دو سو ارب نہیں،صرف6ارب ڈالر باہر گئے

دو سو ارب نہیں،صرف6ارب ڈالر باہر گئے

ایف بی آر کے چیئرمین سید شبرّ زیدی نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ بیس سال میں 6ارب ڈالر پاکستان سے باہر منتقل ہوئے اور یہ رقم فارن کرنسی اکاؤنٹس کے ذریعے منتقل کی گئی،جنہیں فارن کرنسی ایکٹ1992ء کے تحت قانونی تحفظ حاصل ہے۔ یہ منی لانڈرنگ نہیں،اُن کا کہنا تھا کہ بیرونِ ملک بھیجا گیا، پیسہ واپس پاکستان نہیں لا سکتے،اس میں سے80فیصد پیسہ فارن کرنسی اکاؤنٹس کے ذریعے باہر گیا،جس میں ٹیکس چوری کا پیسہ بھی شامل ہے تاہم15سے20فیصد کرپشن کا پیسہ ایک مشکل طریق ِ کار کے تحت پاکستان واپس لایا جا سکتا ہے اس وقت بھی پاکستان سے سرمایہ باہر جا رہا ہے ہم اسے نہیں روک سکتے،یہ اُس وقت تک جاتا رہے گا جب تک ہم پاکستان کو سرمایہ کاروں کے لئے محفوظ ترین اور موزوں ترین ملک نہیں بنا لیتے۔اُن کا کہنا تھا کہ پاکستانیوں کے سو ارب ڈالر ملک سے باہر ہونے کا تاثر بالکل غلط ہے،ترقی یافتہ ممالک نے اپنے ہاں غریب ممالک سے لوٹی گئی دولت چھپانے اور اس سے فوائد حاصل کرنے کے لئے محفوظ ٹھکانے بنا رکھے ہیں اور یہی پیسہ ہمیں گرانٹس اور قرض کی صورت میں واپس ملتا ہے،انہوں نے ترقی یافتہ ممالک سے کہا کہ وہ ان محفوظ پناہ گاہوں (سیف ہیونز) کے دروازے بند کریں اور غریب ممالک سے دولت لے جانے والوں کی معلومات ان ممالک کو دیں تاکہ اُن سے پوچھ گچھ ہو سکے،انہوں نے یہ انکشافات اسلام آباد کے ایک سیمینار میں خطاب کرتے ہوئے کئے۔

ایف بی آر کے چیئرمین نے اُن نام نہاد دانشوروں کا بھانڈا بیچ چوراہے کے پھوڑ دیا ہے،جو تحریک انصاف کی حکومت بننے سے پہلے یہ دعوے کرتے نہیں تھکتے تھے کہ پاکستانیوں کے دو سو ارب ڈالر بیرونِ مُلک پڑے ہوئے ہیں یہ پاکستان کی دولت ہے، جو لوٹ کر بیرونِ ملک لے جائی گئی ہے یہ ہماری حکومت بننے کے پہلے ہی ہفتے کے اندر واپس لائی جائے گی،جس میں سے سو ارب ڈالر سے غیر ملکی قرض اتار دیا جائے گا اور باقی ماندہ ایک سو ارب ڈالر مُلک کی حالت سنوارنے پر خرچ کی جائے گی،لیکن جب ہفتے مہینوں میں بدلنے لگے اور باہر گئے ہوئے ”دو سو ارب ڈالر“ میں سے ایک سینٹ تک واپس نہ آیا تو ان بزرجمہروں نے دبے دبے لفظوں میں کہنا شروع کر دیا کہ جو رقم باہر گئی ہوئی ہے وہ واپس نہیں لائی جا سکتی۔ البتہ ایک صاحب نے باقاعدہ پریس کانفرنس کی کہ اسحاق ڈار(سابق وزیر خزانہ) کو گلے میں پٹہ ڈال کر چند دن کے اندر اندر واپس لایا جائے گا اور اُن سے ساری لوٹی گئی رقم واپس لی جائے گی یہ چند دن بھی پورے ہونے میں نہیں آرہے اور اب تازہ ترین فرمودہ یہ ہے کہ دو سو ارب،نہ سو ارب یہ تو صرف6ارب ڈالر تھے جو باہر گئے تھے اور یہ رقم بھی باقاعدہ بینکنگ چینل سے باہرگئی جن لوگوں نے غیر ملکی کرنسی میں اکاؤنٹ کھولے ہوئے ہیں وہ ان کے ذریعے رقم باہر بھیج سکتے ہیں اور ایسا کر کے وہ کسی قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب نہیں ہوئے،کیونکہ اُن کے اکاؤنٹس فارن کرنسی ایکٹ کے تحت تحفظ یافتہ ہیں۔اب بندہ پوچھے کہ اگر ایسا ہی ہے تو پھر یہ 200 ارب ڈالر کا شورو شغب کیا تھا؟ چیئرمین ایف بی آر نے تو یہ کہہ کر غبارے سے ہوا ہی نکال دی ہے کہ ”چُگّے وچّوں“ چھ ارب ڈالر باہر گئے ہیں وہ بھی لوگوں نے جائز بینکنگ ذرائع سے باہر بھیجے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ جنرل پرویز مشرف کے وہ وفاقی وزیر ٹھیک ہی کہتے تھے جنہیں چند دن کے لئے نیب نے(ڈرائی کلیننگ کے لئے) پکڑ کر چھوڑ دیا تو وزارت چل کر اُن کے گھر میں آ گئی،اُن سے پوچھا گیاکہ آپ کے بیرونِ ملک پیسے ہیں تو انہوں نے سینے پر ہاتھ رکھ کرکہا کہ ہاں میرے پیسے ہیں کسی کے باپ کے نہیں،مَیں اُنہیں جہاں چاہوں رکھوں، کسی کو کیا تکلیف ہے؟ انہوں نے مزید وضاحت کی کہ یہ میری رقم ہے اور مَیں نے بُرے دِنوں کے لئے سنبھال کر رکھی ہوئی ہے،اس بیان کے بعد وہ چونکہ وزیر بن گئے تھے،اِس لئے اُن کے فرمودے پر سرکاری صداقت کی مہر بھی ثبت ہو گئی اب تو جناب چیئرمین نے رقم بھی درست طور پر بتا دی ہے اور یہ بھی کہہ دیا ہے کہ باہر جانے والی یہ رقم واپس نہیں لائی جا سکتی،کیونکہ امیر ممالک نے اس رقم کے لئے محفوظ ٹھکانے بنائے ہوئے ہیں۔ انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ اسی رقم میں سے تھوڑی بہت رقم غریب ممالک کو بطور قرض یا گرانٹ دی جاتی ہے،گویا جناب چیئرمین کے بقول یہ ہماری ہی رقم ہوتی ہے جو ہمیں بطور قرض دی جاتی ہے اور پھر یہ قرض چڑھتا رہتا ہے اور پھر اتنا چڑھتا ہے کہ ہمیں یہ معلوم کرنے کے لئے بھی ایک کمیشن قائم کرنا پڑتا ہے کہ جو فرض لیا گیا تھا وہ کہاں کہاں خرچ ہوا،خرچ ہونے والے قرض کی کچھ رقوم تو نظر آتی ہیں اور کچھ نظر نہیں آتیں،شاید نظر آنے والی رقوم کو دیکھ کر ہی ہم نے کمیشن بنا دیا تھا جب ”غیر مرئی“ رقوم سامنے آئیں گی تو پھر کمیشن والے بھی شاید ویسے ہی کسی نتیجے پر پہنچیں جس پر اب تحریک انصاف کی تیرہ ماہ کی حکومت کے بعد سید شبرّ زیدی پہنچ چکے ہیں۔

