پورا ملک میدان،اسلام آباد میں پہلا پڑاؤ ہوگا،پلان بی اور سی بھی موجود،جنگ اب حکومت کے خاتمے پر رکے گی:فضل الرحمٰن،مولانا نے ہمیشہ مفادات کی سیاست کی:وفاقی وزراء

پورا ملک میدان،اسلام آباد میں پہلا پڑاؤ ہوگا،پلان بی اور سی بھی موجود،جنگ ...

  

پشاور(آئی این پی) جمعیت علمائے اسلام  (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ہماری یہ جنگ حکومت کے خاتمے پر ہی ختم ہوگی، اس کا میدان پورا ملک ہوگا، اسلام آباد پہلا پڑا  وہوگا،، بی اور سی پلان کی طرف بھی جائیں گے، انسانی سیلاب سے حکمران تنکے کی طرح بہہ جائیں گے، حکومت اقتدار چھوڑ دے اور ملک میں  نئے الیکشن کرائے جائیں، جائز حکومت تشکیل دی جائے،گرفتاریوں کا کوئی ڈر نہیں، اس سے حالات مزید خراب ہوں گے، آصف زرداری ہمارے ساتھ ہیں، کہیں سے مایوسی نہیں، مدارس کا ایشو بڑھا کر حکومت عالمی سپورٹ لینا چاہتی ہے۔ ہفتہ کو یہاں پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ملک میں کاروبار نہیں ہو رہا ور پورا ملک جمود کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کی دھمکی پر آنا سفارتی ناکامی ہوتی ہے،ایٹمی جنگ یاد کر کے پاکستان کو عالمی کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان اندر کی بات خود جانتے ہیں کیونکہ انہوں نے بخوشی و رضا مندی سے کشمیر کو بیچا ہے جبکہ ملک اس وقت معاشی لحاظ سے ڈوب رہا ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم نے عام آدمی اور پاکستان کی آواز بننا ہے، ملک میں روزگار کے مواقع ختم کر دیئے گئے ہیں لہٰذا اب اس جعلی، خلائی اور ہوائی کشتی کے غرقاب کا وقت آ گیا ہے،27اکتوبر کو یوم سیاہ منانے میں کشمیر کے ساتھ یکجہتی مناتے ہوئے ہمارے آزادی مارچ کا آغاز ہو گا اور ملک کے ہر کونے سے قافلے اسلام آباد کی طرف روانہ ہو جائیں گے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم یہ واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ اب یہ جنگ حکومت کے خاتمے پر ہی ختم ہو گی اور ہماری جنگ کا میدان پورا ملک ہو گا، اسلام آباد ہمارا پہلا پڑاؤ ہو گا اور اس کے بعد ہم بی اور سی پلان کی طرف بھی جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکمت عملی جمود نہیں ہو گی حالات سے نمٹنے کیلئے حکمت عملی تبدیل کرتے رہیں گے لیکن پورا ملک سے عوام کا ایک سیلاب آرہا ہے جس میں جعلی حکمران تنکے کی طرح بہہ جائیں گے، اس وقت ملک میں کوئی حکومت موجود نہیں ہے، اب بھی کہتے ہیں کہ اقتدار کو چھوڑ کر از سر نو الیکشن کرائے جائیں اور عوام کو ان کا حق دیا جائے کہ وہ اپنے حقیقی ووٹ سے جائز حکومت تشکیل دے سکے، تمام شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگ اس وقت کرب میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک کروڑ نوجوانوں کو نوکریاں دینے کے بجائے 15 سے 20لاکھ نوجوانوں کو نوکریوں سے نکال دیا گیا ہے اور ان کی زندگی تاریک کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آصف زرداری ہمارے ساتھ ہیں، سب سیاسی جماعتوں سے رابطے ہیں، دوبارہ الیکشن کی رائے میں اتفاق رائے موجود ہے،جب انسان میدان میں اترتا ہے تو گرفتاری سے نہیں ڈرتا، گرفتاریوں سے استقلال بڑھے گا۔ ہمیں معلوم ہے کہ امریکہ میں کس سے ملاقاتیں ہوئیں، جبکہ ہم اداروں سے تصادم نہیں چاہتے ان کا احترام کرتے ہیں،حکومت نے مدارس میں طلباء میں انعامات تقسیم کر کے ہمیں کاؤنٹر کرنے کی کوشش کی جبکہ حکومت مدرسوں کا ایشو بڑھا کر بین الاقوامی سپورٹ چاہتی ہے لیکن حکومت کی مدارس کی حکمت عملی فیل ہو چکی ہے، مدارس اس کا اثر نہیں لے رہے ہیں۔

