ایل او سی عبو ر کرنے کیلئے ہزاروں کشمیری مظفر آباد گڑھی دوپٹہ میں جمع،بچے،بوڑھے،خواتین بھی شامل،کنٹرول لائن پار کرنا بھارت کے ہاتھوں کھیلنے کے مترادف:عمران خان

ایل او سی عبو ر کرنے کیلئے ہزاروں کشمیری مظفر آباد گڑھی دوپٹہ میں ...

  

مطفر آباد، سری نگر (مانیٹرنگ ڈیسک ،آئی این پی) جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کا ایل او سی چکوٹھی توڑنے کے لیے آنے والا قافلہ گڑھی ڈوپٹہ پہنچ گیا رات ڈگری کالج گراؤنڈ میں قیام کے بعد آج صبح نو بجے ایک بار پھر لائن آف کنٹرول چکوٹھی کی طرف مارچ شروع کرے گا۔تفصیلات کے مطابق جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ  کی اپیل پر  ہزاروں کشمیری گڑھی ڈوپٹہ پہنچ گئے رات ڈگری کالج گراؤنڈ میں قیام کے بعدآج اتوار کی صبح نو بجے لائن آف کنٹرول چکوٹھی کی طرف دوبارہ مارچ شروع کرے گا زونل صدر ڈاکٹر توقیر گیلانی نے گھڑی دوپٹہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لبریشن فرنٹ کے کارکن پرامن ہیں اور انھیں پرامن رہنے کی ہدایت کی گئی ہے ان شاء اللہ ہم اپنے جائز مقصد میں کامیاب ہوں گے ہمارا مقصد بھارتی مقبوضہ کشمیر میں جاری ظلم وستم کے خلاف آوازبلند کرنا ہیں اگر انتظامیہ اور پولیس نے ہمیں روکنے کی کوشش کی تو ہم اسی مقام پر دھرنا دیں گے حکومت اور انتظامیہ ہمارے پر امن مارچ میں رکاوٹ نہ ڈالیں ہمیں امید ہے کہ پولیس ایسا نہیں کرے گی آج صبح ہمارا مارچ شروع ہو گا گھڑی ڈوپٹہ،سراں،چھٹیاں،ہٹیاں بالا،چناری،چکوٹھی اور گردونواح کے عوام تیار رہیں ہم ان شاء اللہ آج اتوار کے روز چکوٹھی کے مقام سے لائن آف کنٹرول توڑ کر مقبوضہ کشمیر کے مظلوم بھائیوں کی مدد کے لیے پہنچیں گے۔اس سے قبل  جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف)کی کال پر چکوٹھی لائن آف کنٹرول عبور کرنے کے لئے ریاست بھر سے قافلے مظفرآباد پہنچے۔آزاد کشمیر سے آنے والے شرکا اپر اڈاہ میں جمع ہوگئے  جس کے بعد پیدل سیز فائر لائن کی جانب مارچ شروع کیا گیا۔ اس کا مقصد مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کے نفاذ اور انسانیت سوز مظالم پر عالمی دنیا کی توجہ مبذول کروانا ہے۔آزادی مارچ میں بزرگ، خواتین اور ہزاروں کی تعداد میں نوجوان شریک ہیں۔ مارچ کے شرکا کو لائن آف کنٹرول کی طرف بڑھنے سے روکنے کے لئے پاکستانی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حکمت عملی ترتیب دے دی ہے۔کمشنر مظفرآباد ڈویژن نے کہا ہے کہ مارچ کرنے والے شہریوں پر بھارتی فوج کی فائرنگ اور گولہ باری کا خدشہ ہے، جس سے شہریوں کو شدید جانی نقصان ہو سکتا ہے۔کمشنر مظفرآباد ڈویژن نے کہا کہ لائن آف کنٹرول کے نزدیک عوامی اجتماع قیمتی جانوں کے ضیاع کا موجب بن سکتا ہے، جلوس کے شرکا سے اپیل ہے کہ ایل او سی کے قریب اجتماع سے پرہیز کریں۔دوسری طرف مقبوضہ وادی کشمیر او ر جموں کے مسلم اکثریتی علاقوں میں پابندیوں اور ذرائع مواصلات کی معطلی کا  ہفتہ کو 62واں روز تھا اور کشمیری عوام بدستور مصائب و مشکلات سے دوچار ہیں۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مواصلاتی ذرائع کی بندش کیوجہ سے عام کشمیریوں خاص طور پر طلباء اور صحافیوں کا کام کاج بری طرح سے متاثر ہے۔ سڑکوں اور گلی کوچوں میں بڑی تعداد میں بھارتی فوجی اور پولیس اہلکار تعینات ہیں۔ دکانیں، بازار، کاروباری اور تعلیمی ادارے بند جبکہ سڑکوں پر ٹریفک کی آمد و رفت معطل ہے۔ لوگوں کو دودھ، بچوں کی غذااور زندگی بچانے والی ادویات کی قلت کا سخت سامنا ہے گزشتہ روز سرینگر، بڈگام، گاندر بل، اسلام آباد، پلوامہ، کولگام، شوپیاں،بانڈی پورہ، کپواڑہ اور دیگر علاقوں میں لوگوں نے پابندیوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے سڑکوں پر آکر زبردست مظاہرے کیے۔ انہوں نے آزادی کے حق میں اور بھارت کے خلاف فلک شگاف نعرے لگائے۔ بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں نے مختلف مقامات پر مظاہریں پر آنسو گیس کے گولے داغے اور پیلٹ چلائے جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ اننت ناگ میں دستی بم کے ایک حملے میں چار عام شہری زخمی ہو گئے ہیں۔۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق  پولیس نے بتایا کہ یہ واقعہ اننت ناگ میں پیش آیا۔ایک پولیس اہلکار نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا کہ یہ دھماکہ ایک سرکاری عمارت کے قریب ہوا اور زخمیوں میں ایک صحافی بھی شامل ہے۔ مقامی پولیس نے اس حملے کی ذمہ داری حریت پسندوں پر عائد کی ہے۔بھارتی تحقیقاتی ادارے ”انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ“ نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے غیر قانونی طور پر نظر بند سینر رہنما اور جموں وکشمیر ڈیمورکریٹک فریڈم پارٹی کے چیئرمین شبیر احمد کے گھر کو ضبط کر لیا ہے اور گھر میں مقیم انکی اہلیہ اور بیٹیوں کو گھرخالی کرنے کی ہدات کی ہے۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے شبیر احمد شاہ کی اہلیہ بلقیس شاہ اور انکی دو بیٹیوں سما شبیر اور سحر شبیر کے نام ستمبر کے آخری ہفتے میں نوٹس جاری کر دیا جس میں انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سرینگر کے علاقے راولپورہ میں قائم اپنے گھر کو دس روز کے اندر اندر خالی کر کے اسکا قبضہ ڈائریکٹوریٹ کے حوالے کریں۔

