اپوزیشن نے ہمیشہ ہمارے ساتھ دھوکہ کیا،امیر العظیم

  اپوزیشن نے ہمیشہ ہمارے ساتھ دھوکہ کیا،امیر العظیم

  

لاہور(نمائندہ خصوصی) جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل امیرالعظیم نے کہا ہے کہ ہم عاصم باجوہ سے حساب مانگتے ہیں یہاں کوئی غدار نہیں ہے میں غداری کے مقدمے بنانے کی مذمت کرتا ہوں ہم اپوزیشن کا ساتھ کیوں دیں انہوں نے ہمارے ساتھ ہمیشہ دھوکا ہی کیا ہے جب بھی اسمبلی میں حکومت کو ان کی ضرورت پڑی توانہوں نے ان کا ساتھ دیا۔

 ان خیالات کااظہار انہوں نے لاہور پریس کلب میں قیصرشریف اور فرحان شوکت ہنجراء کے ساتھ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ جب احتساب کی چھری چلتی ہے تو یہ جمہوریت کا نام لیکر اکھٹے ہو جاتے ہیں جن کے محلات اور دولت باہر ہے ہم ان کا ساتھ کیوں دیں۔انہوں نے کہا کہ 45کروڑ روپے کی انگریزی کتب بچوں کی لائبریری کے لئے خریدی جا رہی ہیں ان میں زیادہ تر پسماندہ اضلاع کو دی جائیں گی جہاں نادار اور غریب بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں زیادہ سے زیادہ اردر کی کتابیں خریدی جائیں کیونکہ ہمارے ہاں انگریزی بولنے والے انگریزی لکھنے والے فیل ہوتے ہیں حالانکہ حکومت نے اردو پڑھنے اور بولنے اور سرکاری اداروں میں اس کو رائج کرنے کا جو فیصلہ کیا تھا جماعت اسلامی اس کی بھرپور تائید کرتی ہے محکمہ سکول ایجوکیشن کو چاہئے کہ وہ 75فیصد اردو کتب کا انتخاب کریں تاکہ بچے زیادہ سے زیادہ اپنی علمی پیاس بجھا سکتے لیکن ایسا نہیں کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر تعلیم اپنی وزارت کو ٹھیک کریں اور اسے دستور و قانون کے مطابق چلائیں انہیں اپنی وزارت میں ہر قسم کی کرپشن کا خاتمہ کرنا ہو گا گیارہ اضلاع کے لئے پچاس فیصد انگلش کی کتب خریدی جارہی ہیں جو بعدازاں کراچی اور لاہور میں جمعہ بازاروں اور سڑکوں پر بک رہی ہوتی ہیں حکومت کو چاہئے کہ اردو لٹریچر ہی اس معاشرے کااقدار ہے ہم زاتی مفاد کی خاطر بیرون ملک سے آنی والی اربوں روپے کی خطیر رقم کی بند بانٹ نہیں کرنے دیں گے کتب کی خریداری کے لئے اردو ڈرامے اور اردو کے بارے میں لٹریچر لکھنے والوں کی کمیٹی بنائی جائے صرف بیورو کریسی پر بھروسہ نہ کیا جائے اگر ایسا کیا گیا تو ہم سمجھیں گے کہ مغربی ایجنڈے کو پروموٹ کیا جارہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مقابلے کے امتحانات میں اردو کو لازمی شامل کیا جائے اور بچوں کو جنسی تعلیم دینے سے گریز کیا جائے اگر آج آپ ان کو جنسی تعلیم پڑھائیں گے تو کل کو وہ اس پر عمل بھی کر سکتے ہیں ہم یہ سمجھتے ہیں کہ قوم کے نونہالوں کے ساتھ یہ زیادتی محکمہ سکول ایجوکیشن کے باز افسران کی ملی بگھت سے ہو رہی ہے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -