تین روزہ انٹیریئر پاکستان ایکسپو 22 نومبر کولاہور میں شروع ہوگی  

    تین روزہ انٹیریئر پاکستان ایکسپو 22 نومبر کولاہور میں شروع ہوگی  

  

لاہور(این این آئی) پاکستان فرنیچر کونسل کے زیر اہتمام  مقامی فرنیچر کی فروغ  تین روزہ 11ویں میگا ”انٹیریئر پاکستان ایکسپو 2019“  22 نومبر کو لاہور میں منعقد ہو گی۔اس بات کا اعلان پاکستان فرنیچر کونسل کے صدر میاں کاشف اشفاق نے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس کے دوران کیا۔انہوں نے کہاکہ 22 نومبر کو  لاہور میں ”انٹیریئر پاکستان ایکسپو 2019“ کے انعقاد کا بڑا مقصد جہاں مقامی فرنیچر سازی کی صنعت کو عالمی سطح پر فروغ دینا ہے وہاں پاکستانی فرنیچر کی برآمدات بڑھانے کے ساتھ ساتھ مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں اور خریداروں کو  راغب کرناہے۔اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے میاں کاشف اشفاق نے مزید کہا کہ ایکسپو کا اہم مقصد پاکستانی انٹیریئرز، فرنیچرز اور اسسریز کو پاکستان سے باہر متعارف کرانا اور فروغ دینا ہے۔ماضی میں بھی پاکستان فرنیچر کونسل نے لاہور،کراچی اور اسلام آباد میں اس طرح کی کامیاب نمائشیں منعقد کروائیں جن کو پبلک اور پرائیویٹ سیکٹرز سے  بے حد پذیرائی حاصل ہوئی۔انہوں نے مزید کہا کہ ”انٹیریئر پاکستان ایکسپو 2019“  میں چین،اٹلی، برطانیہ، ترکی، ہانگ کانگ،بلغاریہ، ڈنمارک، تھائی لینڈ اور بنکاک کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی ہے جبکہ میلے میں سفارتکار، نمایاں تاجر شخصیات، فرنیچر سازی کی صنعت کے سٹیک ہولڈرز اور غیر ملکی وفود بھی شرکت کریں گے۔پی ایف سی کے صدر میاں کاشف اشفاق  نے اجلاس کو بتایا کہ ایکسپو میں ملک بھر سے 100 سے زائد  نمایاں مقامی کمپنیاں اور انٹیریئر ڈیزائنرز اپنی مصنوعات کے ساتھ شریک ہوں گے جبکہ اس بات کا امکان ہے کہ گزشتہ بار کی طرح اس مرتبہ بھی میلے میں ڈھائی سے تین لاکھ افراد آئیں گے۔انہوں نے کہاکہ اس طرح کے میگا فرنیچر میلہ نہ صرف اندرون اور بیرون ملک  پاکستانی مصنوعات اور فرنیچر کے فروغ کا باعث ہوتا ہے بلکہ میلے میں آنے والے  مختلف اشیاء کی خریداری پر 20 فیصد تک ڈسکاؤنٹس ریٹس سے بھی مستفید ہوتے ہیں اور ان میلوں میں نوجوان ڈیزائنروں  اور آرکیٹیکٹس کو اپنے کام کی نمائش کے موقع ملنے کے ساتھ نئے مارکیٹ رجحانات کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔

 جس سے آئندہ کے  لئے ان کی مہارتوں میں خاطر خواہ اضافہ ہوتا ہے۔انہوں نے کہاکہاس طرح کی  سرگرمی برادریوں  کی سماجی و معاشی صورتحال بہتر بنانے اور تاجر کو براہ راست خرید تک رسائی فراہم کرتی ہے۔انہوں نے کہاکہ حکومتی سرپرستی، سرمایہ کاری اور ذرا سی جدت کے باہم اشتراک سے انڈسٹری میں روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع اورآمدنی میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

آبی ذخائر کے اضافہ کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت ہے حاجی محمد حنیف لاہور(این این  آئی)  پاکستان کے جنوب مشرقی حصہ میں سالانہ 125 ملی میٹر جبکہ شمال مغرب میں 750 ملی میٹر بارش ہوتی ہے۔ بارش سے ملک کو سالانہ 32 ارب مکعب میٹر پانی حاصل ہوتا ہے۔ شاہ عالم مارکیٹس بورڈ کے صدر حاجی محمد حنیف نے کہا کہ ملک میں 9 لاکھ ٹیوب ویلز کے ذریعے 59 ارب مکعب میٹر پانی حاصل کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ تربیلا اور منگلا ڈیمز اور 48 بڑی نہروں اور 19 بیراجوں سے مجموعی طور پر 71 ارب مکعب میٹر پانی حاصل ہوتا ہے۔ سال 2000ء میں زرعی شعبہ میں پانی کی کل کھپت 69 فیصد، صنعتی شعبہ میں 23 فیصد اور گھریلو صارفین کی کھپت 8 فیصد تھی لیکن 2016ء تک زرعی شعبہ کی پانی کی کھپت 88.9 فیصد، صنعتی شعبہ میں 3.4 فیصد اور گھریلو صارفین کی 6.5 فیصد ہو گئی۔ انہوں نے کہا کہ1950ء میں ملک میں اوسط فی کس پانی کی دستیابی 5300 مکعب میٹر تھی جو 2015ء میں 1014 کیوبک میٹر تک کم ہو گئی۔ ملک میں پانی کی شدید قلت کے مسائل کا سامنا ہے جس کے تناظر میں آبی ذخائر کے اضافہ کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

مزید :

کامرس -