گم شُدہ پہچان کا ٹونٹی ٹونٹی

گم شُدہ پہچان کا ٹونٹی ٹونٹی
گم شُدہ پہچان کا ٹونٹی ٹونٹی

  

کہانی کی ابتدا ایک سادہ سے واقعے سے ہوئی۔ پنجاب یونیورسٹی میں صبح کی کلاس ختم ہونے پر سوچا کہ کیوں نہ آج جلد فارغ ہونے کا فائدہ اٹھایا جائے۔ کار اسٹارٹ کرنے سے پہلے ڈاکٹر اسلم ڈوگر کو فون کیا اور جواب ملا کہ گھر پہ ہوں، آجائیں۔ سو، نہر والے گیٹ سے باہر نکلا اور جناح اسپتال کی نواحی جی او آر تک پہنچنے کے لیے اُس موڑ سے یو ٹرن لے لیا جسے نئے پاکستان میں نام کی تبدیلی کے باوجود مَیں ابھی تک ’وارث میر انڈرپاس‘ کہنے پہ مصر ہوں۔ ذرا سی پیش قدمی اور کی۔ پھر لیفٹ ٹرن اور کچھ فاصلے پر قدرے پیچیدہ ٹریفک لائٹ عبور کرتے ہی سروس لین کے راستے منزلِ مقصود کا رُخ۔ اسلم ڈوگر والی چھوٹی سڑک کی نشانی پتھر کا وہ پختہ بینچ ہے جو، ممتاز مفتی کے بقول، اللہ میاں سے لاڈ پیار کی باتیں کرنے والے محمد افضل نے راہگیروں کے سستانے کے لیے کئی سال پہلے تعمیر کرایا تھا۔ اگلا ہی گھر ڈوگر صاحب کا ہے۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ دائیں ہاتھ پھولوں کی کیاری سے بچ بچا کر ہمیشہ کی طرح گھر کے متوازی گاڑی گھڑی کرتا اور گھنٹی بجا دیتا۔ بس اتنی احتیاط ضروری تھی کہ کار سامنے والے گیٹ کے راستے میں حائل نہ ہونے پائے۔ دراصل ایک روز یہاں کار پارک کرنے کے عمل میں چوکیدار نے متعلقہ افسر کے محکمے کا اشارہ دے دیا تھا جو ذرا فوجداری قسم کا ہے۔ اتفاق دیکھیے کہ پچھلے ہفتے جس دن کی بات مَیں کر رہا ہوں، اُس صبح پہلے ہی سے دونوں طرف کاریں ذرا زیادہ تعداد میں کھڑی تھیں۔ تیزی سے سوچنے والے دماغ نے فیصلہ کیا کہ چند قدم پہ موڑ کاٹ کر ذیلی گلی میں مناسب سی جگہ تلاش کر لوں۔ چنانچہ یہی کیا اور بڑے آرام سے ایک گھنے درخت کے سائے تلے کار کھڑی کردی۔ عین اُس وقت ڈوگر صاحب کا فون آیا: ’سر، کِتھے او؟‘ ’ایک منٹ میں پہنچ رہا ہوں‘۔ یہ کہا اور پھاٹک عبور کر کے اندر۔

ملازم کا حلیہ جانا پہچانا سا لگا، ڈرائینگ روم کی ترتیب بھی معمول کے مطابق۔ بائیں جانب والے دو معززین البتہ کوئی نئے مہمان تھے اور دائیں ہاتھ ایک نیم شناسا چہرا جیسے درمیانی سطح سے ذرا اوپر کا کوئی عینک پوش افسر۔ قدرے ہچکچاہٹ سے کہا ’ڈاکٹر اسلم ڈوگر سے ملنا تھا؟‘ ’ملوا دیتے ہیں، آپ تشریف تو رکھیں‘۔ جواب افسر نما آدمی نے دیا اور ساتھ ہی پوچھنے لگے ’آ پ کا تعارف؟‘ ’مَیں نے نام بتا دیا۔ کہنے لگے ’آپ ڈوگر صاحب سے ملنے آئے ہیں تو اُن سے کوئی تعلق تو ہو گا۔ اِس لیے آپ کا تعارف پوچھا ہے‘۔ کہا ’عام شہری‘۔ مسکرا کر بولے ’وہ ڈائرکٹر جنرل ہیں، عام شہریوں سے تو ملتے ہی نہیں‘۔ مَیں نے بھی خوشدلی سے کہا ’مجھ سے مل لیتے ہیں‘۔ اب انہوں نے وضاحت کی کہ آپ غلط گھر میں آگئے ہیں۔ پھر نوکر کو بلایا اور ہدایت دی کہ انہیں ڈوگر صاحب کی طرف چھوڑ آؤ، یعنی ایک مکان چھوڑ کر اُس سے اگلا۔

