کہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا!

کہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا!
کہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا!

  

کہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا!اس میں کوئی شک نہیں کہ کرپشن ناسور ہے اور اس کا خاتمہ ملک کی بہتری کے لئے ضروری ہے۔ یہ عمل بڑا ہو یا چھوٹا دینی لحاظ سے بھی گناہ ہے اور ہر کسی کو اس سے بچنا چاہئے،جہاں تک ملک کا تعلق ہے تو اسے بڑی کرپشن سے نقصان پہنچتا ہے تاہم عوام کا روزمرہ تعلق، جس سے بنتا ہے وہ نچلی سطح کی کرپشن ہے، جو ہر محکمہ اور ہر شعبہ میں موجود ہے اور مشہور ہے کہ قائداعظم کے سوا کام نہیں ہوتا اور پہیہ لگائے بغیر فائل نہیں چلتی، سو اس پر کسی کو کوئی اختلاف نہیں اور عوام خاتمہ چاہتے ہیں،تاہم اس حوالے سے بھی ان کی خواہش ہے کہ حساب ہونا ہے تو اوپر سے نیچے تک سب کا ہونا چاہئے، خواہ اس کا تعلق کسی سے بھی ہو۔

اس سلسلے میں چونکہ وزیراعظم ”ریاست مدینہ“ کا ذکر کرتے ہیں تو پھر مدینہ والے(دورِ رسول اکرمؐ+ خلفائے راشدینؓ) تو پہلے اپنا اور اپنے بچوں کا احتساب کرتے اور خود کو پیش کرتے تھے،اس سلسلے میں بہت واقعات احادیث میں مروی ہیں اور یوں بھی رسالت مآبؐ کی تو پوری زندگی کھلی کتاب ہے۔آپؐ کی حیات طیبہ کا لمحہ لمحہ آشکار اور تحریروں میں موجود ہے اِس لئے کسی کو ابہام بھی نہیں،لہٰذا احتساب ہے تو پھر اس سے کوئی بھی مبرا نہیں۔

یہ تمہید اِس لئے ہے کہ حالیہ دِنوں میں وزیراعظم عمران خان اور ان کے بعد نیب کے چیئرمین جسٹس(ر) جاوید اقبال کی خواہش پر مبنی بیانات سامنے آئے،ان کا ذکر ضروری ہو گیا ہے جہاں تک عمران کا تعلق ہے تو وہ وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنے سے پہلے بھی یہ بات کرتے تھے۔البتہ جسٹس(ر) جاوید اقبال نے ”نیا پاکستان“ میں یہ سلسلہ شروع کیا اور اب تو وہ باقاعدہ خطاب بھی کرتے ہیں،عمران خان تو سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں ان کے کہے پر تو تنقید بھی ہوتی ہے۔ البتہ جسٹس(ر) جاوید اقبال نے بار بار خطاب کے بعد خود یہ راستہ کھول لیا ہے،کیونکہ وہ اگر خود تقریر کر کے اظہارِ خیال کریں گے تو ان کی بات کا جواب بھی آئے گا۔

اب یہ اتفاق کی بات ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے حالیہ دورہئ امریکہ برائے جنرل اسمبلی کے دوران جس خواہش کا اظہار کیا،اسی کے مطابق نیب چیئرمین نے بھی مطالبے جیسی بات کہہ دی ہے،وزیراعظم عمران خان نے امریکہ میں بھی کرپشن کے حوالے سے بات کی اور یہ کہا کہ ”میرے پاس چین جیسے اختیارات ہوتے تو کرپشن کو جڑ سے اکھاڑ دیتا“وزیراعظم کی یہ بات نوٹ کی گئی،اسی طرح اب تاجروں اور صنعتکاروں سے بات کرتے ہوئے نیب کے چیئرمین نے کہا ہے کہ ان کے پاس سعودیہ جیسے اختیارات ہوں تو وہ تین ہفتوں میں لوٹی ہوئی دولت واپس لا دیں،ولی عہد سعودیہ محمد بن سلمان نے تو چار ہفتے لگائے تھے۔

ہر دو محترم حضرات کی خواہشات سے یہی مترشح ہوتا ہے کہ وہ مزید اختیارات چاہتے ہیں،چین میں سنگل پارٹی حکومت ہے اور کوئی دوسری سیاسی جماعت بھی نہیں،وہاں کا نظام اپنا ہے،جس کی بنیاد بانی ماؤزے تنگ نے رکھی اور یہ سوشلزم پر ہے، چین میں احتساب کا عمل سخت ہے اور بقول راوی وہاں تو وزرا تک کو فائرنگ سکواڈ نے اڑا دیا تھا،(اس بارے میں اپنے ہاں کیا خیال ہے ایک سابق وزیر کا معاملہ تو بہت واضح ہے) تاہم خیال رہے کہ اتنی بڑی سزا خوامخواہ نہیں دی جاتی، پہلے جرم ثابت ہوتے دیکھا جاتا ہے۔ اسی طرح سعودی عرب میں تو بادشاہت ہے اور بادشاہ کی زبان سے نکلا لفظ ہی قانون ہے۔

