غداری کے سرٹیفکیٹ تقسیم نہ کریں 

غداری کے سرٹیفکیٹ تقسیم نہ کریں 

  

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ اکیسویں صدی سوشل میڈیا کی صدی ہے اس میں اظہارِ رائے پر پابندی کے منفی نتائج برآمد ہوں گے۔ سوشل میڈیا کے دور میں ٹیلی ویژن چینلوں پر نوازشریف کی تقریر پر پابندی عائد کرنے سے حکومت کی کمزوری عیاں ہوتی ہے۔نوازشریف نے ابھی تین تقاریر ہی کی ہیں کہ اقتدار کے ایوانوں میں کھلبلی مچ گئی ہے، حکومت کے ترجمانوں کو نوازشریف کے خلاف بیانات دینے پر لگا دیا گیا۔ پاکستان کو نیوکلیئر پاور اور عسکری لحاظ سے ناقابلِ تسخیر بنانے والے سیاستدان کو غدار ثابت کرنے پر سارا زور لگایا جا رہا ہے۔ آج ملک میں پابندیاں ختم کی جائیں عوام کو اپنے جذبات کے اظہار کا موقع ملے تو اقتدار کے ایوان کھڑے نہیں رہ سکیں گے۔ کوئی شخص نوازشریف کی پاکستانیت چھین سکتا ہے اور نہ انہیں عوام کے دلوں سے نکالا جا سکتا ہے جو شخص تین بار ملک کا وزیراعظم رہا اس کی حب الوطنی پر شک نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) پارلیمنٹ کی بالادستی، قومی اداروں کے وقار اور آئین کے تحفظ کے لئے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی تمام قومی اداروں اور سیاسی جماعتوں کو اپنی اپنی حدود میں رہ کر فرائضِ منصبی ادا کرنا ہوں گے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار ایک انٹرویو میں کیا۔

نوازشریف نے اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی میں جو تقریر کی اس کے بارے میں خود وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ انہوں نے یہ تقریر براہِ راست ٹیلی کاسٹ کرنے کی اجازت دی تھی، تاکہ لوگ تقریر سن کر خود درست فیصلہ کرسکیں لیکن اب ایسے محسوس ہوتا ہے کہ اس تقریرکی لہروں نے دور دور تک ارتعاش پیدا کر دیا پھر اس کے بعد دو تقریریں اور بھی ہو گئیں تو ان ”ترجمانوں“ کے ہاتھ پاؤں پھولے ہوئے نظر آئے جن کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپوزیشن کے خلاف جارحانہ طرزِ عمل اختیار کریں۔ ممکن ہے انہیں خاموشی سے یہ بھی بتا دیا گیا ہو کہ ”جارحانہ طرزِ عمل“ کا مفہوم کیا ہے، چنانچہ تقریر کے بعد نوازشریف کو غدار ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا جا رہا ہے۔ حیرت ہے اس کارِ خیر میں وہ حضرات بھی ہاتھ بٹانے کے لئے رضاکارانہ طور پر آگے بڑھ بڑھ کر تعاون پیش کر رہے ہیں جو سال ہا سال تک نوازشریف کی حکومتوں میں وزیر رہے یا دوسرے سیاسی مناصب پر فائز رہے۔ اگر کسی کے پاس سیاسی عہدہ نہیں بھی تھا تو بھی وہ نوازشریف کے ساتھ قربت کا دعویدار ضرور تھا، حیرت ہے کہ اتنی نزدیکیوں کے باوجود ان حضرات کو اس وقت تو غدار کی کوئی غداری نظر نہ آئی جسے وہ اب کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ 

