ضلع وسطی میں جگہ جگہ گندگی، کچرے کے ڈھیرلگ گئے 

ضلع وسطی میں جگہ جگہ گندگی، کچرے کے ڈھیرلگ گئے 

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر)کراچی کے ضلع وسطی میں نئی بلدیاتی قیادت آنے کے بعد صورتحال مزید خراب ہوگئی، جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر لگنے سے لاکھوں افراد متاثر اور بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ کئی مقامات پر کچرا اٹھانے کے بجائے جلانا معمول بن گیا۔شہر قائد کے سب سے بڑے ضلع بلدیہ وسطی میں نئی بلدیاتی قیادت بھی کوئی بہتری نہ لاسکی، بلدیاتی نمائندوں کی مدت ختم ہوئے ایک ماہ گزر گیا۔ ایڈمنسٹریٹر کا چارچ سنبھالنے والے ڈپٹی کمشنربھی کچرے اور صفائی کے نظام کو بہتر نہ بنا سکے۔ تعلیمی ادارے، پارک، کھیل کے میدان، مساجد اور دیگر عوامی مقامات کچرے کی زد میں ہونے کے باعث گندگی و تعفن سے لاکھوں افراد متاثر ہورہے ہیں۔صفائی کے ناقص نظام کے باعث سڑکیں اور بس اسٹاپ تک کچرا کنڈی بن گئے، پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے والے افراد بنیادی سہولت سے بھی محروم ہوگئے، گندگی کے ڈھیر بڑھنے سے لوگوں کا کاروبار بھی تباہ ہوگیا۔نئی بلدیاتی انتظامیہ کی خراب کارکردگی سے بھی شہری مایوس ہوتے جارہے ہیں۔پاپوش نگر، نارتھ کراچی، نارتھ ناظم آباد، لیاقت آباد اور فیڈرل بی ایریا سمیت مختلف علاقوں اور مقامات پر کچرا اٹھایا کم اور جلانے کا رجحان زیادہ بڑھتا جارہا ہے۔ بچے اور عمر رسیدہ افراد اور خواتین زہریلے دھوئیں سے بری طرح متاثر ہورہے ہیں، بڑھتی گندگی و تعفن سے بیماریاں بڑھتی جارہی ہیں۔ڈپٹی کمشنر اور ایڈمنسٹریٹر ضلع وسطی محمد بخش دھاریجو نے یومیہ 1600 ٹن کچرا اٹھانے اور صفائی کے نظام کو بہتر بنانے کا بھی دعوی کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلدیہ وسطی میں یومیہ 1900میٹرک ٹن کچرا جمع ہوتا ہے۔ خراب مشینری ٹھیک ہونے کے بعد کچرے کا بیک لاک بھی جلد ختم کردیا جائے گا۔

مزید :

صفحہ آخر -