عرض کر چکا ہوں کہ بات بالکل سادہ سی تھی مگر اِس سے ایک غیرمعمولی نکتہ بھی ہاتھ لگ گیا۔ یہی کہ کسی بھی شے کی زمانی یا مکانی ترتیب تھوڑی سی آگے پیچھے ہو جائے تو انسانی آنکھ ہمارے ہوش و حواس کے ساتھ ٹونٹی ٹونٹی کھیلنا شروع کر دیتی ہے۔ اسلم ڈوگر سے ذاتی دوستی کو اب چوتھائی صدی گزر چکی ہے۔ اِس دوران کتنی مرتبہ اُن کے گھر جانا ہوا اور کب کب موٹر پارک کی، اِس کا کوئی حساب ہی نہیں، نہ اِس کی ضرورت تھی۔ پھر بھی وہ جو ہمارے سینئر دوست اور صاحبِ طرز شاعر سجاد بابر کہہ گئے ہیں:

آنگن کا ایک پیڑ گرایا تھا، اس کے بعد

دیکھا تو سارا گھر ہی نیا گھر لگا مجھے

کسی اور کا گھر مجھے دوست کا گھر اِس لیے لگا کہ مَیں نے زندگی میں پہلی مرتبہ کار معمول کی پارکنگ سے ہٹ کر ایک ملحقہ اسٹریٹ میں چھوڑی تھی۔ یوں تو کسی بھی جی او آر کی ساری سڑکیں یکساں طور پہ محفوظ (یا غیر محفوظ) ہوا کرتی ہیں، مگر اُس دن میرا زاویہء نگاہ بدلا ہوا تھا کیونکہ گاڑی درخت کے نیچے چھوڑ کر مَیں مطلوبہ سڑک پر الٹی سمت سے داخل ہوا۔ مطلب یہ کہ عام دنوں میں کار سے اتر کر اِس مقام پر میرا رخ جنوب سے شمال کی طرف ہوتا ہے اور گھر فوری طور پہ دائیں ہاتھ۔ ابکے پیدل راستے پر شمال میری پشت پہ تھا اور منہ جنوب کی سمت، جس کے سبب گھر کا دروازہ بائیں ہاتھ آیا۔ یوں زاویے کی تبدیلی نے فاصلے کے بارے میں میرا معمول کا اندازہ بدل کر رکھ دیا۔ ایک خفیہ وجہ یہ کہ سرکاری کالونیوں کے بنگلے بظاہر ایک سے ہوتے ہیں اور دور سے نر مادہ کا پتا ہی نہیں چلتا۔

نر مادہ کے امتیاز کو محض ایک علامت سمجھیں تو اِس نوعیت کا ایک واقعہ میرے ساتھ پہلے بھی ہو چکا ہے اور وہ بھی اپنے ہی والدین کے گھر میں۔ ’پہلے‘ سے مراد ہے چالیس سال پیشتر کا زمانہ جب آرڈننس فیکٹری واہ کے ایک انتظامی افسر کی حیثیت سے والد مرحوم کی ریٹائرمنٹ میں ابھی چند برس باقی تھے۔ اُن کی رہائش کتنا عرصہ کچنار روڈ کے سات نمبر گھر میں رہی، اِس کا اندازہ یوں لگائیے کہ ہم میں سے چار بہن بھائیوں کی شادیاں ایک ایک کرکے اِسی گھر میں ہوئی تھیں۔ واہ کینٹ کی منصوبہ بندی برطانیہ میں اسلحہ ساز کارخانوں کے قیام کی نگرانی کرنے والے انگریز انجینئر، سر نیوٹن بُوتھ نے کی تھی اور شاید اسی لیے آمنے سامنے کے رہایشی بنگلوں کے نمبر طاق اور جفت کے برطانوی حساب سے لگائے گئے تھے۔ یوں سڑک کے ایک رخ پہ ایک کے بعد تین نمبر، پھر پانچ سات، نو، گیارہ، اسی ترتیب سے۔ سامنے کے رُخ پہ انہی کے بالمقابل دو، چار، چھ، آٹھ، دس، علی ھذ القیاس۔

