پارلیمنٹ، عدلیہ، میڈیا کی آزادی تک ملک ترقی نہیں کرسکتا، ایمل ولی خان

    پارلیمنٹ، عدلیہ، میڈیا کی آزادی تک ملک ترقی نہیں کرسکتا، ایمل ولی خان

  

بونیر(ڈسٹرکٹ رپورٹر)عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا کہ جب تک پارلیمنٹ۔عدلیہ اور میڈیا ازاد نہیں ہو گی۔ملک ترقی نہیں کرسکتا۔دفاعی اداروں کاکام ملکی معیشت ٹھیک کرنا نہیں بلکہ ملک کے سرحدات کی تحفظ کرناہوتاہے۔ہمارے وسائل کو ہمارے استعمال میں لانے کی راہ میں رکاوٹیں ہم حتم کرکے دم لیں گے۔صوبہ خیبر پختون خواہ قدرتی وسائل سے مالامال ضلع ہے۔مگر وفاقی حکومت صوبہ کو انکے جائزحقوق نہیں دے رہی ہے۔موجودہ حکومت میں صوبہ خیبر پختون خواہ دیوالیہ ہو چکاہے۔کرپشن عروج پر ہے۔پختون قوم کو متفق کرنے اور اپس کے اختلافات ختم کرنے کے لئے پورے صوبے کے دورے کررہاہوں۔ان خیالات کاا ظہار انہوں نے بٹاڑہ میں پاکستان عوامی پارٹی کے اہم رہنماء اور سیاسی شحصیت شیرزمان خان کی اے این پی میں شمولیت کے موقع پر ایک بڑے اجتماع سے خطاب کے دوران کیا۔اس موقع پر شیرزمان خان۔شیر محمد خان۔عبدالرحمان۔امیر محمد خان۔فیض محمد خان۔سید فرین خان۔عزیز محمد خان۔شہاب خان۔اعجاز احمد۔کامران خان۔عبدالوارث۔جبران خان۔عبیدالرحمان اور محمد شہزاد نے اپنے اپنے خاندانوں اورساتھیوں سمیت اے این پی میں شمولیت کااعلان کیا۔اہم شمولیتی تقریب سے اے این پی کے صوبائی جرنل سیکرٹری سردار خسین بابک۔ضلعی صدر محمد کریم بابک۔شجاعت علی خان اور امیر زمان خان نے بھی خطاب کئے۔صوبائی صدر نے کہا کہ ملک میں ایک سال کے دوران غریبوں کا جینا خرام ہو گیاہے۔ائے روز ٹیکسز کی وجہ سے عوام شدید پریشانی کے شکار ہے۔انہوں نے کہا کہ پورے ملک میں پختونوں کی نمایندہ جماعت اے این پی ہے۔جو پرفورم پر پختون قوم کی تحفظ کی بات کرتاہے۔ایمل ولی خان نے کہا کہ اگر اے این پی کے مرکزی صدر اسفندیار خان نے کالاباغ ڈیم کی حمایت اور 18 ویں ترمیم ختم کرنے کی خامی بھرلی تو اسی روز عمران خان کی جگہ اسفندیار ولی خان ملک کے وزیر اعظم ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ جب تک باچا خان باباکے گھر کا ایک فرد بھی زندہ ہو ہم پختونوں کے حقو ق پر کسی قسم کی سودے بازی نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا کہ میں نے پورے صوبہ کے دورے شروع کئے ہے۔تاکہ پارٹی سے ناراض کارکنوں کو مناکر واپس پارٹی میں شامل کروں اور میں اپنے مشن میں کافی حدتک کامیاب ہوگیاہوں۔پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان کو ایک بڑے جلوس کی شکل میں بٹاڑہ لایا گیا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -