کوئی کام کرنے کو تیار نہیں،قوم کے دماغ جیلوں میں قید ہیں، سعد رفیق

کوئی کام کرنے کو تیار نہیں،قوم کے دماغ جیلوں میں قید ہیں، سعد رفیق

  

لاہور(این این آئی) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ کاش ضمنی انتخاب نہ جیتتا تو کم از کم گھر میں تو ہوتا،میرے خاندان کو ملک کی سیاست میں 70 سال ہوچکے ہیں،میرے والد بھی سیاست میں تھے میری والدہ بھی سیاسی قتل ہو ئیں،ہمارے دور میں کبھی جسمانی تشدد نہیں کیا گیا، حکومت جو کر رہی ہے وہ ٹھیک نہیں ہے۔ احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم ہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے تحریک کے ذریعے عدلیہ بحال کروائی،عدالت کی آزادی کے لیے جو لڑتے ہیں ان کیساتھ بد سلوکی ہورہی ہے تو انصاف کون دے گا۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے ریلوے کا کباڑہ کردیا،میرے بھائی نے محکمہ صحت کو ساڑے چھ سال دئیے آ ج حالات سب کے سامنے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان نالائقوں،نااہل،اناڑیوں کے بارے میں سوچنا پڑے گا،ملک کب تک تباہی کی جانب جاتارہے گا۔کہیں وہ وقت نا آ جائے کہ لوگوں کی فیملیان انصاف لینے خود نکل پڑیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم کونسی پہلی بار قید کاٹ رہے ہیں،اب تو موسم بھی اچھا ہوگیا ہے،اب تو جیل میں نیند بھی آنے لگی ہے۔انہوں نے کہا کہ آج کوئی سول سرونٹ کام کرنے کو تیار نہیں،فواد حسن فواد کو جیل میں ڈالا گیا،احد چیمہ جس نے شہر کی شکل بدل دی وہ جیل کاٹ رہا ہے،جو قوم کے مضبوط دماغ ہیں ان کوجیل میں ڈالا گیا،یہ انتقام ہم سے نہیں قوم سے لے رہے ہیں،ہم نے گزشتہ سال تقریباً93 لاکھ انکم ٹیکس دیا،اس سال 14 لاکھ دیا کام نہیں کریں گے تو ٹیکس کہاں سے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں کوئی ایکسٹینشن نہیں چاہیے،عمران خان ایکسٹینشن دینے کے قابل بھی نہیں،یہ خود پھنسے والے ہیں،اللہ نا کرے یہ خود پھنس گئے تو نکلنا مشکل ہو جائے گا، مولانا فضل الرحمان نکل رہے ہیں جب ریلیاں نکلتی ہیں تو مسائل پیدا ہوتے ہیں۔خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ ڈینگی سے نمٹنے کے لئے جو اقدامات حکومت کو جنوری میں کرنے تھے وہ اب کررہی ہے، حکومت اپنا ملبہ ڈپٹی کمشنرز پرڈال رہی ہے،حکومتی نااہلی سے بے گناہ لوگ مر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ چند روز میں سردی آ جائے گی جس سے ڈینگی مر جائے گا حکومت خودکیا کررہی ہے۔بزدار صاحب پی کے ایل آئی میں گئے،وہ 36 مشینوں کا منصوبہ بھی ہمارا ہی ہے۔شیخ رشید پہلے ریلوے تو چلالیں پھر ڈینگی پر بات کریں۔

سعد رفیق

مزید :

صفحہ آخر -