بات تو یہ بھی کوئی خاص نہیں۔ پھر بھی پرانے واقعے اور تازہ ترین واردات میں آپ کمال کی مشابہت دیکھ سکتے ہیں۔ اُس وقت میری تعیناتی گورنمنٹ کالج لاہور میں تھی، لیکن مہینے میں ایک دو بار والدین کے پاس آنے کا موقع مل ہی جاتا۔ لاہور سے راولپنڈی تک ریل کار کا سفر ہوتا اور سیروز سنیما سے واہ کے لیے بس۔ ہمارے گھر سے پولیس اسٹیشن اسٹاپ نزدیک پڑتا تھا، مگر پرانی عادت کے مطابق، مَیں آگے جا کر بوائز اسکول پر اترا کرتا۔ یوں ڈیڑھ سو گز پیدل چل کر کچنار روڈ پر میرا داخلہ مغرب سے مشرق کی سمت ہوتا۔ ایک دفعہ پولیس اسٹیشن والے اسٹاپ پہ اتر گیا اور مشرق سے مغرب کی جانب ذرا زیادہ فاصلہ طے کر لیا۔ گیٹ پر تالہ لگانے کا رواج وہاں اب بھی نہیں۔ چنانچہ لان پار کر کے، برآمدہ عبور کیا اور کمرے میں داخل۔ دیکھا تو گیارہ نمبر والے مختار ندیم صاحب کرسی پہ بیٹھے قرآن پاک پڑھ رہے ہیں۔ پتا نہیں کیا سمجھے ہوں، لیکن ’چور، چور‘ کا شور مچاتے ہوئے میرے پیچھے ہر گز نہ بھاگے۔

فعل ماضی سے زمانہء حال کی طرف پلٹوں تو سچ مچ کے ٹونٹی ٹونٹی نے اب ایک نئی آزمائش سے دوچار کر دیا ہے۔ لاہور میں کرکٹ کے تماشائیوں کے لیے آنے جانے کا مفصل پلان موجود ہے اور روڈ میپ کی مکمل نشاندہی کر دی گئی ہے۔ لیکن تازہ اخبار یہ مژدہ بھی لے کر آئے ہیں کہ پاک سری لنکا سہ روزہ سیریز کے دوران قدافی اسٹیڈیم کو جانے والی پچیس چھوٹی اور بڑی سڑکیں کنٹینر اور بیریر لگا کر عام آمد و رفت کے لیے بند رہیں گی۔ اِن بڑی سڑکوں میں جیل روڈ، فیروز پور روڈ، نہر والی شاہراہ کے حساس حصے اور گلبرگ کا مین بلیوارڈ شامل ہیں۔یہی نہیں، اخباری اطلاعات کے مطابق، گرد و پیش کے رہائیشیوں سے تحریری ضمانت بھی حاصل کی گئی ہے کہ وہ اِن دنوں کسی اجنبی کو اپنے مکان میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ اگر داخل ہونے دیا گیا تو ظاہر ہے کہ صاحبِ خانہ کے ساتھ امکانی طور پہ وہی سلوک ہو سکتا ہے جو اڑھائی ماہ پہلے اسلام آباد میں کالم نگار عرفان صدیقی سے ہوا۔

سب جانتے ہیں کہ دس سال پہلے لاہور شہر میں سری لنکن ٹیم پر ہونے والے دہشت گرد حملے کو ہمارے پولیس افسروں نے جان پر کھیل کر ناکام بنایا تھا۔ اِس لیے ممکن ہی نہیں کہ اسٹیڈیم کے نواح میں بسنے والے امن پسند کسی ناواقف آدمی کو اپنے یہاں ٹھہرنے کی اجازت دیں۔ بعض دوستوں نے سوشل میڈیا پہ بھی خبردار کیا ہے کہ سکیورٹی اقدامات کے مخالفین طالبان کے ساتھی شمار ہوں گے۔ یہ سمجھ میں آنے والی باتیں ہیں۔ پھر بھی محلِ وقوع میں معمولی تبدیلی سے اپنا مشرق مغرب بھول جانے والا مجھ جیسا وہ عام شہری کیا کرے جس کا گھر دھرنا ٹائپ کنٹینر ز اور بدرنگ قناتوں سے سیل کی گئی سڑکوں کے سنگم پہ واقع ہے۔ پچھلے تین روز کا تجربہ گواہ ہے کہ میرے لیے گھر پہنچنے کی راہیں مسدود ہیں۔ صرف ایک خفیہ راستہ کھلا ہے اور وہ بھی نفسیاتی شفا خانہ کے گیٹ کو چھو کر گزرتا ہے۔ اگر یہ راستہ بند ہو گیا تو پھر ٹھکانہ گیٹ کے اندر سمجھیں جہاں خود سے یہی سوال ہوگا کہ ہمارا گھر سات کچنار روڈ ہے یا بنگلہ نمبر گیارہ۔

مزید :

رائے -کالم -