ایف بی ّآر نے رئیل سٹیٹ شعبہ کیلئے فکسڈ ٹیکس پلان تیار کر لیا،سمال ہاؤسنگ سکیموں کے لیے ٹیکس میں 90فیصد کمی

ایف بی ّآر نے رئیل سٹیٹ شعبہ کیلئے فکسڈ ٹیکس پلان تیار کر لیا،سمال ہاؤسنگ ...

  

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)حکومت نے رئیل اسٹیٹ شعبے کے ڈویلپرز اور بلڈرز کے لیے آسان اور سادہ فکس ٹیکس اسکیم تیار کر لی ہے۔ایف بی آر آئندہ ہفتے اس اسکیم کا باضابطہ طور پر اجراء کریگا،میڈیا رپورٹ کے مطابق بلڈرز اور ڈویلپرز کیلئے ملک بھر کی کمرشل عمارتوں کی تعمیر پر210 روپے فی مربع فٹ ٹیکس ریٹ لا گو ہوگا جب کہ رہائشی عمارتوں کے نرخ ہر شہر کے مطابق ہوں گے۔اسکیم سے استفادے کے لیے رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی ہے، کم لاگت ہاؤسنگ اسکیموں کے لیے ٹیکس میں 90 فیصد کمی کی جائے گی، اس اسکیم سے استفادہ کرنے والوں کے لیے ایک مرکزی دائرہ کار بنایا جائے گا اور ا یف بی آر ایک خود کار نظام کے ذریعے ڈویلپرز اور بلڈرز سے منسلک ہو گا۔گوشوارے کے فارم کو سادہ بنایا جائے گا، آمدن کا اندازہ پر وجیکٹ کے لحاظ سے تخمینہ لگایا جائے گا اور اس کے مطابق ٹیکس لاگو ہو گا، تنازعات کے حل کے لیے کمیٹی بنائی جائے گی جب کہ نیسپاک سے سرٹیفکیٹ لینا ہو گا اور پروجیکٹ کے کورڈ ایریا اور تعمیر کی وضاحت دینا ہوگی، کوئی بھی پراجیکٹ جو 5000 مربع فٹ سے کم ہو گا اس کو اس طرح کی منظوری کی ضرورت نہیں ہو گی۔بلڈرز و ڈویلپرزا سپیشل پروسیجر رولز 2019 کے مسودے کے مطابق بلڈرز اور ڈویلپرز کو انکم ٹیکس اور گوشوارے ان رولز کے مطابق جمع کرانا ہوں گے، ان کا اطلاق ملک بھر کے انفرادی بلڈرز و ڈویلپرز، ایسوسی ایشن آف پرسنز اور رئیل اسٹیٹ کمپنیوں کے لیے ہو گا، رولز کے تحت کسی بھی پروجیکٹ کی مدت زیادہ سے زیادہ تین سال ہوگی، تین سال سے زائد مدت کے پروجیکٹ کے لیے ایف بی آر سے منظوری لینا ہوگی۔اس اسکیم سے استفادہ کرنے والے افراد ودہولڈنگ ٹیکس کے ایڈجسٹمنٹ کلیمز داخل نہیں کر سکیں گے، رپورٹ کے مطابق اس اسکیم کے تحت تمام افراد اپنی رجسٹریشن ایف بی آر کی ویب سائٹ کے ذریعے  کرائیں گے۔ایف بی آر تین لاکھ 50 ہزار انڈسٹریل اور کمرشل صارفین کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کوشاں ہے۔

ٹیکس ریٹ

مزید :

صفحہ آخر -