وزیر اعظم عمران کے تاریخی خطاب سے اپوزیشن بوکھلاہٹ کا شکار‘ مولانا فضل الرحمن کا شو بھی فلاپ  ہو جائیگا‘ طاہر اقبال چوہدری کی صحافیوں سے گفتگو

وزیر اعظم عمران کے تاریخی خطاب سے اپوزیشن بوکھلاہٹ کا شکار‘ مولانا فضل ...

  

وہاڑی(بیورورپورٹ،نمائندہ خصوصی) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما رکن قومی اسمبلی طاہر اقبال چوہدری نے کہا ہے کہ احسن(بقیہ نمبر57صفحہ7پر)

 اقبال،طلال چوہدری،خرم دستگیر اینڈ کمپنی عمران خان حکومت کو گرانے پر جتنی مرضی جدوجہد کررہی ہے  اگر اس سے دسواں حصہ میاں برادرز  اینڈ سنز اور بلاول بھٹو نے اپنے والد محترم اور پھوپھو جان کو کرپشن بددیانتی سے روکتے تو آج یہ ملک  36ارب ڈالر کا مقروض نہ ہوتا پورا ملک صاف پانی کی بوند بوند کو نہ ترستا اداروں کو ذاتی غلام بنانے کی بجائے آذادانہ طور پر کام کرنے دیتے تو آج ہم غربت اور ترقی پذیر ممالک کی صف سے نکل کر ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ کھڑے ہوتے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ جتنا نقصان ان دو بڑی جماعتوں نے اس ملک کو پہنچایا ہے اتنا نقصان تو ملک دشمنوں اور دہشت گردوں نے بھی نہیں پہنچایا انہیں پتہ ہے کہ اگر وہ سڑکوں پر آنے کا اعلان کرتے ہیں تو عوام ہماری سابق کارکردگی کو دیکھتے ہوئے کبھی سڑکوں پر نہیں آئیں گے کیونکہ انہیں اپنا انجام نظر آرہا ہے مسلم لیگ ن اور پی پی پی کی قیادت چاہتی ہے کہ وہ اے سی کمروں میں آرام کریں اور مولانا فضل الرحمان اپنے طلباء کو سڑکوں پر لاکر ان کے اقتدار میں آنے کیلئے راستہ ہموار کریں جو شخص ماضی سے سبق حاصل نہیں کرتا وہ ہمیشہ نقصان اٹھاتا ہے انہیں 1967کا احتجاج ایوب خان کے خلاف نہیں رکھنا چاہئے جس کے نتیجہ میں مارشل لاء نازل ہوا، یحی خان نے اقتدار سنبھالا توملک دو لخت ہوگیا 1977کے احتجاج کے نتیجہ میں ضیاء الحق آگیا اور ملک گیارہ سال کیلئے مارشل لاء کی گود میں چلا گیاعمران خان کو عوام پانچ سال کیلئے اقتدار میں لے کر آئی ہے اور وہی ان کی حفاظت کریں گے انہیں یقین ہے کہ ملک میں موجود بحران ایک سال میں پیدا نہیں ہوا بلکہ یہ سب سابق حکمرانوں کا کیا دھرا ہے طاہر اقبال چوہدری نے کہا کہ اقوام متحدہ کے اجلاس میں عمرا ن خان کے تاریخی خطاب نے اپوزیشن کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے اس لئے کوئی ذی شعور اپوزیشن کے فلاپ ڈرامے کا کردار نہیں بنیں گے ان کے احتجاج کا حشر بھی وہی ہوگا جو سینٹ چیئرمین کے خلاف ان کے عدم اعتماد کا ہوا تھا۔

طاہر اقبال

مزید :

ملتان صفحہ آخر -