم سے ہماری کوشش ہو گی کہ لاہور کی کلب کرکٹ کو اس کا کھویا ہوا مقام واپس دلانے کے لئے تمام تر اقدامات اٹھائے جائیں انہوں نے کہا کہ جب تک ہمارا کلب کرکٹ کا نظام مضبوط نہیں ہو گا ہمیںاُس وقت تسلسل کے ساتھ باصلاحیت کھلاڑی نہیںملیں گے ۔٭٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -