آذربائیجان اور آرمینیا میں جنگ؟

آذربائیجان اور آرمینیا میں جنگ؟
آذربائیجان اور آرمینیا میں جنگ؟

  

بہت سے قارئین نے فون اور ای میل کے ذریعے تقاضا کیا کہ آذربائیجان اور آرمینیا میں جو جنگ کا بازار گرم ہے اس کے بارے میں کچھ بتائیں۔ میں نے ان کو جواب میں کہا کہ اس جنگ سے اہلِ پاکستان کو کیا لینا دینا؟…… ہم لوگ تو اپنی داخلی جنگوں میں الجھے ہوئے ہیں۔اپوزیشن اور حکومتی حلقوں میں صف بندی جاری ہے۔ ریلیوں اور جلسے جلوسوں کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ سارا سارا دن کوئی وزیر مشیر یا اپوزیشن رہنما تین درجن نیوز چینلوں پر نمودار دیکھا جاتا اور ایک دوسرے پر گولہ باری کرتا نظر آتا ہے۔ رات رات بھر ٹاک شوز چلتے اور فریقینِ جنگ کو آمنے سامنے بٹھا کر ان کے منشوروں کی چیر پھاڑ کی جا رہی ہوتی ہے۔ کیا یہ داخلی محاذ ہمارے لئے کافی نہیں کہ ہم کسی خارجی محاذ کا ذکر کریں؟ہمارا حال تو وہی ہے جو کسی شاعر کے اس مصرعے کی یاد دلاتا ہے:

تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تُو……

لیکن جوں جوں دن گزرے ہمارے سوشل میڈیا بھی حد سے گزرنے لگا۔ کسی کلپ میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ پاک فوج، آذربائیجان میں آرمینیا کے خلاف لڑ رہی اور کشتوں کے پشتے لگا رہی ہے، کسی نے آذربائیجانی پرچموں کے ساتھ پاکستانی پرچموں کی ’بہار‘ کا منظر بھی پیش کیا۔ کئی من چلے تو ہمارے آرمی چیف کو باکو (Baku) لے گئے جو آذربائیجان کا دارالحکومت ہے اور وہاں جا کر ان کو آذری فوج کے پہ سالار کے ساتھ مذاکرات کرتا ہوا دکھایا گیا…… چنانچہ جب نوبت یہاں تک آ گئی تو میں نے سوچا اس موضوع پر واقعی کچھ نہ کچھ لکھا جائے۔

سب سے پہلی بات جو میرے ذہن میں آئی وہ یہ تھی کہ بیشتر قارئین کو معلوم ہی نہ ہوگا کہ آذربائیجان کہاں ہے اور آرمینیا کس خطے میں واقع ہے اور کیا یہ ایشیائی ممالک ہیں یا یورپ میں واقع ہیں اور کیا ان کا باہمی تنازعہ ایسا ہے کہ پاکستان یا اس کے آرمی چیف کو اس میں ’مداخلت‘ کرنے کی نوبت بھی آئے؟…… سچی بات یہ ہے کہ مجھے بھی معلوم نہیں تھا کہ ناگورنو کارا باخ کدھر ہے اور اصل وجہ تنازعہ کیا ہے۔ بہت برس پہلے (1991ء میں) جب سوویت یونین ٹوٹ کر صرف روس رہ گیا تھا تو اس کی جو 15،16ریاستیں آزاد ہوئی تھیں ان میں آذربائیجان اور آرمینیا کی ریاستیں بھی شامل تھیں۔ ان ایام میں ناگورنو کارا باخ کا ایک اجنبی سا لفظ نہاں خانہ ء دماغ میں کہیں اٹک گیا تھا جس کو میں نے کوئی خاص اہمیت نہیں دی تھی۔ علاوہ ازیں یہ بھی معلوم تھا کہ آرمینیا پرسینکڑوں برس تک ترکوں نے حکومت کی تھی اور ترکی اور آرمینیا کی سرحدیں آپس میں ملتی ہیں۔ اور جہاں تک آذربائیجان کا تعلق ہے تو اس پر بھی سینکڑوں برس تک ایران نے تسلط جمائے رکھا تھا۔ خاندانَ قاچار اور خاندانِ افشار کے ادوار میں یہ ملک، ایرانیوں کے زیرِ نگیں تھا۔ بعدازاں ان دونوں پر روس نے قبضہ کر لیا اور 1991ء تک یہ ممالک سوویٹ قبضے میں رہے۔ لیکن ناگورنو کارا باخ پھر بھی ذہن کے احاطے سے باہر ہی رہا۔ اس کی ایک وجہ شائد یہ بھی تھی کہ یہ لفظ (ناگورنو کارا باخ) صوتی اعتبار سے اتنا بوجھل تھا کہ اس کو یاد رکھنا مشکل ہوگیا۔