وزیراعظم نے اگر انشراحِ صدر کے ساتھ اعلان کیا تھا کہ انہوں نے نوازشریف کی تقریر ٹیلی کاسٹ کرنے کی خود اجازت دی تو پھر حوصلے اور وقار کے ساتھ اس تقریر کے سیاسی اثرات کا سامنا کرنا چاہیے تھا اور اپنے ان وزیروں کی زبان بندی کرنی چاہیے تھی جو اب برملا کہہ رہے ہیں کہ وزیراعظم نے نوازشریف کی تقریر ٹیلی کاسٹ کرنے کی اجازت دے کر غلطی کی تھی گویا یہ وزیر صاحبان یہ کہنا چاہتے ہیں گویا انہیں وزیراعظم سے زیادہ سیاسی بصیرت حاصل ہے۔ چند ہی دن میں وزیروں، مشیروں، ترجمانوں اور خود ساختہ ترجمانوں کے جو بیانات سامنے آئے ہیں ان سے لگتا ہے کہ سارے بیانات کے سوتے کہاں سے پھوٹ رہے ہیں تمام بیانات کو جمع کرکے ان میں قدر مشترک اور ایک ہی طرح کے الفاظ تلاش کئے جائیں تو حیرت ہوتی ہے کہ تمام حضرات کو الگ الگ بیانات جاری کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ ایک ہی بیان بنا کر ان پر سب کا نام لکھ دینا چاہیے اوراگر یہ سارے حضرات اپنے اپنے بیانات دینا چاہتے ہیں تو کوئی نئی بات تو کریں، غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنا کون سا کمال ہے یہ مشغلہ تو قیامِ پاکستان کے ساتھ ہی شروع ہو گیا تھا، جس میں تیزی پہلے مارشل لاء کے بعد سے آئی اور جب مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح نے صدارتی الیکشن لڑنے کی جسارت کر ڈالی تو نفرت سے بھرے ہوئے سارے برتن اُبل پڑے اور بعض زبان درازوں نے قائداعظمؒ کی قابلِ احترام ہمشیرہ کو بھی جنہیں قوم نے مادرِ ملت ؒکے مقام پر فائز کر رکھا تھا ہندوستانی ایجنٹ قرار دینے سے بھی گریز نہ کیا گیا ایسے میں کوئی دوسرا کیا بیچتا تھا اور کیا بیچتا ہے کہ محفوظ رہتا، زبان درازی کا یہ کلچر آج تک جاری ہے اور اخلاق و آداب کے سارے تقاضوں کو بالائے طاق رکھ کر ہر کہہ و مہ اس میں اپنا حصہ ڈالنے کے لئے بے تاب ہے، پچھلے چند دنوں سے ایسے ایسے لوگ بھی بلوں سے نکل کر ٹرانا شروع ہو گئے ہیں جن کی آواز عرصے سے نہیں سنی گئی تھی۔

ایک ہی تقریرنشر ہونے پر یہ سب کچھ ہو جائے گا شاید کسی کو بھی اس کا اندازہ نہیں تھا، فرض کریں یہ تقریر نشر نہ بھی ہوتی تو سوشل میڈیا کے اس دور میں اس کا بلیک آؤٹ کیسے کیا جا سکتا تھا، حالیہ مہینوں میں جن خبروں کا بلیک آؤٹ پورے اہتمام سے کیا گیا ان کا جادو بھی تو سر چڑھ کر بول رہا ہے نوازشریف کی تقریر روک بھی لی جاتی تو بھی اس کے اثرات تو مرتب ہونے ہی تھے، اس کا سیاسی جواب تو یہ ہے کہ جو کہا جا رہا ہے اس کا درست تجزیہ کرکے دلائل کے ساتھ منطقی جواب دیا جائے، جو باتیں نوازشریف نے کہیں وہ محض اعادہ تھا اور کسی نہ کسی انداز میں 2018ء کے الیکشن کے بعد سے اب تک کہی جا رہی تھیں فرق صرف اتنا پڑا تھا کہ یہ باتیں اب نوازشریف نے دہرا دیں تو ٹھہرے پانیوں کی لہریں پھیل گئیں۔ نوازشریف اگر غدار ہیں تو ان کے خلاف ریاست خود غداری کا مقدمہ درج کرائے، اور اگر سکت  ہے تو گلے میں رسی ڈال کر برطانیہ سے واپس لائے جس کا اعلان وزیر مشیر کرتے رہتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ پیمرا نے ٹی وی چینلوں پر نوازشریف کا خطاب نہ دکھانے کی جو پابندی لگائی ہے اس کا اطلاق ایسے ہی دوسرے ”اشتہاری مجرموں“ پر کیوں نہیں ہوتا، جن کی تقریریں ماضی میں بڑے اہتمام کے ساتھ دکھائی گئیں کیا اس وقت پیمبرا کو یہ قانون یاد نہیں تھا، چینلوں نے تو قتل کے جرم میں ماخوذ لوگوں کے اعترافی بیانات بھی پورے اہتمام سے دکھائے، اس وقت کسی نے انہیں کیوں نہ پوچھا، اصل ضرورت تو یہ ہے کہ جو سوالات اٹھائے جا رہے ہیں ان کا منطق کے ساتھ جواب دیا جائے اور دلائل کے ساتھ ان کو جھٹلایا جائے، غداری کے نعرے بلند کرنے سے مطلوبہ مقاصد ماضی میں حاصل ہوئے نہ اب حاصل ہوں گے۔

مزید :

رائے -اداریہ -