بزدار ایک مضبوط وزیر اعلیٰ 

بزدار ایک مضبوط وزیر اعلیٰ 
بزدار ایک مضبوط وزیر اعلیٰ 

  

وزیر اعلیٰ سردار عثمان بزدار نے تند و تیز باد مخالف اور طوفان بادو باراں میں راستہ بنانے کا ہنر پا لیا، لگے رہو  منا بھائی کے مصداق اپوزیشن کی مخالفت اور تنقید کی یورش میں بھی  اپنا کام کئے جا  رہی ہے۔ ایک طرف منتشر اور مقصد و یکسانیت سے عاری اپوزیشن حکومت مخالف تحریک چلانے کے اعلانات کر رہی ہے،نواز شریف لندن  میں بیٹھے قوم کے مصائب و مشکلات پر کڑھ رہے ہیں،آصف زرداری اور بلاول بھٹو سندھ حکومت بچانے کی کوشش میں ن لیگ کے حامی بنے ہوئے ہیں،پیپلز پارٹی کی قیادت نواز شریف بارے آج بھی خدشات و تحفظات کا شکار ہے،مولانا فضل الر حمٰن کشمیر کی پر فضا وادیوں میں قوم،آئین اور جمہوریت کا غم غلط کر رہے ہیں جبکہ سردار عثمان بزدار انتخابی مہم کے دوران عوام سے کئے گئے وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کی تگ ودو میں مصروف ہیں،ان کو پرواہ ہی نہیں کہ اپوزیشن حکومت گرانے کی منصوبہ بندی میں مصروف ہے۔

وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے حال ہی میں تعلیم یافتہ 16لاکھ افراد کو روزگار دینے کیلیے ملکی تاریخ کی سب سے بڑی سکیم کا اعلان کیا ہے،اس سکیم کے تحت بیروزگار افراد کو کاروبار کیلئے ایک لاکھ سے ایک کروڑ تک آسان شرائط پر قرضے دئیے جائیں گے،اس مقصد کیلئے فنڈز فراہم کر دئیے گئے ہیں،ایک گھرانے میں اگر اوسط دس افراد ہوں تو اس سکیم کے تحت ایک کروڑ 60لاکھ افراد کو خوشحالی اور فراوانی میسر آئیگی،ایک نوجوان اگر دس افراد کو روزگار دیتا ہے تو ایک کروڑ 60لاکھ افراد کو روزگار بھی ملے گا،نئے کاروبار سے وابستہ صنعتوں کو فروغ اور وابستہ افراد کو بھی کاروبار میسر آئیگا،اس طرح ایک ہی سکیم سے کروڑوں افراد کو روزگار مل سکے گا،جو عوامی خوشحالی کی جانب اہم قدم ہو گا۔

سابق وزیر اعلیٰ اور موجودہ سپیکر پنجاب اسمبلی  چودھری پرویز الٰہی کے بعدعثمان بزدار پہلے وزیر اعلیٰ ہیں جنہوں نے مخصوص مراعات یافتہ طبقہ کو سہولیات دینے کے بجائے عام شہری کی جانب وسائل کا رخ موڑا ہے،چودھری پرویز الٰہی کو آج تک لوگ یاد کرتے اور ان کے منصوبوں کی مثال دیتے ہیں۔ صحت کے شعبے میں بھی بہتری کیلئے اقدامات عثمان بزدار کا خاصہ ہیں،اس منصوبہ کے تحت شہری اور دیہی آبادی کیلئے صحت کے سیکڑوں منصوبوں پر کام شروع کر دیا گیا ہے،یہ دراصل وزیر اعظم عمران خان کا وژن ہے،وزیر اعلیٰ عثمان بزدار اسے کامیابی سے لے کر آگے بڑھ رہے ہیں،پنجاب بھر میں شعبہ صحت کو جدید ترین خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے جس کے تحت32ہزار ڈاکٹرز،نرسز اور پیرامیڈیکل سٹاف کی میرٹ پر شفاف بھرتی کی جا رہی ہے،طبی عملے کی جدید ترین بنیاد پر تربیت کا بھی اہتمام کیا گیا ہے جس سے عملہ کی کارکردگی اور استعداد کار میں اضافہ ہو گا،صوبہ میں سات مدر اینڈ چائلڈ ہسپتالوں سمیت نو بڑے ہسپتالوں کی تعمیر بھی اس منصوبہ کا حصہ ہے،میانوالی اورسر گنگا رام ہسپتال لاہور میں تعمیر کا کام جاری ہے جبکہ اٹک،راجن پور،بہاولنگر،لیہ،گجرات میں ہسپتالوں کے قیام کا پی سی ون منظور ہو چکا ہے،پرویز الٰہی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی وزیر آباد کی اپ گریڈیشن کا کام بھی جاری ہے،