سوویت یونین کے آخری صدر میخائل گوربا چوف کے زمانے میں جب دنیا کی اس دوسری سپرپاور کا سقوط ہوا تو پاک آرمی میں ایک سالانہ تقریری مقابلہ کا موضوع یہی ’سقوط‘ تھا۔ میں اس وقت GHQ میں IGT&E برانچ میں تعینات تھا اور مجھے بھی اس موضوع پر لکھنے کو کہا گیا تھا۔ لیکن اس وقت بھی کاراباخ کا کوئی مسئلہ نہ تھا۔ آذربائیجان ایک مسلمان اکثریت والا ملک تھا (اور ہے) اور آرمینیا میں عیسائی آبادی کی اکثریت تھی(اور ہے)

نقشے پر دیکھئے کارا باخ کا ایک چھوٹا سا حصہ آپ کو نظر آئے گا…… بس یہی حصہ فساد کی جڑ ہے!

اس حصے کو علیحدگی پسندوں نے متنازعہ بنا کر یہاں اپنی حکومت قائم کی ہوئی ہے۔ گو اس کو اقوام متحدہ میں کوئی پذیرائی حاصل نہیں اور اقوام متحدہ میں کارا باخ، باقاعدہ آذربائیجان کا اٹوٹ انگ ہے لیکن ’زمین پر‘ اس کو ایک نیا نام دیا گیا ہے جو ”آرٹ ساخ“ کے نام سے موسوم ہے۔ یہ ایک باغی ملک ہے جس کو آرمینیا میں آبادی اور رقبے کے حساب سے تین اور ایک کی نسبت ہے۔ آذربائیجان کی آبادی ایک کروڑ کے قریب ہے جو 97% مسلمان ہے اور اس کا رقبہ 86000مربع کلومیٹر ہے جبکہ آرمینیا کی آبادی 29لاکھ افراد پر مشتمل ہے جس میں 97%آبادی عیسائیوں کی ہے اور اس کا رقبہ 29000مربع کلومیٹر ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو اس خطے کو پاک و ہند خطے کے مماثل قرار  دیا جا سکتا ہے۔ یار لوگوں نے شائد اسی وجہ سے آذربائیجان ’پہنچ کر‘ پاکستان کے جھنڈے لہرا دیئے اور وہاں پاک فوج کو کاراباخ کی فوج پر لشکرکشی کرکے اس کو ’تہس نہس‘ کرنے کا سرٹیفکیٹ دے دیا…… اللہ اللہ خیر سلا!

یہ ہم پاکستانیوں کی پرانی عادت ہے۔ اقبال نے قیام پاکستان سے 12برس پہلے کہہ دیا تھا:

مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت 

کرلے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد

تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا

ہو کھیل مریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد

تاویل کا پھندا کوئی صیاد لگا دے

یہ شاخِ نشیمن سے اترتا ہے بہت جلد

یہ درست ہے کہ ہماری ہمدردیاں آذربائیجان کے ساتھ ہیں اور آذری بھائی بھی دل و جان سے پاکستان کے ساتھ ہیں لیکن کوئی ایک پاکستانی سولجر بھی، آذربائیجان میں نہیں۔ یہ بھارتی پروپیگنڈا ہے کہ اس نے پاک فوج کو آذربائیجان میں بھیج کر نگورنو کارا باخ کے بالمقابل صف بند کر دیا ہے، لیکن دوسری طرف اپنے سوشل میڈیا کو بھی دیکھیں کہ اس نے باکو (آذری دارالحکومت) میں پاکستانی پرچموں کی بہار کا سماں باندھ دیا سے۔ خدا لگتی بات یہ ہے کہ میں نے کبھی سٹیپناکرٹ (Stepana Kert) کا نام نہ کہیں پڑھا، نہ کہیں سنا…… یہ شہر اس باغی اور علیحدگی پسندوں کے ’ملک‘ کا  دارالحکومت ہے جس کو وہ ’آرٹ ساخ‘ کا نام دیتے ہیں جبکہ دنیا اس کو ناگورنا کارا باخ کے نام سے جانتی ہے اور اقوام متحدہ کی کتابوں میں یہ ’ملک‘ آذربائیجان کا حصہ ہے۔

آرمینیا کی سرحد، ترکی سے ملحق ہے اور آذربائیجان کی روس سے۔ ایران اور ترکی دل و جان سے آذربھائیوں کے ساتھ ہیں۔ ترکی نے تو آذری شہروں اور ترکی شہروں کو یک جان دو قالب قرار دے رکھا ہے۔ روس اگرچہ ترکی کا دوست ہے لیکن آرمینیا کا بھی دوست ہے اس لئے اس کا کہنا ہے کہ ان دونوں ملکوں کو مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر اس مسئلے کو حل کرنا چاہیے…… آذربائیجان  اپنے اٹوٹ انگ کارا باخ پر قبضہ نہیں کر سکا۔ وجہ یہ ہے کہ کارا باخ کو آرمینیا کی مدد حاصل ہے اور آرمینیا کو نہ صرف روس بلکہ سارے مغربی یورپ (اور امریکہ) کی مدد بھی حاصل ہے۔ اگر آرمینیا، ایشیاء میں نہ ہوتا تو ایک عرصے سے NATO کا حصہ ہوتا!

