رینجرز کے اختیارات میں کمی نہیں   آئی، آپریشن کر سکتے ہیں، سعید غنی

  رینجرز کے اختیارات میں کمی نہیں   آئی، آپریشن کر سکتے ہیں، سعید غنی

  

کراچی (این این آئی)سندھ کے وزیر اطلاعات و محنت سعید غنی نے کہا ہے کہ رینجرز کے اختیار میں کوئی کمی نہیں آئی ہے ان کے پاس آپریشن کے اختیارات آج بھی موجود ہیں اور وہ قانون کے مطابق کام کررہے ہیں۔انہوں نے یہ بات ہفتہ کو سندھ اسمبلی کے اجلاس کے دوران پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی ارسلان تاج کے ایک نکتہ اعتراض کا جواب دیتے ہوئے بتائی۔ ارسلان تاج نے اپنے ایک نکتہ اعتراض پرگلشن میں فائرنگ سے جاں بحق ہونے والی طالبہ مصباح کا معاملہ اٹھایا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ مصباح اطہر کو ان کے والد کے سامنے نامعلوم افراد نے گولی مار کر شہید کردیا،گلشن اقبال اور اطراف میں جرائم کی وارداتیں بڑھ چکی ہیں۔انہوں نے کہا کہ حال ہی میں اپوزیشن لیڈر کے کوآرڈینٹر کو بھی اغوا کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ارسلان تاج کا کہنا تھا کہ علاقے میں کوئی سی سی ٹی وی یا فاریننزک لیب موجود نہیں،اس لیے ملزمان کی کوئی شناخت نہیں ہوسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ میرے حلقے میں ایک سال کے اندر چار ایس ایچ اوز تبدیل کیے گئے ہیں،یہ معاملات ایس ایچ اوز کو تبدیل کرنے سے حل نہیں ہوں گے۔تحقیقات میں جدید سہولیات نہیں ہونے کی وجہ سے ملزمان آزاد ہوجاتے ہیں،رینجرز کی موجودگی سے جرائم پیشہ افراد خوف میں مبتلا تھے،سعید غنی نے کہا کہ طالبہ کی ہلاکت افسوسناک واقعہ ہے اور اس پر کوئی اختلاف نہیں ہے۔جس پر اسپیکر آغا سراج درانی نے لقمہ دیا کہ صرف افسوس اور افسوس اس کے علاوہ؟وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہم سی سی ٹی وی اور سویلینس خمیرے سیف سٹی پر بڑی تیزی سے کام کررہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم ان معاملات میں نہیں جانا چاہتے جو رکاوٹیں ہیں مگر امن امان کے مسائل اور ایسے واقعات ہوتے ہیں،اس واقعہ کی انکوائری کررہے ہیں۔پی ٹی آئی کے اقلیتی رکن سنجے گنگوانی نے جیکب آباد میں بلڈ بینک بند کرنے اور عملے کو سکھر رپورٹ کرنے پراپنے ایک نکتہ اعتراض پر کہا کہ جیکب آباد میں حسینی کے نام سے تھیلیسیمیا سینٹر ایک ماہ سے بند پڑا ہے اسے کھلوانے کے لئے اقدامات کئے جائیں۔وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے کہا کہ سکھر میں اسٹیٹ آف آرٹ مشنری لگائی ہے،ہمارے تھلیسیمیا سنٹر جو چل رہے ہیں ان کو وہاں جائزے کے لیئے بھیجا ہے۔انہوں نے کہا کہ نجی ٹیسٹ کمپنی نے حکومتی ہدایات پر عمل نہیں کیا اس لئے اس کی منتقلی کا فیصلہ کیا گیا۔وزیر صحت کا کہنا تھا کہ ہم نے ان کو پابند کیا تو انہوں نے ایک ایسا ماحول پیدا کیا کہ پانچ سو تھلیسیمیا کے مریض دربدر ہو جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم اس طرح کی غیر قانونی اور بلا اجازت پریکٹس کی اجازت نہیں دے سکتے،اگر نجی ادارہ اپنا کام بند کرے گا تو ہم وہاں ایک اپنا تھلیسیمیا سنٹر کھول لیں گے۔ پیپلز پارٹی کے رکن میر نادر مگسی نے بھی اپنے علاقے میں ہیپاٹائٹس کے مرض میں اضافے کی جانب توجہ دلائی اور اس کی روک تھام کے لئے مناسب اقدامات کا مطالبہ کیا۔وزیر صحت نے ادویات کی عدم موجودگی کا اعتراف کرتے ہوئے کہاہم کوشش کررہے ہیں جلد سے جلد ادویات مہیا کریں۔جی ڈی اے کے رکن اسمبلی حسنین مرزا نے اپنے ایک نکتہ اعتراض پر بدین میں آر او پلانٹس کی بند ش کا معاملہ اٹھایا تاہم انہوں نے صوبائی وزیر کی اس بات پر تعریف بھی کہی کہ انہوں نے متاثرہ علاقے کا دورہ کرکے صورتحال کا جائزہ لیا۔جس پر اسپیکر آغا سراج درانی نے کہا کہ اس بات پر متعلقہ وزیر سے کہا کہ مرزا صاحب آپ کی تعریف کررہے ہیں۔بعدازاں اسپیکر نے اجلاس پیر دو بجے تک ملتوی کردیا۔

سعید غنی

مزید :

صفحہ آخر -