آزادی مارچ اور بڑھک باز وزراء

آزادی مارچ اور بڑھک باز وزراء
آزادی مارچ اور بڑھک باز وزراء

  

وزراء میں سے ایک واحد شاہ محمود قریشی ہیں، جنہوں نے طریقے سلیقے سے مولانا فضل الرحمن کو قائل کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ 27 اکتوبر کو آزادی مارچ نہ کریں کیونکہ یہ کشمیریوں سے یکجہتی کا دن ہے۔ باقی وزراء اس طرح لنگر لنگوٹ کس کے میدان میں آ گئے ہیں، جیسے ایک بڑا دنگل ہونے والا ہو شیخ رشید احمد تو مولانا فضل الرحمن کے مارچ اور دھرنے کو ابھی تک ٹھٹھہ مخول سمجھ رہے ہیں مضحکہ اڑا رہے ہیں اور مولانا کے جن حامیوں نے اس مارچ اور دھرنے میں نہیں بھی جانا انہیں اکسا رہے ہیں کہ وہ اٹھ کھڑے ہوں۔ فیصل واوڈا جیسے وزیروں کے ہاتھ گویا ایک نیا شغل آ گیا ہے۔ وہ شاہ سے زیادہ شاہ کی وفاداری میں ہر سرحدپار کر رہے ہیں، اتنا بھی نہیں سوچتے کہ اس معاملے میں وزیراعظم عمران خان نے کیا ردعمل دیا ہے۔ انہوں نے کوئی بڑھک نہیں ماری، البتہ یہ ضرور کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن مدرسہ اصلاحات کی وجہ سے اضطراب میں ہیں اور ان سے برداشت نہیں ہو رہا کہ مدرسے جدید تعلیم سے بہرہ مند ہو کر ان کے ہاتھوں سے نکل جائیں اس طرح تو ان کی سیاست ختم ہو جائے گی۔ مگر وزراء کا رویہ تو ایسا ہے جیسے گلی محلے کے لوگوں کا ہوتا ہے کہ تو آ کے دیکھ، ہم نمٹ لیں گے۔

جن لوگوں کو سیاست کی الف بے بھی آتی ہے، وہ یہ جانتے ہیں کہ اپوزیشن میں جان اس وقت پڑتی ہے، جب حکومت کے ہاتھ پاؤں پھول جائیں اور وہ اپوزیشن کو آڑے ہاتھوں لینے کی دھمکیاں دے کیا کسی کو بھٹو کی وہ تقریر یاد نہیں جو انہوں نے اپوزیشن کے خلاف کی تھی اور اپنی کرسی کے بازو پر ہاتھ مار کے کہا تھا میری کرسی بہت مضبوط ہے میں انہیں دیکھ لوں گا۔ اس دھمکی کی گونج اپوزیشن کو نئی زندگی دے گئی اور بھٹو کے خلاف تحریک میں مزید شدت آ گئی تھی۔ اس وقت تو خاموشی ہی سب سے اچھا جواب ہے حکومت کے وزراء اگر صبح و شام یہی ورد کرتے رہیں گے کہ مولانا فضل الرحمن پندرہ لاکھ کیا پندرہ ہزار بندے بھی اسلام آباد نہیں لا سکتے، اور وزیر داخلہ یہ کہیں کہ ریڈ زون میں کسی چڑی کو بھی پر نہیں مارنے دیں گے، تو دراصل وہ مولانا فضل الرحمن کا کام آسان کر رہے ہوں گے۔

کوئی احمق بھی یہ نہیں سوچ سکتا کہ ان دھمکیوں اور بڑھکوں سے مولانا فضل الرحمن اپنا فیصلہ تبدیل کر دیں گے۔ یہ سب کچھ اتنا آسان ہوتا تو مولانا آزادی مارچ کا اعلان ہی نہ کرتے۔ انہوں نے تو اپنا پتہ پھینک دیا ہے، اب اگر حکومتی ترجمان اور وزراء صاحبان صبح شام اس پتے کے بارے میں لفظوں کی جگالی کرتے رہے تو 27 اکتوبر تک میدان پوری طرح گرم ہو جائے گا، حکومت نے اس معاملے سے نمٹنے کی جو بھی حکمت عملی بنانی ہے، وہ ایک خفیہ عمل ہونا چاہئے نہ کہ روزانہ کے حساب سے وزراء صورتِ حال کو مزید بھڑکانے والے بیانات دے کر خراب کریں اب وزراء کے بیانات کا ردعمل ہی ہے کہ اکرم درانی نے دھمکی دیدی ہے، ان کا یہ کہنا معمولی بات نہیں کہ جس ضلع میں آزادی مارچ کو روکا گیا وہیں شہر کو جام کر دیں گے۔ ہم دیکھ چکے ہیں کہ جب آسیہ کو رہا کیا گیا تھا تو خادم حسین رضوی کی کال پر ان کے کارکنوں نے پورا ملک جام کر دیا تھا۔ پورے ملک کو جام کرنا کون سا مشکل ہے، موٹر وے پر دھرنا، جی ٹی روڈ پر قبضہ اور ریلوے لائن پر پہرہ ملک کو جام کر دیتا ہے حکومت اس معاملے کو جتنا ہوا دے گی، اتنا ہی خسارے میں رہے گی۔

