ہمارے معاشرے کے تضادات (پہلی قسط)

ہمارے معاشرے کے تضادات (پہلی قسط)
ہمارے معاشرے کے تضادات (پہلی قسط)

  

ہمارا معاشرہ تضادات کا مجموعہ ہے۔ اور حیرانی کی بات ہے کہ ہر کوئی یہ جانتے ہوئے بھی اسی پر عمل پیرا ہے۔ زندگی کے کسی شعبے کی بات کرلیں، ہر جگہ تضادات پائے جاتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم لوگوں کو سوچنے اور غور کرنے کی عادت نہیں۔ جلد باز ہیں۔ کسی پر اعتبار نہیں کرتے، لیکن قدم قدم پر دھوکے دیتے اور دھوکے کھاتے ہیں۔ علم سے دور ہیں اور معلومات کا فقدان ہے۔ آئیے معاشرے کے چند ایک تضادات پر غور کرتے ہیں (اگرچہ غور کرنا ہمارے لیے بہت مشکل کام ہے) مذہبی تضادات: ہمارے لوگوں کی بڑی اکثریت کا خیال ہے کہ انسان کے لیے اللہ تعالٰی نے روزی مقرر کر رکھی ہے اور لکھ دی ہوئی ہے۔ جسے کوئی بڑھا سکتا ہے۔ نہ اس میں کمی کرنا کسی کے بس میں ہے۔ دوسری طرف وہی لوگ رزق میں اضافے کی دعائیں مانگ رہے ہوتے ہیں۔ " اے اللہ میرے رزق میں اضافہ فرما دے" مختلف وظائف کرتے ہیں جن سے روزی میں اضافہ درکار ہوتا ہے۔ بات یہی پر ختم نہیں ہوتی ہے۔ بلکہ روزی کے لیے ہر جائز اور ناجائز حربہ اختیار کرتے ہیں۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ جس چیز پر ان کا حق نہیں ہے اس پر بھی قبضہ کر لیتے ہیں۔ رشوت، چوری، ڈکیتی اورناجائز قبضے یہ سب اس بات کی غمازی ہیں کہ آپ کا یہ دعوی بالکل جھوٹا ہے کہ اللہ تعالی نے روزی مقرر کر رکھی ہے اور لکھ رکھی ہے۔ 

"علم مومن کی میراث ہے" یہ حدیث بیان کی جاتی ہے کہ " علم مومن کی میراث ہے" لیکن دنیا میں سب سے کم علمی کا شکار ہماری قوم ہے۔ گویا کہ ہم مومن تو دور کی بات، مسلمان بھی نہیں ہیں؟ جس ملک اور معاشرے میں کتابوں کی کوئی دکان ہو نہ کہیں کوئی لائبریری، ملکی میڈیا علم کی جگہ سیاستدانوں، سرمائے داروں، ججز اور آئی ایس پی آر کے بیانات عوام تک پہنچانے کا کام کرتا ہو، اس قوم کی میراث علم کیسے ہو سکتا ہے؟ 

" جو رات قبر میں ہے وہ باہر نہیں ہو سکتی ہے" یہ محاورہ نہیں بلکہ ہم لوگوں کا ایمان ہے کہ جو رات قبر میں آنی ہے وہ باہر نہیں ہو سکتی، یعنی موت کا وقت مقرر ہے۔ اس کو کوئی بڑھا سکتا ہے۔ نہ کم کر سکتا ہے۔ بلکہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انسان نے کیسے مرنا ہے۔ کب مرنا ہے اور کہاں مرنا ہے۔ یہ سب اللہ تعالٰی نے لکھ دیا ہوا ہے۔ لیکن کوئی بیمار ہوتا ہے تو اس کے علاج کے لیے ہر کوشش کی جاتی ہے۔ اگر کوئی حادثے کی وجہ سے فوت ہو جائے تو حادثے کے ذمہ داران کے خلاف مقدمہ دائر کیا جاتا ہے۔ قتل کی باقاعدہ سزا دی جاتی ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ اگر اللہ تعالٰی نے کسی کی موت کسی انسان کے ہاتھوں لکھ رکھی ہے کہ فلاں شخص اسے قتل کرے گا تو پھر اس قاتل کو سزا کیوں؟ 