وہاں جب تبدیلی کی ہوا چلی تو ولی عہد محمد بن سلمان نے جدید سعودی عرب کا بیڑہ اٹھایا اسی میں انہوں نے وہ بڑا قدم اٹھایا کہ شہزادوں،سابق ولی عہد سمیت اپنے رشتہ داروں سمیت بڑے لوگوں کو ایک فائیو سٹار ہوٹل خالی کراکے اس میں نظر بند کر دیا اور کرپشن کے الزامات کے حوالے سے کہا کہ رقوم دے جاؤ چلے جاؤ،چار ہفتوں کے دوران سبھی چلے گئے تھے کہ رقوم دی گئیں یہاں باقاعدہ سودا کاری ہوئی، اب ان حضرات کا کوئی نام بھی نہیں سنتا۔ وہ سب سعودی عرب ہی میں ہیں،ان کے لئے بیرون ملک جانے کے دروازے بند ہیں،اسی لئے بعض نقاد کہتے ہیں کہ یہاں معاملہ کی نوعیت کچھ اور بھی تھی کہ وہ متاثرہ حضرات چپ چاپ وقت گزار رہے ہیں۔

جہاں تک احتساب کے حوالے سے اختیارات کا تعلق ہے تو جنرل(ر)پرویز مشرف کے احتساب ایکٹ کی موجودگی میں بھی مزید اختیارات کی ضرورت ہے؟ نیب والے جسے چاہیں پکڑ لیں اور 90روز تک ریمانڈ حاصل کر کے تفتیش کرتے رہیں، کیا یہ اختیار ملکی قوانین کے مطابق ہے کہ ٹرائل کورٹ (احتساب عدالت) نیب کے ملزم کی ضمانت نہیں لے سکتی اور متاثرین اعلیٰ ترین عدلیہ تک جا کر ضمانت حاصل کرتے ہیں جیسے حال ہی میں متروکہ وقف املاک بورڈ کے سابق چیئرمین آصف ہاشمی کئی ماہ تک نیب حوالات اور جیل میں رہنے کے بعد ضمانتیں کروا کے رہا ہوئے ہیں، ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے ہونے والی ضمانتوں میں جو فیصلے دیئے گئے وہ پڑھنے سے تعلق رکھتے اور نیب کی تفتیش اور کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں،اس سلسلے میں چیئرمین نیب کا دعویٰ کہ اربوں روپے(غالباً71ارب) سرکاری خزانے میں جمع کرائے،اس رقم کا معتدبہ حصہ تو پلی بار گین سے حاصل ہوا،جہاں اربوں کی کرپشن والے ملزم چند کروڑ دے کر رہا ہو گئے۔اس سلسلے میں کہا جاتا ہے کہ نیب عام طور پر ”پلی بارگین“ میں دلچسپی رکھتا ہے اور خود سے ملزم کو پیشکش کرتا ہے کہ نہ صرف رقم ملتی،بلکہ کیس فارغ اور وصول شدہ رقم سے نیب کو کمیشن بھی ملتا ہے،(اگر ایسا نہیں تو وضاحت کریں)۔

ان حالات میں حزبِ اختلاف مسلسل الزام لگا رہی ہے کہ سب کچھ یکطرفہ ہو رہا ہے،جو شخص تحریک انصاف میں چلا جائے اسے کوئی نہیں پوچھتا اور اب تو ملک میں دلچسپ کارروائی ہوئی ہے،ہمارے معتبر و م مکرم صنعتکار اور تاجر حضرات احتساب سے مبرا قرار پائے۔چیف آف آرمی سٹاف سے ملے اور اس کے بعد وزیراعظم سے ملاقات کی، تو ان سے تعاون مانگا گیا اور یقین دلایا گیا کہ ان کو کوئی تنگ نہیں کرے گا اور ان کے فیصلے خود ان کی اپنی کمیٹی کرے گی،جو حکومت بنائے گی، اس کے بعد چیئرمین نیب خود چل کر گئے، اور ان حضرات کو نہ صرف یقین دلایا کہ نیب ان کو نہیں پوچھے گا،بلکہ یہ بھی کہا کہ وہ کاروبار کریں،نیب کا ان سے کوئی تعلق نہیں ہو گا، اب خود ہی سوچ لیں کہ خلق خدا کیا کہہ رہی اور سوچ رہی ہے کہ یہ تاجر اور صنعتکار حضرات ذخیرہ اندوزی، تجاوزات، ماحولیات کی خرابی، ٹیکس چوری اور محنت کشوں کا استحصال کرنے میں مشہور ہیں یہاں ان کو کھلی چھٹی مل گئی کہ ان کی وجہ سے معیشت کا پہیہ رکا ہوا ہے، اب معلوم نہیں،بلیک میلنگ کسے کہتے ہیں۔

بات ختم کرتے ہیں،جنرل(ر) پرویز مشرف نے احتساب آرڈیننس نافذ کرتے وقت وصولی ہی کا دعویٰ کیا اور نفاذ کے ساتھ ہی متعدد صنعتکار اور بڑے تاجر حراست میں لے لئے گئے۔ایک بڑے گروپ کے سربراہ شمالی چھاؤنی پولیس تھانے بلائے گئے،ان کو بتایا گیا کہ وہ مہمان ہیں، مطلوبہ رقم دیں اور چلے جائیں،وہ صاحب اسی تھانے کی ایک بنچ پر لیٹ گئے اور کہا مَیں آپ کے پاس ہوں، وصولی والے کو کہہ دیں۔میرے پاس کچھ نہیں جتنی دیر چاہیں رکھ لیں اور پھر وہی ہوا جو اب ہوا ہے کہ سب رہا ہوئے،کچھ حکومت کا حصہ بن گئے اور یوں معاشی پہیہ چل پڑا۔

مزید :

رائے -کالم -