مقبوضہ کشمیر میں بھارت نے شبیر شاہ کی جائیداد ضبط کرلی،10 روز میں خالی کرنے کا حکم

مقبوضہ کشمیر میں بھارت نے شبیر شاہ کی جائیداد ضبط کرلی،10 روز میں خالی کرنے کا ...
مقبوضہ کشمیر میں بھارت نے شبیر شاہ کی جائیداد ضبط کرلی،10 روز میں خالی کرنے کا حکم

  


سری نگر(ڈیلی پاکستان آن  لائن)مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی تحقیقاتی ایجنسی انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے آل پارٹیز حریت کانفرنس کے غیر قانونی طور پر حراست میں لیے گئے سینیئر رہنما شبیر شاہ کی جائیداد ضبط کرلی۔

کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق ای ڈی کی جانب سے شبیر شاہ کی اہلیہ اور 2 بیٹیوں کو جاری ہونے والے نوٹس میں ان سے راولپورہ میں ان کی رہائش گاہ 10 روز میں خالی کرنے کا حکم دیا گیا۔شبیر شاہ کی اہلیہ بلقیس شاہ اور 2 بیٹیاں سما شبیر اور سحر شبیر کو ستمبر کے آخر میں نوٹس جاری کیا گیا تھا۔نیشنل کانفرنس پارٹی کے وفد کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں 2 ماہ سے گرفتار ان کے 2 اعلی رہنماں سے ملاقات کی اجازت مل گئی۔ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق پارٹی صدر فاروق عبداللہ اور نائب صدر عمر عبداللہ سے ملاقات ریاست کے دارالحکومت سری نگر میں ہوئی۔واضح رہے کہ دونوں افراد کو بھارت نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت واپس لینے کے فیصلے کے بعد گرفتار کیا تھا۔فاروق عبداللہ کو سری نگر میں ان کی رہائش گاہ میں نظر بند کیا گیا ہے جبکہ ان کے بیٹے عمر عبداللہ کو ریاست کے گیسٹ ہاس میں قید ہیں۔فاروق عبداللہ اور عمر عبداللہ کے علاوہ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر اور مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی کو بھی بھارتی انتظامیہ نے زیر حراست لے رکھا ہے۔مقبوضہ ریاست کو بھارت کے 5 اگست کے اقدامات کے بعد سے لاک ڈان کا سامنا ہےجسکےبعد سےبھارتی حکومت نےمواصلات تک رسائی بندکردی تھی اورخطے میں احتجاج کوروکنے کےلیےپابندیاں عائدکردی تھیِں۔انسانی حقوق کی تنظیموں اورایمنسٹی انٹرنیشنل نے بارہا بھارت سے سیاسی قیدیوں کو رہا کرنے اور مقبوضہ کشمیر سے پابندیاں ہٹانے کا کہا ہے۔

1954 سے 5 اگست تک مقبوضہ جموں و کشمیر کوخصوصی حیثیت حاصل تھی جسکے تحت وہ اپنے قوانین بنا سکتا تھا اور وہاں غیر کشمیریوں کو زمین خریدنےیا رہائش اختیارکرنے کی اجازت نہیں تھی۔مقبوضہ کشمیر میں چندکشمیری گروہ بھارتی حاکمیت سے آزادی کے لیے جدو جہد کر رہے ہیں،متعدد انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق خطے میں 1989 کے بعد سے جاری تنازع سے ہزاروں افراد کا قتل کیا جاچکا ہے۔

مزید : انسانی حقوق /علاقائی /آزاد کشمیر /مظفرآباد


loading...