کورونا،خدشات اور بے احتیاطی!

کورونا،خدشات اور بے احتیاطی!

  

وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر اس خدشے کا اظہار کیا کہ احتیاط نہ کی گئی تو کورونا کی دوسری لہر آ سکتی ہے۔ انہوں نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ دنیا کی نسبت پاکستان کم متاثر ہوا تاہم احتیاطی تدابیر پر عمل بھی ناگزیر ہے۔ وزیراعظم اور قومی کمیٹی برائے کورونا کنٹرول کی طرف سے مسلسل یہ ہدائت کی جا رہی ہے تاہم ملکی حالات یہ ہیں کہ حکومت کی طرف سے معاشی اور سماجی سرگرمیوں کی بتدریج لیکن جلد جلد اجازت دی گئی تو عوام نے کورونا کا ختم ہونا جان لیا اور اب صورت حال یہ ہے کہ ماسک خال خال نظر آتے ہیں اور سماجی فاصلے کی فکر نہیں کی جا رہی، اس کا نتیجہ ہے کہ کراچی میں متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہوا اور متعدد شادی ہال، ریسٹورنٹ اور تعلیمی ادارے بند کرنے کے علاوہ مقامی سطح پر سمارٹ لاک ڈاؤن بھی شروع کیا گیا، قومی سطح پر بتایا گیاکہ اموات اور مثبت متاثرین کی تعداد بڑھ گئی ہے اور موسمی تبدیلی مزید خطرے کا باعث بن سکتی ہے۔ اس وقت زیر علاج مریضوں کی تعداد 8ہزار سے بڑھ چکی اور 93افراد وینٹی لیٹر  پر ہیں۔ آزادکشمیر میں دوبارہ لاک ڈاؤن کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

قومی کمیٹی وزیراعظم اور دیگر متعلقین کی ہدایت اور نصیحت اپنی جگہ لیکن صورت حال یہ ہے کہ عوام بھرپور  زندگی دوبارہ شروع کر چکے ہیں۔ سڑکوں پر رواں ٹرانسپورٹ والے بھی کم ہی ماسک استعمال کرتے ہیں، جبکہ بازاروں اور گھروں میں بہت کم افراد دیکھے جاتے ہیں جو ماسک پہنے ہوئے ہوں۔ اسی طرح ریستوران کھل گئے لوگ گروپوں کی شکل میں کھانا کھانے جا رہے ہیں اور سبھی ماسک کے بغیر ہوتے ہیں، ایسی صورت میں ماسک والے شرمندگی محسوس کرتے ہیں، ہوٹلوں اور ریستورانوں کے علاوہ بسوں اور ویگنوں والے بھی لوگوں کو ماسک کے لئے نہیں کہتے۔بار بار کی ہدایت پر اثر نہیں ہو پا رہا لہٰذا ضرورت ہے کہ سڑکوں بازاروں،شاپنگ مالز اور ریستورانوں کی سخت نگرانی اور کارروائی کی جائے۔ سواری والے حضرات کے خلاف ورزی پر چالان کئے جا سکتے ہیں کہ کورونا کی لہر قوت پکڑ گئی تو سنبھالنا مشکل ہوگا اور پھر نئے سرے سے وہ سب کچھ کرنا پڑے گا جو ہم سب بھگت کر اس سے آگے نکل آئے ہیں۔

مزید :

رائے -اداریہ -