نشترہسپتال ٹوملتان،انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی ڈیرہ غازیخان، انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن راولپنڈی کی تعمیر کا کام بھی تیزی سے جاری ہے۔ہیلتھ انشورنس کے تحت 52لاکھ سے زائد خاندانوں کو ہیلتھ کارڈ جاری کئے جا چکے ہیں،اس کارڈ کے ذریعے 8ترجیحی بیماریوں کا مفت علا ج ممکن ہو سکے گا،کارڈ ہولڈر کے اہل خانہ کو بھی 7لاکھ 20ہزار تک کی ہیلتھ ا نشورنس کی سہولت حاصل ہو گی،کورونا وائرس کی روک تھا م کیلئے بھی پنجاب حکومت کے اقدامات قابل تعریف ہیں، ایک لاکھ سے زائد ہیلتھ ورکرز کو اس حوالے سے خصوصی تربیت دی گئی،18بائیو سیفٹی لیول اور تین لیبارٹریاں قائم کی گئیں، آکسیجن کی سہولت سے آراستہ بیڈزفراہم کئے گئے،ٹیسٹنگ کی استعداد 12ہزار روزانہ کی گئی،اب تک ان لیبارٹریز میں 12لاکھ افراد کے ٹیسٹ کئے جا چکے ہیں،اس کے علاوہ متاثرین اور مریضوں کو علاج معالجہ اور قرنطینہ کی سہولیات کی فراہمی بھی شامل ہے،اسی کار کردگی کا نتیجہ ہے کہ کورونا پر قابو پانا ممکن ہو سکا،ورنہ ترقی یافتہ ممالک میں اب تک یہ موذی وائرس ہلاکت پھیلا رہا ہے۔

ادھر اپوزیشن ایک منتخب حکومت کو گرانے منتخب وزیر اعظم کیخلاف عدم اعتماد لانے کی تیاری میں مصروف ہے دلچسپ بات یہ ہے اپوزیشن اب تک یہ فیصلہ نہیں کر سکی کہ حکومت گرانا ہے یا تحریک عدم اعتماد لانا ہے،مگر وزیر اعظم کو اس کی فکر لاحق ہے نہ ان کی ٹیم کو،وزیر اعظم سمیت ٹیم کے تمام ارکان یکسوئی سے عوامی خدمت میں مصروف ہیں،کار آمد بلدیاتی نظام تشکیل کے آخری مراحل میں ہے، پولیس اور عدالتی نظام میں اصلاحات کا عمل جاری ہے،اسی وجہ سے ن لیگ پنجاب میں دراڑیں پڑنے لگی ہیں مولانا شرقپوری اس حوالے سے بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہوئے،نشاط ڈاہا سمیت متعدد ارکان پنجاب اسمبلی کی اس گروپ کو حمائت حاصل ہے،ن لیگ کے ان ارکان نے نہ صرف حکومت مخالف احتجاجی تحریک اور تحریک عدم اعتماد کو غیر مناسب قرار دیا ہے بلکہ حمائت نہ کرنے کا بھی عندیہ دیا ہے۔یہ بھی عثمان بزدار کی کاوش کا نتیجہ ہے اور وہ لوگ جو ان کو سیاستدان تسلیم نہیں کرتے تھے ان کیلئے ایک سبق ہے،عثمان بزدار نے بڑی ذہانت سے ن لیگ میں دراڑ ڈالی،باغی ارکان پنجاب اسمبلی نے میاں نواز شریف کی مخالفت کی ہے، دلچسپ بات یہ کہ بیشک ن لیگ کے قائد نواز شریف ہیں مگر پارٹی میاں شہباز شریف کے نام سے رجسٹرڈ ہے،اس لئے ان کیخلاف ن لیگ بھی کوئی کارروائی نہیں کر سکے گی،ابھی یہ آغاز ہے جانے اور کتنے،قیادت سے نالاں اور ناراض لیگی ارکان اسمبلی تیل کی دھار دیکھ رہے ہیں،جیسے ہی علم بغاوت باقاعدہ بلند ہو گا ایک محتاط اندازے کے مطابق 50سے زائد لیگی ارکان پنجاب اسمبلی میاں نواز شریف کی جارحانہ پالیسیوں اور ریاستی اداروں پر بلا جواز تنقید کیخلاف میدان میں اتر نے کا عندیہ دے چکے ہیں۔

حرف آخر،عثمان بزدار نے خود کو ایک کہنہ مشق وزیر اعلیٰ اور جہاں دیدہ سیاستدان ثابت کر دیا ہے،ن لیگ دوسالہ کوشش کے باوجود ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد نہ لا سکی کہ پارٹی کے اندر سے ہی مخالفت کا اندیشہ تھا،اس صورتحال نے عثمان بزدار کو مضبوط وزیر اعلیٰ  اور عمران خان کے فیصلہ کو درست ثابت کر دیا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -