پیپلز پارٹی اور اے این پی میں اپوزیشن کو متحدرکھنے کیلئے کوششوں پر اتفاق ،حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

پیپلز پارٹی اور اے این پی میں اپوزیشن کو متحدرکھنے کیلئے کوششوں پر اتفاق ...
پیپلز پارٹی اور اے این پی میں اپوزیشن کو متحدرکھنے کیلئے کوششوں پر اتفاق ،حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

  

پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن)عوامی نیشنل پارٹی اور پیپلز پارٹی کےرہنماؤں کی ملاقات،27اکتوبرکو اپوزیشن کو متحد رکھنے کی کوششوں پراتفاق،دونوں بڑی جماعتوں نےحکومت سے ایک بار پھر ممکنہ سیاسی بحران سےبچنے کیلئے مستعفی ہونےاورشفاف انتخابات کامطالبہ کردیا۔

نجی ٹی وی کے مطابق اپوزیشن  کی دو بڑی جماعتوں  پاکستان پیپلزپارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے قائدین کے درمیان اسلام آباد میں اہم ملاقات ہوئی،پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے  عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیارولی سےاسلام آباد میں ملاقات کی، پیپلز پارٹی کی جانب سے فرحت اللہ بابر،سید نیر حسین  بخاری اورسینیٹر مصطفی نواز کھوکھر ملاقات میں شریک تھےجبکہ میاں افتخارحسین،امیرحیدرخان ہوتی،شاہی سیداورزاہد خان  نےاپنی جماعت کےسربراہ کی معاونت کی۔ملاقات میں ملکی سیاسی صورت حال اور حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک پربات چیت کی گئی،دونوں جماعتوں نےملک میں ممکنہ سیاسی بحران کے پیش نظرحکومت سے مستعفی ہونے کامطالبہ کردیا ہے۔ملاقات ایک گھنٹہ سےزائدجاری رہی۔ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی کےرہنمامیاں افتخارحسین نےکہاکہ ساری اپوزیشن  جماعتوں کے درمیان  رابطے برقرار ہیں،خواہش ہےکہ متحدہوکر آگے بڑھیں،مولانا فضل الرحمن  نے27اکتوبر کو آزادی  مارچ کا اعلان کیا ہے،ساری اپوزیشن  جماعتوں کی خواہش اورکوشش ہوگی کہ27 تاریخ اپوزیشن  کی تاریخ بن جائے۔انہوں نےکہاکہ مولانا فضل الرحمن کوتجویز دی ہے کہ آل پارٹیز  کانفرنس میں مزید مشورہ کرلیں،رہبر کمیٹی بھی موجود ہے،مشترکہ لائحہ عمل سے  حکومت گرانے  کےامکانات  زیادہ روشن ہوں گے۔میاں افتخار حسین نے کہا کہ ہم اپوزیشن میں اتحاد چاہتے ہیں اور یقیناً  مولانا فضل الرحمن بھی یہی چاہتے ہوں گے، موجودہ سیٹ اپ کسی اپوزیشن جماعت کو قابل قبول نہیں ہے،صاف شفاف انتخابات کا اعلان کیا جائے اور یہ انتخابات فوج کی نگرانی کے بغیرہوں،2018 کے بعد جتنے بھی ضمنی اور قبائلی اضلاع کے انتخابات ہوئے  اپوزیشن نے متفقہ طورپر مطالبہ کیا کہ عام انتخابات  صاف شفاف نہیں تھے،  نئے عبوری انتخابات  فوج کی نگرانی کے بغیر ہوں اور یہ انتخابات اداروں کی مداخلت  کے بغیر ہوں۔میاں افتخار حسین نے کہا کہ رابطوں پر اتفاق کیا گیا ہے، پیپلزپارٹی اورعوامی نیشنل پارٹی بھی رابطے میں رہیں گی ، حکومت اس بات کیلئے کوشاں ہے کہ  اپوزیشن میں دراڑ پڑے اور وہ اس کا فائدہ اٹھائے، مولانا فضل الرحمن سے توقع ہے کہ تمام ساتھیوں کو مزید اعتماد میں لیںگے اور اس بات کا مل کر تعین کیاجائے گا  کہ احتجاجی تحریک کیلئے کہاں تک جاسکتے ہیں؟ہم نے آزادی مارچ  کا مدد فیصلہ کیا ہے اور ابھی اس مدد اورتعاون کے سلسلے میں  طریقہ کار کے بارے میں سوچ رہے ہیں،مولانا فضل الرحمن یہ بیڑہ اٹھا رکھا ہے،مزیدمشاورت کریں،سب ساتھ دیں گے ،ہم ایک ہیں اور ایک رہیں گے، حکومت کو اس بات کا موقع نہیں دیں گے کہ وہ اپوزیشن کے حوالے سے  کسی چیز کافائدہ اٹھائے،حکومت پاکستان کی جگ ہنسائی کا باعث بن رہی ہے ،وزیراعظم نےجنرل اسمبلی میں ایسا کیا کردیاہےکہ جو تعریف کی جارہی ہے۔

اس موقع پر پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہاکہ  اپوزیشن متحد  ہے،ساری اپوزیشن اس بات پر متفق ہے کہ موجودہ سیٹ اپ قابل قبول نہیں ہے،احتجاجی تحریک کے  طریقہ کار پر مزید مشاورت کی ضرورت ہے،اصولی طورپر سب نے  مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ کے اعلان کی حمایت کی ہے اور اس کا خیر مقدم کیا تاہم احتجاجی تحریک کے  طریقہ کار پر مزید بات  چیت ہونی چاہیے،اس کیلئے کل جماعتی کانفرنس بھی طلب کی جاسکتی ہےاوررہبرکمیٹی کےاجلاس میں بھی غور کیا جاسکتا ہے۔انہوں نےکہاکہ پیپلزپارٹی کی کورکمیٹی کا اجلاس طلب کرلیا گیا ہے جس میں حکومت کیخلاف احتجاجی تحریک کے طریقہ کار پر مشاورت کی جائے گی،موجودہ حکومت  دھاندلی کی پیداوار ہے، اپوزیشن متحدہے اور متحد رہے گی ۔انہوں نے کہا کہ  اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ اس حکومت کو جانا ہوگا، معیشت تباہ ہوچکی ہے، دونوں جماعتیں اپنا اپنا  اجلاس بھی طلب کررہی ہیں،کورکمیٹی کےاجلاس میں27اکتوبر کےحوالے سےلائحہ عمل طےکیاجائےگا،اپوزیشن مل کر آگے بڑھے۔کورکمیٹی کےاجلاس میں فیصلہ کیاجائےگا کہ احتجاجی تحریک کا لائحہ عمل کیا ہوگا،ہمارا مشترکہ واضح مطالبہ ہے کہ صاف شفاف انتخابات کرائے جائیں۔

مزید :

قومی -اہم خبریں -