نندی پور ریفرنس، نیب گورننس کیساتھ تباہ کن طریقے سے کھیل رہا ہے، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ 

    نندی پور ریفرنس، نیب گورننس کیساتھ تباہ کن طریقے سے کھیل رہا ہے، چیف جسٹس ...

  

 اسلام آباد(آئی این پی) اسلام آ باد ہائی کورٹ نے نندی پور ریفرنس میں ڈاکٹر بابر اعوان اور جسٹس (ر) ریاض کیانی کی بریت کیخلاف نیب کی اپیل پر فیصلہ محفوظ کرلیا، عدالت نے ریمارکس دیئے کہ نیب گورننس کیساتھ تباہ کن طریقے سے کھیل رہا ہے اور نیب نے تمام کیسز میں وزراء کو ملزم بنایا ہوا ہے،نیب نے ان لوگوں کو بھی ملزم بنایا ہے جن کو ملزم نہیں بنایا جانا چاہیے تھا۔ پیر کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں 2رکنی بینچ نے نندی پور ریفرنس میں سابق وزیر قانون بابر اعوان اور جسٹس (ر)ریاض کیانی کی بریت کیخلاف نیب اپیلوں پر سماعت کی۔ سابق سیکرٹری قانون مسعود چشتی کے وکیل امجد پرویز ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا قانونی رائے میں تاخیر سے نندی پو ر ریفرنس پراجیکٹ میں تاخیر کا الزام عائد کیا گیا، ریاض کیانی بھی سیکرٹری قانون رہے اور انہیں بری کیا گیا، یہ ایشو مسعود چشتی کے سیکرٹری قا نونی مقرر ہونے سے پہلے سے چل رہا تھا، میرے موکل سے قبل ریاض کیانی سمیت 2 سیکرٹری قانونی رائے دینے سے انکار کر چکے تھے، میرے موکل پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کیا نندی پور ریفرنس میں صرف تا خیر ہی واحد جرم ہے؟ وکیل امجد پرویز نے جواب دیا جی ہاں، میرے موکل ایک دھیلے کے روادار نہیں لیکن انہیں ملزم نامزد کر دیا گیا، نندی پور منصوبہ اسوقت کے وزیراعظم اور صد ر کے نوٹس میں تھا،دونوں نے اس پر کوئی اعتراض نہ کیا۔ عدالت نے نیب پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ نندی پور منصوبے میں کیا جرم تھا آپ بھی بتائیں۔ نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر نے جواب دیا اس کیس میں فرد جرم بھی عائد ہو چکی ہے۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ ایک غیر ملکی کمپنی کیساتھ معاہدے پرنندی پور ریفرنس بنایا گیا، کیا اس غیر ملکی کمپنی کو بتایا گیا تھا اس کی کلیئرنس نہیں لی گئی؟ کیا ایسی کوئی کلیئرنس لینے کی ضرورت تھی؟ جب لا ڈویژن منظوری پہلے ہی دے چکی تھی؟ بادی النظر میں تویہ کیس بنتا ہی نہیں دکھائی دیتا، اگر جرم ہی نہیں تو پھر یہ ریفرنس بنا کر ریاست کیلئے شرمندگی کا باعث نہیں بنایا گیا؟ عدالت نے نیب پراسیکیوٹر کو ہدایت کی کہ ڈاکومنٹ دکھائیں کہ سیکرٹری قانون نے قانون کی کیا خلاف ورزی کی، جب وزارت قانون نے رائے دینے سے انکار کیا تو کیا آپ نے معاملہ اٹارنی جنرل کو ریفر کیا؟ اس طرح کے مزید کتنے کیسز آپ نے بنائے ہیں؟۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے آپ کہتے ہیں وزارت قانون نے معاہدوں کے بعد قانونی رائے دینے سے انکار کیا، آپ چینی کمپنی کیساتھ معاہدے کے بعد وزارت قانون سے را ئے مانگ رہے تھے، اگر آپ اس طرح کر یں گے تو آپ کے پاس فارن انویسٹر کیوں آئیگا؟ یہ بتائیں کہ قانونی رائے میں تاخیر کر کے سیکرٹری قانون کو کیا فائدہ ہوا؟ جب معاہدہ ہو چکا تو پھر وزارت قانون سے منظوری کی ضرورت ہی کیا بچی، جب وزارت قانون نے اپنی قانونی رائے نہیں دی تو اس سے قومی خزانے کو نقصان ہوا، پراسیکیوٹر نیب آ پ نیب ہیں، آپ کرپشن کے کیس پکڑیں، کیا اس میں کوئی کرپشن ہے، آپ ابھی ایک لفظ نہیں بتا سکے کہ کر منل ایکٹ کہاں ہوا ہے۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ وزارت خزانہ یا پانی و بجلی نے تو کوئی اعتراض نہیں کیا تو نیب کا تفتیشی پھر کون ہوتا ہے کہنے والا کہ رائے ضروری تھی، نیب بیوروکریٹ کا فیصلے لینے کا اختیار واپس لینا چاہتا ہے، اسوقت سارے مسا ئل پیدا ہی اسی وجہ سے ہو رہے ہیں، ریکوڈک میں ہمیں کتنا نقصان ہوا ہے؟ اس طرف نہ جائیں، نیب کو دس چیزیں پہلے سوچ کے آگے چلنا چاہیے۔ نیب پراسیکیوٹر نے عدالت سے کہا 19مارچ 2009کو آپ نے ایگریمنٹ سائن کیا، 17اپریل کو 2009کو وزارت قانون نے جواب دیا۔ چیف جسٹس نے اظہار برہمی کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ نیب تفتیشی کسی رپورٹ سے متاثر نہیں ہو سکتا، اس طرح تو فیئر ٹرائل ختم ہو گیا، پھر تو کیس میں تفتیشی افسر مقرر کرنے کی ضرورت ہی نہیں بچی تھی، ایسا کر کے تفتیشی افسر نے سپریم کور ٹ کے حکم کی خلاف ورزی کی، رولز آف بزنس کے مطابق سیکرٹری وزارت کا انچارج ہوتا ہے، کیا آپکو معلوم ہے ریفرنس کیا ہے؟ ریفرنس نیب کا چالان اور الزاما ت کی سمر ی ہوتی ہے۔ چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا سابق سیکرٹری قانون لاہور سے آتے ہیں اور احتساب عدالت سے تاریخ لے کر واپس چلے جاتے ہیں، ان کا کیا شوق تھا سیکرٹری بننے کا، پتہ نہیں باقی بیوروکریٹس کا کام کیسے ہو رہا ہے؟ نیب کا کام کرپشن پکڑنا ہے لیکن آپ اس سے ہٹ کر پروسیجرل معاملات میں چلے گئے، اگر وہ رائے دے دیتے تو پھر آپ کہتے کہ یہ رائے دی کیوں؟ اسی لیے تو آج گورننس رکی ہوئی ہے، اس طرح کی آپکی مداخلت ہے تو پھر گورننس تو نہیں چلے گی، اس طرح کے ماحول میں تو کوئی بیوروکریٹ رائے دینے کیلئے تیار نہیں ہو گا۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ نیب نے ان لوگوں کو بھی ملزم بنایا ہے جن کو ملزم نہیں بنایا جانا چاہیے تھا، لوگوں کی سوسائٹی میں عزتیں خرا ب ہو جاتی ہیں، نیب گورننس کیساتھ تباہ کن طریقے سے کھیل رہا ہے، یہ نیب کا لیول نہیں، اینٹی کرپشن والے بھی ایسا نہ کریں، نیب کو پتہ ہونا چاہیے کہ ان کے ہر ایکشن سے گورننس پر کیا فرق پڑتا ہے۔بعدازاں عدالت نے ڈاکٹر بابر اعوان اور جسٹس(ر) ریاض کیانی کی بریت کیخلاف نیب کی اپیلوں پر فیصلے محفوظ کرلئے اور سماعت ملتوی کر دی۔

اسلام آبادہائیکورٹ

 اسلام آباد(آئی ا ین پی) اسلام آ باد ہائیکورٹ نے سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کی پنشن فوری طور پر جاری کرنے کا حکم دے دیا،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیئے کہ آپ کا سسٹم ایسا ہونا چاہیے کہ کسی کو کوئی پریشانی نہیں ہونی چاہیے، جب ایک دفعہ پنشن جاری ہو گئی تو کس قانون کے تحت آپ نے پنشن روکی، بشیر میمن کی ریٹائرمنٹ کا نوٹیفکیشن تو اے جی پی آر نے چیلنج نہیں کیا، ان کو تو عدالت آنا ہی نہیں چاہیے تھا بلکہ جو عدالتی اخراجات بھی آپ کو دینے چاہییں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کی پنشن روکے جانے کیخلاف درخواست پر سماعت کی۔ عدالتی استفسار پر اے جی پی آر کے نمائندے نے عدالت کو بتایا کہ سیکرٹری فنانس سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نے کہا ہے کہ آپ ہمیں لکھ کر بھیجیں، ہم وزارت قانون سے اس حوالے سے رائے لیں گے۔ 

بشیر میمن 

مزید :

صفحہ آخر -