سوال یہ بھی ہے کہ مختلف اوقات میں دنیا کے مختلف خطوں میں کئی ایسے موذی امراض لاکھوں افراد کی جان لیتے رہے ہیں، جن پر اب میڈیکل سائنس نے قابو پا لیا ہوا ہے۔ اور دنیا کے کئی ممالک میں انسانوں کی اوسط عمر بڑھ گئی ہے۔ آج کل ایک نئے وائرس " کورونا" نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ جس کے سامنے ابھی تک دنیا بے بس دکھائی دیے رہی ہے۔ لیکن اس وائرس کے توڑ کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ اور قوی امید ہے کہ بہت جلد کوئی ویکسین تیار ہو جائے گی۔ ہمارے ہاں تو کورونا وائرس پر بھی طرح طرح کی افواہیں پھیلائی گئی، کوئی کہتا تھا کہ کورونا ہے ہی نہیں ہے۔ یہ سب اغیار کی سازش ہے۔ کوئی کہتا تھا یہ افغانستان میں امریکی شکست کے بعد ایک نیا جنگی حربہ ہے۔ 

ہمارے دین میں "جھوٹ بولنا بہت بڑا پاپ ہے"۔ لیکن حکومت سمیت اوپر سے لیکر نیچے تک سب ہی جھوٹ بولتے ہیں۔ جس کی وجہ سے اب پوری قوم عدم اعتماد کا شکار ہے۔ اور معاشرے کا سب سے بڑا مسلہ بے اعتمادی اور خود غرضی بن چکا ہے۔ہمارے مذہب میں "غیبت" ایک بہت بڑا عیب ہے۔ یہاں تک کہ یہ اپنے بھائی کا گوشت کھانے کے مترادف ہے۔ لیکن جہاں بھی دو بندے مل بیٹھتے ہیں۔ وہاں غیبت لازم ہوتی ہے۔ اپنے گھر کے افراد سے لیکر بیرونی دشمنوں تک کسی کو بھی نہیں بخشا جاتا ہے۔ 

ہمارا یہ کہنا ہے کہ ظہور اسلام سے پہلے خواتین کو کوئی حق حاصل نہ تھے۔ بیٹیوں کو زندہ دفن کیا جاتا تھا۔ ان کو گھروں میں اس لیے محبوس رکھا جاتا تھا کہ باہر ان کی عزتیں محفوظ نہ تھیں۔ اسلام نے خواتین کو ان کا مقام دلایا، انہیں عزت دی، جینے کا حق دیا اور برابری کے حقوق دیئے۔ لیکن ہمارے ہاں زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں۔ آج ہماری خواتین پڑھی لکھی ہونے کے باوجود بھی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ معاشرے کے اندر خواتین کا کوئی کردار نظر آتا ہے  نہ گھروں کے اندر ان کو وہ مقام حاصل ہے جس کی وہ حقدار ہیں۔ کسی سانجھے کام میں ان کا مشورہ شامل ہوتا ہے۔ نہ خانگی معاملات میں ان کو مخل ہونے کی اجازت ہے۔ پورے ملک کے کسی کونے میں کوئی خاتون اکیلے سفر کر سکتی ہے۔ نہ الگ گھر کے اندر اکیلی رہ سکتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں تضادات اتنے ہیں کہ وہ ایک کالم میں کیا ایک کتاب میں بھی پورے نہیں لکھے جا سکتے،  اس کے لیے بھی ایک سے زیادہ کالم درکار ہیں۔ آج صرف مذہبی تضادات پر لکھا ہے۔ آئندہ کالم میں مزید، قانونی، اخلاقی اور سماجی تضادات کی نشاندہی کرنے کی کوشش کروں گا انشاء اللہ۔ پڑھتے رہیے گا۔

نوٹ: راقم کسی مذہبی بحث میں پڑنا چاہتا ہے نہ مذہبی امور پر دسترس کا دعویدار ہے۔  میرا کام نشاندہی کرنے تک محدود ہے  آگے سوچنا آپ کا کام ہے۔ (جاری ہے)

مزید :

رائے -کالم -