نیب مسئلہ نہیں،مسائل کا حل ہے،ٹیکس سے متعلق تمام مقدمات ایف بی آر کے پاس چلے جائیں گے،چیئرمین نیب

نیب مسئلہ نہیں،مسائل کا حل ہے،ٹیکس سے متعلق تمام مقدمات ایف بی آر کے پاس چلے ...
نیب مسئلہ نہیں،مسائل کا حل ہے،ٹیکس سے متعلق تمام مقدمات ایف بی آر کے پاس چلے جائیں گے،چیئرمین نیب

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)چیئرمین نیب جسٹس (ر)جاوید اقبال نے کہا کہ کاروباری نمائندوں کی 4رکنی کمیٹی تشکیل دی،کمیٹی سے کاروباری طبقے کے حوالے سے تبادلہ خیال جاری رہے گا،کسی تاجر کو ناجائز پریشان نہیں کیا گیا،امید ہے تاجر برادری کے نیب سے متعلق مسائل حل ہوجائیں گے،انہوں نے کہا کہ نیب مسئلہ نہیں،مسائل کا حل ہے،نیب انسان دوست ادارہ ہے،چیئرمین نیب نے کہا کہ ٹیکس سے متعلق تمام مقدمات واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے، اگلے ہفتے سے ٹیکس سے متعلق تمام معاملات ایف بی آر کے پاس چلے جائیں گے،چیئرمین نیب کی حیثیت سے احکامات جاری کردیئے ہیں،آئندہ ٹیکس سے متعلق معاملات ایف بی آر دیکھے گا۔چیئرمین نیب جسٹس (ر)جاوید اقبال نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ نیب کاروباری کمیونٹی کی بہتری کےلئے اقدامات کرچکا ہے، کاروباری طبقے نے وزیراعظم اورآرمی چیف سے ملاقات کی ،ملاقات میں نیب سے متعلق تحفظات کا اظہار کیا گیا،جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے کہا کہ کچھ تحفظات بے بنیاد تھے جن کی نفی کرتا ہوں،بلاجواز تنقید کا جواب دینا ضروری ہے،انہوں نے کہا کہ تنقید کرنے والے ایک صاحب نے چند روز قبل نیب کو تعریفی خط لکھا تھا،نیب کو موصول 3تاجروں کے تعریفی خطوط موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نیب کاروباری طبقے کی بہتری کےلئے اقدامات کرچکا ہے،اداروں میں خامیاں ہوسکتی ہیں،نیب کو بنے22،21سال ہوچکے ہیں،مجھے چیئرمین نیب بنے22ماہ ہوئے ہیں،پوری کوشش کی نیب کا کردار بہتر سے بہتر ہو،چیئرمین نیب نے کہا کہ قائداعظم نے کہا تھا بدعنوانی اور اقربا پروری پاکستان کے بڑے مسائل ہیں،1947میں بھی ارباب اختیار کو احساس تھا کہ ملک میں کرپشن ہے۔جسٹس (ر)جاوید اقبال نے کہا کہ معیشت ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہے،اقتصادی طور پر ترقی کرنے سے ملک مضبوط ہوگا،چیئرمین نیب نے کہا کہ نیب ایسا کوئی اقدام نہیں اٹھائے گا جس سے کاروباری طبقے کو نقصان ہو،کاروبارکے10عناصر میں سے نیب ایک کا بھی شیئرہولڈر نہیں،انہوں نے کہا کہ ٹیکس لگانے اور اضافے کرنے میں نیب کا کوئی کردار نہیں،ڈالر کے اتارچڑھاوَ اورسٹاک ایکس چینج میں نیب کا کوئی کردارنہیں جبکہ نیب متعددکوشش کرچکاہے کاروباری طبقے کومزید فعال کیاجائے،چیئرمین نیب نے کہا کہ دنیا بھر میں روزگار فراہم کرنا نجی طبقے کا کام ہے،نیب کی کبھی یہ خواہش نہیں رہی کہ ہمیں سعودی عرب جیسا ماڈل دیا جائے،انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک آزاد ملک ہے،ملک کے ادارے فعال ہیں،سوال کیا گیا کہ سعودی عرب میں 4ہفتوں میں پیسے وصول کرلیے جاتے ہیں یہاں کیوں نہیں؟میں نے جواب دیا مجھے اختیار دیئے جائیں3ہفتے میں رقم وصول کرلوں گا،جسٹس (ر)جاوید اقبال نے کہا کہ نیب میں گرفتار شخص کو ایک دن کے اندر عدالت میں پیش کردیا جاتا ہے،نیب وائٹ کالر کرائم کا مقابلہ کررہا ہے،وائٹ کالر کرائم کی تحقیقات کا طریقہ بہت پیچیدہ ہے،دنیا بھر میں وائٹ کالر کرائم کی تحقیقات کا کوئی طریقہ یا وقت مقرر نہیں۔