فضل الرحمان

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)  وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فوادچوہدری نے کہا  ہے کہ فضل الرحمان، تحریک لبیک وغیرہ کے لیڈر بچوں کو سیاست کیلئے استعمال کرتے ہیں، فضل الرحمان کی تحریک کے دو بڑے مقاصد ہیں، ایک تو اپنی ذاتی سیاسی حیثیت کی بحالی دوسرا مدرسہ اصلاحات کوروکنا۔تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فوادچوہدری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر مولانا فضل الرحمان کے احتجاجی مارچ کے حوالے سے کہا کہ مدارس کے بچوں کو چارے کے طور پر استعمال کرنے کی تاریخ بہت پرانی ہے، بچوں کو جہاد کے نام پر ملاں نے استعمال کیا پھر سیاست میں ان غریب بچوں کو قربانی کا بکرا بنایا گیا، فضل الرحمن، لبیک تحریک وغیرہ ایسی سیاسی جماعتیں ہیں جن کے لیڈر ان بچوں کو اپنی سیاست کیلئے استعمال کرتے ہیں۔انہوں نے کہا اب فضل الرحمن کی تحریک کے دو بڑے مقاصد ہیں ایک تو اپنی ذاتی سیاسی حیثیت کی بحالی دوسرا مدرسہ اصلاحات کو روکنا کیونکہ ایک دفعہ مدارس ہاتھ سے نکل گئے اور یہ بچے غلامی کی زندگی سے شعور کے نظام میں داخل ہوگئے تو ان کی دکانیں مستقل طور پر بند ہو جائینگی۔وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے کہا ہے کہ  مولانا  فضل الرحمن سیاسی اور دینی معاملات کو ٹکرانے جارے ہیں، وہ  وزیراعظم عمران خان کے خلاف جو افواہیں پھیلا رہے ہیں، وہ ان کے گلے پڑھ جائیں گی، دینی مدارس اسلام کے مینار ہیں لیکن فضل الرحمن سیاست اور دینی امور میں تصادم چاہتے ہیں،مولانا  کے آگے کھائی اور پیچھے کنواں ہے اس لیے جو فیصلہ کرنا ہے خود کریں، فضل الرحمن کی تحریک کا نقصان مقبوضہ کشمیر کے لیے جاری جدوجہد کو ہوگا، بھارت سرحد پر چھڑچھاڑ کرسکتا ہے، شہباز شریف  صاحب  وہ  دور وقت ختم ہوگیا جو سیاست آپ پہلے کرتے تھے،،،شہزادہ بلاول ٹھیک کہہ رہا ہے کہ دھرنے کے نتائج کیا نکلیں گے،  شہباز شریف ڈبل شاہ نہ بنیں نہ ہی ڈبل گیم کریں۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا کہ پاکستان واحد ملک ہے جہاں مسافر گاڑیوں سے 10ارب منافع کمایا گیا ہے جبکہ مسافروں کی سہولت کیلئے مزید اقدامات کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایم ایل ون منصوبہ بروکیج  ہے جبکہ ایم ایل ٹو کو گوادر کے ساتھ کیا جائے گا جس میں وسط ایشیاء اور کابل بھی شامل ہو گا وفاقی وزیر نے کہا کہ 15فریٹ ٹرینیں چلانے کا جو وعدہ کیا تھا وہ پورا کر دیا ہے اور اس کی قیمت بھی 80ہزار سے ایک لاکھ 60ہزار فی کوچ کر دی گئی ہے جبکہ اضا خیل سے جمرود تک ریلوے ٹریک لے جا رہے ہیں جس کے افتتاح کیلئے وزیراعظم عمران خان سے وقت مانگ لیا گیا ہے جبکہ جمرود ریلوے سٹیشن کو شایان شان بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ 15اکتوبر سے جناح ایکسپریس کے ساتھ 8فریٹ اکانومی کوچز لگانے جا رہے ہیں، ٹرین کو ہم ترقی کی طرف لے جانا چاہتے ہیں اور متوسط طبقے کیلئے آسان بنا رہے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ کشمیر جان سے عزیز ہے اور جو صورتحال بننے جا رہی ہے وہ نہایت ہی کشیدہ ہے جبکہ فضل الرحمان سے کہنا چاہتا ہوں کہ 27اکتوبر میں ابھی دو ہفتے پڑے ہیں کہیں کشمیر کے معاملے میں چھیڑ چھاڑ ہی شروع نہ ہو جائے اور سارا ملبہ آپ کے سر پڑ جائے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے