ملتان میں وکلا کنونشن‘ سکیورٹی کے سخت ترین  انتظامات‘ وکیلوں کی انتخابی مہم‘ خواتین کی بڑی  تعداد شریک‘ مختلف قرار دادیں بھی منظور

ملتان میں وکلا کنونشن‘ سکیورٹی کے سخت ترین  انتظامات‘ وکیلوں کی انتخابی ...

  

 جھلکیا ں (ضیاء خان سے)  آل پاکستان وکلا کنونشن گزشتہ روز ہائیکورٹ(بقیہ نمبر51صفحہ7پر)

 بار ہال میں منعقد ہوا۔ کنوینشن میں پاکستان بھر کے سینئر ترین وکلاء  نے شرکت کی، جبکہ جنوبی پنجاب کی تمام بارز سے بھی وکلاء نمائندگان شریک ہوئے کنونشن کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا،تلاوت کا شرف خاتون وکیل حافظ حفظہ رحمن نے حاصل کیا، ہدیہ نعت شہزاد بلوچ نے پیش کی،جبکہ کلام اقبال راؤ شکیب حیات نے پڑھا، کنونشن میں وکلاء کا جوش و خروش دیدنی تھا،  وکلا صبح 11 بجے سے شام 5 بجے تک مسلسل بار حال میں ہی موجود رہے۔ کنونشن کے دوران وکلا مسلسل پرجوش نعرے بازی کرتے رہے۔ کنونشن کے موقع پر سکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے تھے۔ پولیس کمانڈوز عمارت کے اردگرد مسلح گشت کرتے رہے۔ کنوینشن کے شرکاء  کے لیے ہائی کورٹ اور اردگرد بڑے بڑے خیرمقدمی بینرز آویزاں کیے گئے تھے۔ کنوینشن کی وجہ سے ایس پی چوک پر رکاوٹیں کھڑی کرکے سڑک کو بلاک کیا گیا تھا۔ کنونشن میں شریک وکلاء مسلسل اپنی انتخابی مہم بھی چلاتے رہے۔، کنونشن میں اسلام آباد سے آنے والے ایڈوکیٹ سلیم سورش نے بھی خطاب کیا اپنے خطاب کے آغاز میں انہوں نے کنونشن میں پڑھی گئی قرانی آیات کا ترجمہ و تشریح بھی کی اس آیت کے ترجمے میں جہاد کی تیاری سے متعلق بات کی گئی، کنونشن میں خواتین وکلاء کی بھی بڑی تعداد شریک تھی، جن میں بعض وکلاء خواتین اپنے بچوں کے ساتھ موجود رہیں، وکلاء کنونشن کے شرکاء  جو ایک روز قبل ملتان پہنچ گئے تھے کنونشن میں شرکت کے بعد گزشتہ روز اپنے اپنے شہروں میں واپس چلے گئے۔جبکہ آل پاکستان وکلاء کنونشن میں گزشتہ روز دس مختلف قراردوں کو منظور کیا گیا ہے، پہلی قرارداد میں کشمیر کے مسئلے پر اقوام متحدہ کو اپنا کردار ادا کرنے اور اسے قراردادوں کے مطابق حل کرنے کا مطالبہ کیا گیا، دوسری قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل میں ججز کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق ترمیم کو وکلاء  نے مسترد کیا، چوتھی قرارداد میں بار کو فنڈ کی بلا تعطل فراہمی کا مطالبہ کیا گیا،پانچویں قرار داد میں میڈیا پر پابندیوں کی مذمت کی گئی، چھٹی قرارداد میں اسلام آباد سے مغوی وکیل یافث نوید ہاشمی کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا گیا،ساتویں قرارداد میں جلالپور پیروالہ میں ججز کی جانب سے وکلاء  پر گن تاننے اور وکلا  کے ساتھ بدسلوکی پر فوری ججز کی برطرفی اور فوجداری مقدمہ درج کیے جانے کا مطالبہ کیا گیا، اٹھویں قرارداد میں چترال میں وکیل کے ساتھ ہونے والی بدسلوکی کی شدید مذمت کی گئی اور واقعہ کے ذمہ دار ڈی سی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا، نویں قرارداد میں غیر آئینی اقدامات کی بھرپور مذمت کی گئی،عدلیہ کی بحالی کے بعد عدلیہ کو آزادی کے لیے بھی وکلاء کا کردار ادا کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا، دس ویں قرارداد میں پشاور کے ڈاکٹروں پر پولیس کے بہیمانہ تشدد کی بھی مذمت کی گئی۔

قرار دادیں 

مزید :

ملتان صفحہ آخر -