27 اکتوبر کو آزادی مارچ ہوتا ہے یا نہیں؟ ہوتا ہے تو کتنا کامیاب رہتا ہے؟ مولانا فضل الرحمن پہلے بھی ملین مارچ کرتے رہے ہیں مگر حکومت نے کبھی اس کا نوٹس نہیں لیا اور وہ خودبخود بے اثر ثابت ہوتا رہا۔ اب اگر حکومت نے اس آزادی مارچ کو اپنا روگ بنا لیا تو یہ ضرور کامیاب ہوگا۔ حکومت کی سختیاں اور حرکتیں ہی کسی تحریک کو کامیاب بناتی ہیں تحریک انصاف کو خود سوچنا چاہئے کہ اس نے 126 دن دھرنا دیا اسے کیا ملا؟ حکومت اگر اس کے ساتھ سختی برتتی، دھرنے کے شرکاء کو منتشر کرنے کے لئے ریاستی طاقت کا استعمال کرتی، تو شاید دھرنا کامیاب ہو جاتا، مگر نوازشریف نے بطور وزیر اعظم خود کو ٹھنڈا ٹھار رکھا۔

نتیجہ یہ نکلا کہ دھرنا کچھ لئے دیئے بغیر ختم ہو گیا۔ یہ اب بہت بڑاسبق ہے، جسے حکومت کو یاد رکھنا چاہئے۔ وزیروں اور مشیروں کو وزیر اعظم کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے الٹے سیدھے بیانات داغنے کی بجائے اپنی زبانیں بند رکھنی چاہئیں، ان کے بیانات سے یہ آزادی مارچ ٹلنے والا نہیں جیسا کہ جے یو آئی کے ترجمان نے کہا ہے، شیخ رشید احمد کی باتیں قابل توجہ نہیں، وہ ہر دور میں وفاداری تبدیل کر کے اپنا الو سیدھا کرتے رہے ہیں اب بھلا یہ بھی کوئی بات ہے کہ مولانا دھرنا ملتوی کر دیں، کیونکہ آج کل ڈینگی آیا ہوا ہے، مولوی کو لڑ نہ جائے، یعنی ایک ایسے معاملے کو جو حد درجہ سنجیدگی کا متقاضی ہے مذاق میں اڑایا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کا پتہ نہیں وزراء اور مشیروں پر حکم چلتا ہے یا نہیں، بہر حال انہیں سب کو منہ بند رکھنے کا حکم جاری کرنا چاہئے وگرنہ یہی وزراء اور مشیران کرام آزادی مارچ کے غبارے میں اتنی ہوا بھر دیں گے کہ پھر اس کا پھٹنا حکومت کے لئے ایٹم بم سے کم نہیں ہوگا۔

میں نے اپنی سیاسی شعور کی زندگی میں کبھی ایسا بیان نہیں سنا جیسا خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ محمود خان نے دیا۔ اس بندے کو اتنی بھی عقل نہیں کہ ایک ذمہ دار عہدے پر ہونے کی وجہ سے ان کی ہر بات بہت معانی رکھتی ہے۔ کیا وہ بادشاہ سلامت بن گئے ہیں کہ ایسا دعویٰ کریں کہ خیبرپختونخوا سے کسی ایک آدمی کو بھی اسلام آباد نہیں جانے دیں گے۔ کس قانون کے تحت وہ ایک صوبے کو دارالخلافہ سے کاٹ سکتے ہیں ان کے پاس کیا اتنی پولیس ہے کہ پورے صوبے کو جیل بنا سکے۔ پھر ایسی حرکت کے بعد حکومت کی جمہوری ساکھ کا کیا بنے گا؟ کیا یہ مولانا فضل الرحمن کی فتح نہیں ہو گی کہ جو بے چینی وہ نہیں پھیلانا چاہتے وہ پورے خیبرپختونخوا کے گلی محلے تک پھیل جاتے اپنی طرف سے وزیر اعلیٰ محمود خان نے شاہ سے زیادہ شاہ کی وفاداری کی آخری حد بھی پار کر دی، مگر ان کے صرف اس بیان سے جے یو آئی کے کارکنوں میں ان کے صوبے کے اندر کتنا جوش، کیسا اضطراب اور کتنا ولولہ اس آزادی مارچ کے لئے پیدا ہوا ہوگا، اس کا شاید انہیں علم نہیں اور 27 اکتوبر کو انہیں اندازہ ہوگا کہ جس پانی کو انہوں نے روکنے کا دعویٰ کیا تھا وہ تو صوبے کے ہر کوچے میں پھیل گیا ہے۔

جس طرح تحریک انصاف کی حکومت دیگر شعبوں میں نا تجربہ کاری کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہے، مجھے لگتا ہے اس طرح اپوزیشن اور اس کی تحریک کو ہینڈل کرنے میں بھی وہ اس نا تجربہ کاری کے باعث اپنے لئے شدید مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کا ایک بڑا امتحان آنے والا ہے، دیکھتے ہیں اس امتحان سے وہ کیسے نبرد آزما ہوتے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -