پولیو ٹیموں میں شامل خواتین کو سلام پولیو کا خاتمہ، سنجیدگی کا متقاضی!

 پولیو ٹیموں میں شامل خواتین کو سلام پولیو کا خاتمہ، سنجیدگی کا متقاضی!

  

روٹری انٹرنیشنل ”سوکھے کی بیماری“ کو ختم کرنے کے لئے دن رات کوشاں ہے

پولیو جسے پولیو مائی لائٹس (Poliomyelitis) یا پولیو وائرس کے نام سے پکارا جاتا ہے ایک ایسا مرض ہے جو پانچ سال تک کی عمر کے بچوں پر حملہ آور ہوتا ہے اور انہیں عمر بھر کے لئے معذور بنا دیتا ہے۔ یہ ایک  متعدی مرض ہے جو آلودہ پانی کے ذریعے ایک نفس سے دوسرے نفس کو منتقل ہوتا ہے۔ اس مرض کا کوئی مستقل علاج نہیں ہے البتہ ویکسین کے استعمال سے اس مرض سے بچا جا سکتا ہے۔

دنیا بھر میں اس مرض پر 99.9 فیصد قابو پالیا گیا ہے ماسوائے دو ملکوں کے، ایک ملک پاکستان جبکہ دوسرا افغانستان ہے۔ پاکستان میں یکم اکتوبر 2020ء تک 74 مریضوں کی اطلاع قلمبند ہوئی جبکہ 2019ء میں مریضوں کی تعداد 147 تھی۔ پاکستان کی حکومت اور عالمی فلاحی تنظیمیں اس مرض کے خاتمے کے لئے سرتوڑ کوشش کر رہی ہیں۔ تاہم اس میں کامیابی اسی صورت ممکن ہے کہ جب پاکستان کے لوگ پولیو کے خاتمے کی مہم میں سنجیدگی سے اپنا کردار ادا کریں۔ مردوں سے زیادہ ذمہ داری خواتین کے سر پر ہے۔ ہمارے ملک کی تقریباً نصف آبادی خواتین پر مشتمل ہے اور کوئی خاتون یہ نہیں چاہے گی کہ اس کا بچہ بیماری کے ہاتھوں عمر بھر کا روگ لئے اس کی آنکھوں کے سامنے اس کے کرب کا باعث بنے۔

پولیو زندگی بھر کا روگ ہے۔ اس کا وائرس اعصابی نظام پر حملہ آور ہوتا ہے۔ بعض اوقات یہ فالج کا باعث بنتا ہے اور پھر مستقل معذوری بن جاتا ہے۔ اس سے مکمل شفایابی ممکن نہیں ہے اور نہ ہی اس کا کوئی علاج ہے البتہ اس سے بچاؤ کے لئے ویکسین دستیاب ہے جو اس مرض سے بچوں کو یقیناً محفوظ رکھتی ہے۔ اس بارے میں خواتین اور مرد حضرات کی آگاہی بہت ضروری ہے۔ احتیاطی تدابیر اور بچوں کو پولیو ویکسین کے قطرے پلانا لازمی ہے۔ خاص طور پر مصفا اور شفاف پانی کا استعمال سب سے بڑی احتیاط ہے کیونکہ پولیو وائرس آلودہ اور کثافت زدہ پانی کے ذریعے بچوں پر فوری غلبہ پاتا ہے۔ پاکستان میں ہر بچہ اس وقت تک خطرے کی زد میں ہے جب تک کہ اس وائرس کا مکمل طور پر خاتمہ نہیں ہو جاتا۔

پولیو نے انیسویں صدی میں امریکہ اور برطانیہ میں اپنی یلغار سے ایک آفت برپا کر دی تھی۔ 1789ء میں جب فرانس انقلاب کے دور سے گزر رہا تھا اور برصغیر پاک و ہند کے جنوب میں ایسٹ انڈیا کمپنی اپنا تسلط مضبوط کر رہی تھی، ایک برطانوی طبیب مائیکل انڈروڈ نے اس مرض کی نشاندہی کی تھی۔ 1908ء میں پولیو وائرس کے بارے میں جانکاری ہوئی۔ امریکہ میں ہزاروں بچے اس مرض سے متاثر ہوئے تھے۔ والدین کے لئے انتہائی تکلیف دہ لمحات ہوں گے جب پولیو سے متاثرہ ان کے بچے بیساکھیوں کے سہارے قدم اٹھاتے تھے۔ بیسویں صدی میں پولیو مائی لائٹس بچوں کی ایک تشویش زدہ بیماری کی صورت میں عیاں ہوئی چنانچہ دوا ساز اداروں نے تحقیق کو مہمیز لگائی اور بالآخر ایک امریکی دوا ساز جوناس سالک نے پولیو ویکسین دریافت کرلی۔ جلد ہی ایک اور شخص البرٹ سائن نے ویکسین کو قطروں کی صورت میں دریافت کیا جو آج دنیا بھر میں زیر استعمال ہے۔

مرے وطن پاکستان میں اس مرض سے نا آگاہی کے باعث خاصی تعداد میں بچے متاثر ہوئے ہیں، شروع شروع میں اسے سوکھے کا مرض بھی کہا جاتا تھا۔ پولیو ویکسین پاکستان میں متعارف ہوئی تو کم علمی، بے یقینی اور بد اعتمادی کی فضا نے اس کے خلاف محاذ بنا لیا۔ شکر ہے رب کریم کا کہ لوگوں کو اس بات کی جلد سمجھ آ گئی کہ ان کے بچوں کی حفاظت کے لئے پولیو کے قطرے کتنے ضروری ہیں۔ حکومت اور مقامی و بین الاقوامی رفاعی اداروں کی محنت رنگ لائی اور اس مرض کے وسیع تر پھیلاؤ کو روک دیا گیا۔ پولیو ویکسین کے رضا کاروں نے اپنے کام کو مذہبی فریضہ جانتے ہوئے گھر گھر کے کواڑ کھٹکھٹانے شروع کر دیئے اور بلا صلہ و ستائش دور دراز کے علاقوں میں اپنی ذمہ داری نبھانے کی خاطر نکل کھڑے ہوئے۔ ہم سلام کرتے ہیں پولیو ٹیموں کے ان مرد و خواتین کو جو اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر بچوں کے جسمانی تحفظ کا احساس لئے میل ہا میل سرگرداں ہیں۔ ان لوگوں کے مصمم ارادوں کے سامنے موسم اور دشوار گزار راستے اور کم علمی کی رکاوٹیں کچھ معانی نہیں رکھتیں۔

روٹری انٹرنیشنل ایک فعال عالمی رفاعی و فلاحی تنظیم ہے جو پولیو کے تدارک کے لئے پیش پیش ہے۔پاکستان میں روٹری کی تنظیم پولیو کے خاتمے کے لئے بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہے۔ تعظیم احمد کمبوہ روٹری انٹرنیشنل ڈسٹرکٹ 3272 پاکستان کے گورنر برائے 2020-21ء ہیں۔ ان کا کہنا ہے۔ ”روٹری انٹرنیشنل پاکستان“ کے وہ کارکن جو پولیو خاتمہ مہم کے لئے صف اول میں ہیں، ہماری توصیف و تعریف کے مستحق ہیں۔ ان کے غیر متزلزل جذبوں کو سلام ہے۔ اپنے مسائل اور مصروفیتوں کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے ہمارے کارکن پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے لئے ہر ممکن اقدام کر رہے ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ ہم جلد ہی اپنے پاک وطن کو اس موذی مرض سے نجات دلا دیں۔ اس ضمن میں بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن بھی قابل ستائش حد تک متحرک ہے۔ 

رب رحیم سے دعا ہے کہ میرا پیارا وطن اس موذی مرض سے جلد از جلد چھٹکارا پا جائے۔ (آمین)

مزید :

ایڈیشن 1 -