’لیڈی ڈیانا اپنے آخری سفر میں گاڑی کی کھڑکی سے باہر دیکھتی آ رہی تھیں اور آخری چیز جو انہوں نے دیکھی وہ۔۔۔‘کئی سالوں بعد خبر آ گئی

’لیڈی ڈیانا اپنے آخری سفر میں گاڑی کی کھڑکی سے باہر دیکھتی آ رہی تھیں اور ...
’لیڈی ڈیانا اپنے آخری سفر میں گاڑی کی کھڑکی سے باہر دیکھتی آ رہی تھیں اور آخری چیز جو انہوں نے دیکھی وہ۔۔۔‘کئی سالوں بعد خبر آ گئی

  


لندن(مانیٹرنگ ڈیسک)شہزادی لیڈی ڈیانا کی 31اگست 1997ءکو پیرس میں ایک کار حادثے میں موت واقع ہوئی۔ اب اس حوالے سے لیڈی ڈیانا کے سابق بٹلر پاﺅل بریل نے ایک حیران کن بات بتائی ہے۔

ویب سائٹ Cheatsheet.comکے مطابق لیڈی ڈیانا کی موت پر تحقیق کرنے والی ایک ٹیم کو پاﺅل نے بتایا کہ ”زندگی کے آخری سالوں میں لیڈی ڈیانا نے دنیا کے طاقتور گروہوں اور مافیاز سے لیڈی ڈیانا نے دشمنی پال لی تھی۔ ان میں سب سے بڑا گروہ بارودی سرنگوں کے کاروبار سے وابستہ لوگوں کا تھا۔“

پاﺅل نے بتایا کہ ”جب لیڈی ڈیانا نے بارودی سرنگوں پر پابندی کی مہم چلائی اور اس میں کامیاب ہو گئی تو یہ گروہ ان کی جان کا دشمن بن گیا۔ پاپارازی فوٹوگرافر بھی ہمہ وقت لیڈی ڈیانا کے پیچھے رہتے تھے۔ اس روز جب حادثہ ہوا، تب بھی پاپارازی گھنٹوں ہوٹل رٹز کے باہر لیڈی ڈیانا اور دودی فائد کا انتظار کرتے رہے۔ جب وہ باہر نکلے تو پاپارازیوں سے بچنے کے لیے ان کے ڈرائیور نے گاڑی بھگائی۔

اپنے اس آخری سفر میں لیڈی ڈیانا گاڑی کی کھڑکی سے باہر دیکھتی جا رہی تھی اور میں بتا سکتا ہوں کہ انہوں نے آخری چیز کیا دیکھی تھی۔ انہوں نے زندگی میں آخری بار جو چیز دیکھی وہ روشنیوں سے جگمگاتا ہوا ایفل ٹاور تھا۔ آپ جانتے ہیں کہ جب اس انڈر پاس میں داخل ہوتے ہیں تو اس کے بائیں طرف ایفل ٹاور ہے اور یہی وہ چیز ہے جو انڈرپاس میں داخل ہونے سے پہلے نظر آتی ہے۔ لیڈی ڈیانا ایفل ٹاور کو دیکھ رہی تھی اور گاڑی انڈرپاس میں داخل ہو گئی اور وہیں اس کو حادثہ پیش آ گیا۔ اگر لیڈی ڈیانا اس رات ہوٹل سے نہ نکلتی تو وہ آج زندہ ہوتی۔ اس نے سیٹ بیلٹ بھی نہیں باندھ رکھی تھی۔ اگر بیلٹ باندھ رکھی ہوتی تو بھی اس کے محفوظ رہنے کے کچھ امکانات ہوتے۔“

مزید : بین الاقوامی /برطانیہ


loading...