دوسری بات انہوں نے یہ کی ہے کہ کرپشن کی رقم واپس لائی جا سکتی ہے،لیکن اس کا طریق ِ کار بھی مشکل اور طویل ہے،غالباً کسی سہل پسند کا خیال ہو گا کہ ملک کی دولت لوٹ کر جو لوگ باہر لے جاتے ہیں وہ کہیں درختوں وغیرہ پر ٹانگ دی جاتی ہے، جسے کوئی جب چاہے توڑ کر اپنے ملک واپس لے آئے،لیکن جناب چیئرمین نے ایسے لوگوں کی غلط فہمی بھی دور کر دی کہ کرپشن کی رقم بھی واپس نہیں آ سکتی اور اگر تھوڑی بہت واپس آ سکتی ہے تو اس کا طریق ِ کار بھی طویل اور صبر آزما ہے،بالفاظ دیگر ایسی رقم کی واپسی کا بھی کوئی امکان نہیں۔

لے دے کر جناب چیئرمین ایف بی آر یہ کر سکتے ہیں کہ سالِ رواں کے لئے ٹیکس ریونیو کے ہدف کے قریب پہنچ جائیں،ہدف کا حصول تو ممکن نہیں اور اس کا اندازہ پہلی سہ ماہی(جولائی تا ستمبر) میں ہی ہو گیا ہے ان تین ماہ میں ٹیکس ریونیو کا ہدف بھی حاصل نہیں ہو سکا،بلکہ اُلٹا کاروباری طبقہ نکو نک آ گیا ہے اور اس نے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے باقاعدہ رو کر اور ہاتھ جوڑ کر درخواست کی ہے کہ سمٹتے ہوئے کاروبار کی بہتری کے لئے کچھ کریں۔جناب آرمی چیف نے بات سن کر ان کاروباریوں کو وزیراعظم کے پاس بھیج دیا،جنہوں نے بعض کمیٹیاں بنا دی ہیں، دیکھیں یہ کیا رنگ جماتی ہیں،لیکن جس انداز میں کاروباری حضرات وقت لے کر جناب آرمی چیف کے پاس پہنچے اور اپنی بپتا سنائی اس سے اتنا تو واضح ہو گیا کہ کاروبار نہیں چل رہے اور حکومت ٹیکس ریونیو کا ”غیر حقیقی ہدف“ پورا کرنے نکلی ہے۔ اب اگر آرمی چیف کی کوششوں سے کاروبار چل نکلتا ہے تو کاروباری طبقہ انہیں سیلوٹ کرے گا، لیکن ناکامی کی صورت میں یہ لوگ کہاں جائیں گے۔ یہ وہی بہتر طور پر بتا سکتے ہیں۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...