عمران خان کا دورہ چین،مقبوضہ جموں کشمیر کا معاملہ ایجنڈے میں سر فہرست ہوگا:غیر ملکی اخبارات

عمران خان کا دورہ چین،مقبوضہ جموں کشمیر کا معاملہ ایجنڈے میں سر فہرست ...

  

بیجنگ (آئی این پی)عمران خان کل چین کے سرکاری دورے پر بیجنگ پہنچیں گے،عالمی میڈیا میں عمران خان کے اس دورے کو زبردست اہمیت دی جا ررہی ہے کیونکہصدر شی چن پنگ سے ان کی ملاقات کے بعد چینی صدر بھارت کے دورے پر جائیں گے۔ ہانگ کانگ ڈیلی کے مطابق عمران خان کشمیر کیلئے عالمی سفارتی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور وہ اپنے چینی ساتھیوں پر بھی زور دے رہے ہیں کہ وہ بھارتی وزیر ا عظم نریندر مودی پر صورتحال تبدیل کرنے کے بارے میں زور دیں تاہم جب سے بھارت اور چین کے درمیان ڈوکلام کا فوجی تنازع ہوا ہے یہ توقع کرنا کہ چینی صدر بھارت پرایسا دباؤ ڈال سکیں گے،سفارتی طور پر شاید زیادہ ممکن نہ ہو،عمران خان کے دورہ کے بعد چین کے صدر 11اور13 اکتوبر کے درمیان بھارت کا دورہ کر سکتے ہیں اور اس کے بعد نیپال کا دورہ کریں گے۔ساؤتھ چائنہ مارننگ پوسٹ کے مطابق عمران خان کے دورے کو دونوں حکومتوں میں بڑھتی ہوئی دو طرفہ سٹریٹجک شراکت داری کے پس منظر میں اس کی بڑی اہمیت ہے،اس دورے میں چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت سماجی،اقتصادی شراکت داری کو مزید فروغ دینے پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ عمران خان چین کے دارالحکومت بیجنگ میں 8اکتوبر کو منعقد ہونے والے چین پاکستان بزنس فورم میں خطاب کریں گے جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تجارتی تبادلے اور تعاون کو مضبوط بناناہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق عمران خان صدر شی چن پنگ سے وسیع موضوعات خاص طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر کے حالیہ بحران پر بات چیت کریں گے تاہم ملاقات کا بڑا ایجنڈا سی پیک، بنیادی ڈھانچے اور ترقیاتی منصوبے، پاکستان میں خصوصی اقتصادی زون کا قیام رہے گا۔ساؤتھ چائنہ مارننگ پوسٹ نے اپنے مضمون میں لکھا ہے عمران خان نے جموں و کشمیر کے مسئلہ پر اقوام متحدہ میں کھل کر بات کی تھی جہاں نئی دہلی میں مقبوضہ کشمیر کے خصوصی حیثیت ختم کر دی ہے اور 2 ماہ سے لاک ڈاؤن کی صورتحال ہے۔جواہر لال نہرو یونیورسٹی نئی دہلی میں چینی مطالعہ کے اسسٹنٹ پروفیسر گیتا کوچھار نے کہا ہے کہ پاکستان کی طرف سے کشمیر کا مسئلہ اٹھانے کی کوششوں کے باوجود مودی اور شی چن پنگ کی ملاقات میں بھارت اور چین کے درمیان مسئلہ کشمیر کی بجائے سرمایہ کاری اور تجارتی تعلقات پر توجہ مرکوز رہے گی۔ 

غیر ملکی اخبارات

مزید :

صفحہ اول -