کشمیری جمع

 اسلام آباد (سٹاف رپورٹر،آئی این پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ غیر انسانی کرفیو پر آزاد کشمیر کے شہریوں کا غصہ سمجھتا ہوں، لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کا بہانہ بنا کر  بھارت ایل او سی کے پار حملہ کر سکتا ہے، ایل او سی پار کرنا بھارتی بیانیے کے ہاتھوں کھیلنے کے مترادف ہو گا۔  ہفتہ کو سماجی رابطے  کی ویب سائٹ  ٹوئٹر پر اپنے بیان میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں دو ماہ سے غیر انسانی کرفیو پر  آزاد کشمیر کے شہریوں کا غصہ سمجھتا ہوں۔انہوں نے اپنی ٹوئٹ میں مزید لکھا کہ کشمیری جدوجہد کی حمایت یا انسانی امداد دینے کے لیے ایل او سی پار کرنا بھارتی بیانیے کے ہاتھوں کھیلنے کے مترادف ہو گا، بھارتی بیانیہ کشمیریوں کی مقامی جدوجہد کو اسلامی دہشت گردی قرار دینے کی کوشش کرتا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ بھارتی بیانیہ یہ ہے کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر میں جدوجہد کی آڑ میں دہشت گردی کرا رہا ہے اور ایل اوسی کی خلاف ورزی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم بڑھانے کا بہانہ فراہم کرے گی۔عمران خان کا کہنا ہے کہ ایل اوسی کی خلاف ورزی کو بہانہ بنا کر بھارت ایل او سی کے پار حملہ کر سکتا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اساتذہ کامیابی و کامیابی کے حصول میں سیڑھی کا کردار ادا کرتے ہیں، انہوں نے اساتذہ کے عالمی دن کے موقع پر مستقبل کے معماروں کو خراج تحسین پیش کیا، اساتذہ کی قدر و منزلت کو یقینی بنانا نیا پاکستان کی ترجیحات میں شامل ہے۔ ہفتہ کو وزیراعظم عمران خان نے اساتذہ کے عالمی دن کے موقع پر پیغام دیا۔ وزیراعظم عمران خان نے قوم کے شاندار مستقبل کے معماروں کو خراج تحسین پیش کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ اساتذہ قوم کے محسن ہیں، اساتذہ کامیابی و کامرانی کے حصول میں سیڑھی کا کردار ادا کرتے ہیں،پیغمبری پیشے سے وابستہ ہونا بذات خود ایک بڑا اعزاز ہے، اس مقدس پیسے سے وابستہ تمام افراد کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، عالمی دن کے موقع پر وزیراعظم نے اپنے اساتذہ کو بھی خصوصی طور پر خراج تحسین پیش کیا۔

عمران خان

مزید :

صفحہ اول -