اقوام متحدہ میں تمام باتیں کیں، وزیراعظم نے مولانا فضل الرحمان کے چاروں مطالبے جنرل اسمبلی میں پیش کئے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے پہلے بھی اپوزیشن کو رسوا کرایا، مولانا پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ کو استعمال کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ دینی مدارس اسلام کے قلعے ہیں اور جنرل اسمبلی میں خطاب کے بعد علماء کی بڑی تعداد وزیراعظم عمران خان کے ساتھ ہے، مولانا جو افواہیں پھیلا رہے ہیں وہ خود ان کے گلے پڑ جائیں گی جبکہ اگر وزیراعظم 6افراد کو رہا کر دیں تو ساری تحریک دھڑن تختہ ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان جلد چین کا اہم دورہ کررہے ہیں، ملکی ترقی اور استحکام کیلئے حکومت اور فوج ایک ہی صفحے پر ہیں، عمران خان نے ملکی معیشت میں استحکام کیلئے جرات مندانہ فیصلے کئے۔ انہوں نے کہا کہ جو افواہیں مولانا پھیلا رہے ہیں وہ ٹھیک نہیں، آگے کھائی اور پیچھے کنواں ہے، مولانا کے مارچ سے کشمیر کاز کونقصان ہو گا، حالات نارمل نہیں ہیں لیکن کشمیری جدوجہد کو آگے لے کر جائیں گے۔وزیر اعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ پاکستان کو معاشی مسائل ورثے میں ملے، عمران خان پاکستان معاشی حالات سے نکالنا چاہتے ہیں، فضل الرحمان نے ہمیشہ مفادات کی سیاست کی، دین کو ڈھال بنایا، جس پر وہ 22نمبر بنگلے سے دوری پر نڈھال ہیں، جیلوں میں بند قیادت مولانا کے کندھوں پر بندوقیں رکھ کر چلا رہی ہے۔  میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے  کہا کہ وزیراعظم کو ان کی سالگرہ پر مبارکباد دیتی ہوں، وزیراعظم نے جنرل اسمبلی میں دنیا کے سامنے پاکستان کا حقیقی چہرہ متعارف کرایا ہے، پاکستان کو معاشی مسائل ورثے میں ملے جبکہ معیشت کے محاذ پر پاکستان پر مثبت سمت میں آگے بڑھ رہا ہے، وزیراعظم پاکستان کو مسائل سے نکالنے میں مصروف عمل ہیں۔ معاون خصوصی نے کہا کہ  60 کی دہائی کے بعد پاکستان صنعتی شعبے میں آگے بڑھ رہا ہے اور پاکستان میں سیاحت کے بہت مواقع موجود ہیں، سرمایہ کاروں کے لئے ویزہ کا حصول  آسان کیا گیا ہے۔ حکومت نے کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنے کیلئے اقدامات کئے ہیں، وزیراعظم کے ویژن کے مطابق مدرسہ ریفارمز لائی جائیں گی اور مذہبی سیاحت کیلئے حکومت سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے، نیشنل ایکشن پلان کے تحت مدرسہ اصلاحات حکومت کے احسن اقدام ہیں،  فضل الرحمان نے ہمیشہ مفادات کی سیاست کی ہے اور دین کو ڈھال بنایا ہے، فضل الرحمان کو مولانانہیں کہوں گی کیوں کہ مولانا تو علم رکھنے والے شخص کو کہا جاتا ہے جبکہ فضل الرحمان صاحب کشمیری عوام کے زخموں پر مرہم رکھنے کی بجائے مفاد کی سیاست میں جڑے ہوئے ہیں اور 22نمبر بنگلے سے دوری پر فضل الرحمان نڈھال ہیں، فضل الرحمان نے مذہب کارڈ کو حکومتی بینچز تک پہنچنے کیلئے استعمال کیا، قوم مفاد پرست اور مذہب کا نام استعمال کرنے والوں کو پہچان چکی ہے جبکہ جیلوں میں بند قیادت فضل الرحمان کے کندوں پر اپنی بندوقیں رکھ کر چلا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا صاحب پاکستانی قوم آپ کی خواہشات کی بھینٹ نہیں چڑھے گی، ان کو اپنے عزائم میں ناکامی ہو گی حکومت مدت پوری کرے گی، 

وفاقی وزرا

مزید :

صفحہ اول -