انہوں نے کہا کہ قانون نے ہمیں 90دن تحقیقات کی مہلت دے رکھی ہے،چند کیسز کے علاوہ 90دن میں تحقیقات مکمل کردی جاتی ہیں، تاخیر کی بڑی وجہ لاہور سے اسلام آباد اور پھر بیرون ملک تک تحقیقات کرنا ہے،انہوں نے کہا کہ بیرون ملک ٹاورز اور جائیدادیں بنائی گئیں،کچھ ممالک تحقیقات میں تعاون نہیں کرتے،چیئرمین نیب نے کہا کہ نیب بے لگام ہے نہ مادرپدرآزاد،ایسی معلومات ایم اویوز کے ذریعے حاصل کی جاسکتی ہیں،حالات بدل رہے ہیں،وقت آئے گا جب ہم سراٹھا کر چل سکیں،انہوں نے کہا کہ دنیا میں برابری کی سطح پر بات کریں گے تو ہماری شنوائی زیادہ ہوگی،معاشی بحران ہر ملک میں آتا ہے لیکن کسی ایک ادارے کو قصوروار نہیں ٹھہرایاجاتا۔انہوں نے کہا کہ ادارہ الزامات کی زد میں آئے تو خاموش بیٹھنا مشکل ہوجاتا ہے،تنقید کرنا غلط نہیں، لیکن تعمیری تنقید اور مثبت تجاویز لائیں، چیئرمین نیب نے کہا کہ نیب کا بنیادی مقصد کرپشن کا جلدازجلدخاتمہ ہے،ملکوں کے زوال میں بدعنوانی کا اہم کردار ہوتا ہے،جزا و سزا کا کام نیب نہیں عدالت کا ہے۔

چیئرمین نیب نے کہا کہ کسی بھی ادارے سے قوم کو بددل کرنا ملک کی خدمت نہیں،قانون میں ہے کہ نیب ریفرنس کا فیصلہ30دن میں ہو، تاخیر کی وجوہات سے متعلق حکومت سے رابطہ کررہے ہیں،نیب ریفرنسز کا اختتام جلد از جلد ہونا چاہیے،جسٹس (ر)جاوید اقبال نے کہا کہ 5ماہ پہلے چیمبر آف کامرس اسلام آباد راولپنڈی میں گزارشات کیں،نیب ہیڈکوارٹرزمیں نیب ڈائریکٹر کا تقررکیا،48گھنٹے میں کاروباری طبقے کی شکایت حل کرنے کے احکامات جاری کئے،5ماہ سے ایک بھی شکایت موصول نہیں ہوئی جو اطمینان بخش ہے۔چیئرمین نیب جاوید اقبال نے کہا کہ کاروباری نمائندوں کی 4رکنی کمیٹی تشکیل دی،کمیٹی سے کاروباری طبقے کے حوالے سے تبادلہ خیال جاری رہے گا،کسی تاجر کو ناجائز پریشان نہیں کیا گیا،امید ہے تاجر برادری کے نیب سے متعلق مسائل حل ہوجائیں گے،انہوں نے کہا کہ نیب مسئلہ نہیں،مسائل کا حل ہے،نیب انسان دوست ادارہ ہے،چیئرمین نیب نے کہا کہ ٹیکس سے متعلق تمام مقدمات واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے،اگلے ہفتے سے ٹیکس سے متعلق تمام معاملات ایف بی آر کے پاس چلے جائیں گے،چیئرمین نیب کی حیثیت سے احکامات جاری کردیئے ہیں،آئندہ ٹیکس سے متعلق معاملات ایف بی آر دیکھے گا،نیب کسی ایسے کیس پرکارروائی نہیں کرےگاجس بینک سے نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ نیب کسی ایسے کیس پرکارروائی نہیں کرےگاجو بینک ریفرنہ کرے،نیب افسرکسی تاجر کو فون کال نہیں کرےگا،تاجر کو سوالنامہ بھیجیں گے، جواب اطمینان بخش نہ ہوا تو طلب کریں گے،کیس تب تک رجسٹر نہیں ہوگا جب تک اطمینان نہ ہوجائے،چیئرمین نیب نے کہا کہ میگاسکینڈل میں 4رکنی کمیٹی سے مشاورت کریں گے،بینک ڈیفالٹ کے معاملات نیب نہیں دیکھے گا،بینک ڈیفالٹ کا معاملہ متعلقہ بینک یا سٹیٹ بینک دیکھے گا،امید ہے ان اقدامات کے بعد تاجر برادری کی شکایات ختم ہوجائیں گی۔

چیئرمین نیب جسٹس (ر)جاوید اقبال نے کہا کہ پلاٹ اور مکان کی امید دلا کر ساری عمر کی کمائی لوٹ لی جاتی ہے،ایسی صورتحال میں نیب اپنی آنکھیں بند نہیں کرسکتا،کسی ایسے سکینڈلز ہیں جس میں متاثرین کی تعداد25ہزار سے تجاوز کرگئی ہے،انہوں نے کہا کہ یہ کاروبار نہیں ڈکیتی ہے،متاثرین کو پیسے کون لوٹائےگا؟ہاوَسنگ سوسائٹیز متاثرین کو مطمئن کریں، کیس واپس لے لوں گا،ہاوَسنگ سوسائٹیز کو جتنا وقت چاہیے لے لیں،جس ہاوَسنگ سوسائٹی کے پاس 50گز زمین نہیں انہوں نے50ہزار لوگوں سے پیسے وصول کئے۔چیئرمین نیب نے کہاکہ اگرکسی کی عمربھرکی جمع پونجی لوٹ لی جاتی ہے تونیب ضرورمداخلت کرےگا،کسی کی سفارش ، دھونس اوردھمکی نہیں چلے گی، انہوں نے کہا کہ مجھے کسی چیز کی لالچ نہیں ہے،کہا جارہا ہے بیوروکریسی بہت پریشان ہے،ہر بیوروکریٹ گیا، کوئی پریشان نہیں،انہوں نے کہا کہ اس الزام میں کوئی صداقت نہیں،لوگ سمجھتے ہیں ایسے الزامات سے شاید نیب اپنا کام چھوڑ دے،نیب کے تمام افراد اپنی کشتیاں جلا کر بیٹھے ہیں،ہم نے ایک منزل کا تہیہ کرلیا ہے۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -علاقائی -اسلام آباد -