AFP نے اپنی ایک تازہ خبر میں فرمایا ہے کہ آذربائیجان، سٹیپناکرٹ پر بمباری کر رہا ہے۔(بمباری شائد درست لفظ نہ ہو ’راکٹ باری‘ کر رہا ہے) آرمینیا ایک زمین بند (Landlocked) ملک ہے جبکہ آذربائیجان بحیرہ کیسپئن (Caspian) کے ساحلوں کو سرحد بناتا ہے اور باکو، بحیرۂ کیسپئن پر واقع ایک بندرگاہی شہر (Port City) ہے۔ ایجنسی فرانس پریس (AFP) کے مطابق اس ”دس روزہ جنگ“ میں تقریباً 100لوگ مارے جا چکے ہیں ان میں اکثریت آرمینیا کے فوجیوں اور سویلین کی ہے…… نہ صرف یورپ اور روس چاہتے ہیں کہ اس خطے میں جنگ چھڑ جائے بلکہ ترکی اور ایران بھی گھات لگائے بیٹھے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح یہ تنازعہ طول کھینچے، ایک چھوٹے پیمانے کی جنگ کی شکل اختیار کرے تاکہ مغرب نے ایران پر جو پابندیاں لگا دی ہیں اور ترکی پر بھی جو جزوی پابندیوں کا ہتھوڑا تانا ہوا ہے اس کو ہٹایا جا سکے اور بین الاقوامی اسلحی تجارت کی راہ ہموار ہو…… مشرق وسطیٰ کی جنگ بندی کو دو برس ہو چلے ہیں۔ افغانستان سے بھی اس سال کے اواخر میں شائد امریکی ٹروپس واپس چلے جائیں اور یوں دنیا میں کہیں بھی چھوٹی  بڑی جھڑپ وغیرہ ختم ہو جائے۔ اسی لئے شاید اسلحہ کے سوداگروں نے آذربائیجان اور آرمینیا کے اس خطے میں ’چھیڑ چھاڑ‘ شروع کرکے باکو کے تیل اور آذربائیجان کی قیمتی معدنیات پر نظریں گاڑ رکھی ہیں۔

پاکستان کو اس خطے میں کودنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ پاکستان اور ہندوستان دو جوہری قوتیں ہیں۔ ان کا اپنا مقام ہے جبکہ آذربائیجان اور آرمینیا عسکری اعتبار سے دوسرے بلکہ تیسرے درجے کے ممالک شمار ہوتے ہیں۔ کاراباخ میں عیسائیوں کی اکثریت ہے۔ جس طرح آذربائیجان میں مساجد لاتعداد ہیں اسی طرح آرمینیا میں بھی کلیساؤں اور گرجا گھروں کی بھرمار ہے۔ یہ خطہ جغرافیائی اعتبار سے یورپ سے بالکل مختلف ہے اور افغانستان کی کوہستانی سرزمین سے بھی زیادہ دشوارگزارگھاٹیوں، وادیوں، صحراؤں، جنگلوں اور پہاڑی ندی نالوں پر مشتمل ہے۔ NATO کی فورسز اگر مستقبل قریب میں یہاں آئیں بھی تو ان کی ائر فورسز کے لئے پہلے افغانستان کی طرح کابل و قندھار کے ہوائی  مستقر تعمیر کرنے پڑیں گے…… اور یہ کام اتنا آسان نہیں۔ اگر افغانستان سے ناٹو فورسز کا بوریا بستر جلد گول ہو گیا تھا تو آرمینیا سے یہ بوریا بستر اور بھی جلد گول کرنا پڑے گا!…… لیکن یہ تمام باتیں مستقبل کے وہ اندازے ہیں جن کو حقیقت میں ڈھلنے کے لئے کسی بڑے حادثے کی ضرورت ہوگی۔ نوگورنو کارا باخ ایسے حادثے کے لئے تیار نہیں …… اور تو اور بیشتر قارئین کو یہ بھی معلوم نہیں کہ آرمینیا کا دارالحکومت ”ژیری وان“ (Yerevan) ہے!…… کارا باخ کی طرح ژیری وان بھی ہمارے لئے بہت نامانوس اور اجنبی سرزمین ہے!

مزید :

رائے -کالم -