کاش ہم زینب کیس سے سبق سیکھتے

کاش ہم زینب کیس سے سبق سیکھتے
کاش ہم زینب کیس سے سبق سیکھتے

  

قصور  کا زینب قتل کیس ہماری تاریخ کا وہ سانحہ ہے، جو بچوں سے زیادتی کے تناظر میں ہمیشہ آنسوؤں کی خیرات دیتا رہے گا۔ اس واقعہ نے پورے ملک میں دکھ، غصے اور اضطراب کی جو کیفیت پیدا کی تھی، شائد ہی کسی اور واقعہ نے کی ہو، مگر کیا ہم نے اس سے کوئی سبق سیکھا؟ یہ سوال میرے ذہن میں اس وقت زیادہ شدت سے اُبھرا جب معصوم زینب کے والد محمد امین انصاری مجھے ملنے گھر تشریف لائے۔ مجھے یہ توقع تو تھی کہ ان سے ملاقات میں اس سانحے سے جڑی بہت سی درد بھری کہانیاں سننے کو ملیں گی، مگر یہ توقع نہیں تھی کہ زینب کا غمزدہ باپ آج بھی اس کے ذکر پر سسکیاں لیتے ہوئے رونے لگ جائے گا۔ مجھے میرے ایک صحافتی شاگرد اعجاز مرتضیٰ نے فون پر بتایا کہ قصور سے محمد امین انصاری ملتان آئے ہوئے ہیں اور آپ سے ملنا چاہتے ہیں، میں نے  اسے کہا کہ وہ فوراً انہیں لے کر میرے گھر پہنچے۔ تقریباً آدھ گھنٹہ انتظار کے بعد جب دروازے پر گھنٹی بجی تو میں نے دیکھا کہ امین انصاری میرے سامنے کھڑے ہیں۔ ان کا چہرہ تو اب سبھی کے لئے شناسا ہے، تاہم بہت کم لوگوں نے ان کی آنکھوں میں تیرتی ہمہ وقت نمی کو دیکھا ہو گا۔ میں نے یہ منظر دیکھا تو آگے بڑھ کر انہیں گلے سے لگایا۔ ایسے دلاسہ دیا جیسے ابھی کل ہی وہ اپنی ننھی زینب کو لحد میں اتار کر میرے پاس آئے ہوں۔ ان کی حالت کچھ ایسی ہی تھی۔ اپنے پیاروں کی موت کا غم تو سبھی کو ہوتا ہے، مگر ایسی درد ناک موت جس سے بے چاری زینب دوچار ہوئی، اپنے پیچھے غموں کے پہاڑ چھوڑ جاتی ہے۔

محمدامین انصاری نے بتایا کہ جب وہ سعودی عرب میں اپنی اہلیہ کے ساتھ موجود تھے تو انہیں اس اندوہناک سانحہ کی اطلاع ملی۔ پاکستان میں میڈیا پر یہ خبر مسلسل چل رہی تھی اور خود سعودی عرب میں ہر پاکستانی اس سے آگاہ ہو چکا تھا، لیکن جدہ میں پاکستانی سفارت خانہ غالباً اس سے بالکل بے خبر تھا۔ ہماری شیڈول کے مطابق واپسی چونکہ چار دن بعد تھی، اس لئے ہمیں اس سانحہ کی وجہ سے اپنی ٹکٹیں تبدیل کرانا تھیں۔ میڈیا یہ بھی بتا چکا تھا کہ زینب کے والدین سعودی عرب میں ہیں، اس کے باوجود پاکستانی سفارت خانے نے ہم تک پہنچنے کی کوئی کوشش نہ کی۔ ہماری حالت یہ تھی کہ اس خبر کو سننے کے بعد دماغ ماؤف ہو چکا تھا اور پریشانی نے ہمیں ادھ موا کر دیا تھا۔ ہم نے دوبار ٹکٹیں کرائیں، لیکن فاصلہ زیادہ ہونے کی وجہ سے ائرپورٹ  پر بروقت  نہ پہنچ سکے۔ ہمیں بتایا گیا کہ اگلی فلائٹ 3دن بعد لاہور جائے گی۔

ہمارے لئے تو ایک ایک لمحہ گزارنا کسی قیامت سے کم نہ تھا۔ پھر ایک جاننے والے نے کہا کہ اسلام آباد فلائٹ شام چھ بجے جائے گی، اس میں ٹکٹ مل سکتی ہے، ہم نے غنیمت جانا کہ چلو اس طرح پاکستان تو پہنچ جائیں گے، آگے لاہور کسی بھی ذریعے سے جا سکتے ہیں۔ سو اس طرح ایک بڑی اذیت کے بعد ہم اسلام آباد پہنچے۔ اس دوران ایک بار بھی پاکستانی سفارت خانے کے کسی افسر نے ہم سے رابطہ نہیں کیا، حالانکہ پاکستان میں اس واقعہ کی وجہ سے حالات انتہائی خراب ہو چکے تھے۔ امین انصاری نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کو یہ حکم جاری کرنا چاہیے کہ کسی بھی پاکستانی کو اگر بیرون ملک کسی ایمرجنسی کا سامنا ہو تو وہاں کا پاکستانی سفارتخانہ اس کی مدد کو آئے اور اسے ہماری طرح بے یارومددگار نہ چھوڑے۔

انہوں نے کہا کہ سانحہ کے حوالے سے ان کی اذیت بڑھانے کا ایک دوسرا لمحہ وہ تھا، جب اس وقت کے وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ نے یہ بیان دیا کہ زیادتی کا ملزم زینب کے ورثاء کا عزیز ہے، اس لئے وہ اس کی گرفتاری میں مدد نہیں کر رہے۔ یہ ایسی بات تھی جس نے صحیح معنوں میں ہمارے زخموں پر نمک چھڑکا۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے فوراً میڈیا کے سامنے رانا ثناء اللہ کے اس بیان کو جھوٹ قرار دیا اور ان سے کہاکہ وہ ایسا جھوٹا الزام لگاتے ہوئے اللہ سے ڈریں۔ انہوں نے کہا یہی وجہ ہے کہ جب قاتل عمران کی گرفتاری کے بعد سابق وزیراعلیٰ شہباز شریف پریس کانفرنس کر رہے تھے تو میرے ساتھ بیٹھے رانا ثناء اللہ مسلسل مجھے تلقین کرتے رہے کہ جو کہا جائے، وہی بولنا، اسی خوف کی وجہ سے شہبازشریف نے مائیک بھی بند کر دیا تھا۔

امین انصاری نے کہا مَیں جب اسلام آباد ائرپورٹ پر اترا تو میڈیا کے ذریعے چیف جسٹس ثاقب نثار اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے زنیب کی موت کا نوٹس لینے کی اپیل کی۔دس منٹ بعد مجھے صحافیوں نے بتایا کہ دونوں چیفس نے اس کانوٹس لے لیا ہے اور فوری رپورٹ طلب کر لی ہے۔ امین انصاری کی آنکھوں میں اس وقت آنسو آ گئے، جب انہوں نے بتایا کہ چیف جسٹس ثاقب نثار جب ان سے ملے تو ان کی آنکھوں میں آنسوؤں کی برسات جاری تھی، پھر جب انہوں نے اس کیس کے سوموٹو پر سماعت شروع کی تو ان کی اہلیہ عدالت میں موجود تھیں اور ہماری ڈھارس بندھا رہی تھیں، جبکہ چیف آف آرمی سٹاف کے حکم پر تمام ایجنسیاں ملزم کی گرفتاری کے لئے متحرک ہو چکی تھیں، اسی طرح وہ درندہ صفت قاتل بالآخر قانون کی گرفت میں آ گیا۔

محمد امین انصاری نے پھر اپنی اس بات کو بھی دہرایا کہ اگر زینب کے قاتل عمران کو سرعام پھانسی دے دی جاتی تو آج درندگی کے ایسے واقعات کا سلسلہ رک گیا ہوتا۔ انہوں نے کہا جب بھی کسی معصوم بچی یا بچے کے ساتھ زیادتی اور اس کی موت کی خبر ملتی ہے تو ہمارے زخم ہرے ہو جاتے ہیں، ہمیں یوں لگتا ہے کہ جیسے زینب ایک بار پھر ظلم کا شکار ہوئی ہو۔ اس سلسلے کو روکنے کے لئے سرعام موت کی سزا دینے کا قانون بنانا ناگزیر ہے۔ وگرنہ یہ ظلم اسی طرح ہوتا رہے گا۔ زینب کے لئے تو پوری قوم کھڑی ہو گئی تھی، جس پر اس کے قاتل کو سزا بھی مل گئی، باقی ملزمان تو سزا سے بچے ہوئے ہیں اور ضمانتوں پر رہا ہو جاتے ہیں۔ امین انصاری نے بتایا کہ وہ زینب فاؤنڈیشن بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں اور اس پر سنجیدہ کام ہو رہا ہے۔ اس فاؤنڈیشن کا مقصد بچوں کا تحفظ، ان میں سیلف ڈیفنس کا شعور اجاگر کرنا، تعلیم سے محروم بچوں کو تعلیم دلوانا اور موثر قانون سازی کے لئے حکومت پر دباؤ ڈالنا ہوگا۔ 

مزید :

رائے -کالم -