نیب نے نماز کیلئے کرسی نہیں دی، کھانا بھی زمین پر رکھ کر کھلایا: شہباز شریف 

  نیب نے نماز کیلئے کرسی نہیں دی، کھانا بھی زمین پر رکھ کر کھلایا: شہباز شریف 

  

 لاہور(نامہ نگار)احتساب عدالت کے جج جواد الحسن نے قومی اسمبلی میں قائد حزاب اختلاف میاں شہباز شریف خاندان کے خلاف منی لانڈرنگ ریفرنس کی سماعت 13 اکتوبر تک ملتوی کردی،عدالت نے میاں شہباز شریف اوران کے صاحبزادے حمزہ شہباز سمیت دیگرتمام ملزموں کو آئندہ تاریخ سماعت پردوبارہ پیش کرنے کا حکم بھی دیاہے،دوران سماعت فاضل جج نے قراردیا کہ حراستی ملزم کے حقوق کا خیال رکھا جائے، اگر آئندہ مجھے کوئی شکایت ملی تو سخت حکم سناؤں گا۔دوران سماعت عدالت میں شہبازشریف نے حمزہ شہبازکو پیش ہونے پر گلے لگا لیااوراپنے بیٹے سے خیریت دریافت کی،کیس کی سماعت شروع ہوئی توپراسیکیوٹرعاصم ممتاز اور تفتیشی حامد جاوید عدالت میں پیش ہوئے،دوران سماعت میاں شہباز شریف نے عدالت میں کہا کہ میں نماز پڑھتا ہوں تو کرسی کی مدد لیتا ہوں،نیب نے مجھے کرسی دینے سے انکار کردیا،میں نے ڈی جی نیب کو شکایت پہنچائی،2 دن کے بعد یہ معاملہ رْک گیا،یہ سب عمران خان اور شہزاد اکبر کی ایما پر ہوا،زندگی موت اللہ کے ہاتھ میں ہے،اگر میری کمر کو تکلیف پہنچی تو ان دونوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرواؤں گا،یہ کہاں کا انصاف ہے؟انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے،مجھے میری شکایت کے بعد 3 اکتوبر کو ڈسپنسری میں منتقل کیا گیا،عمران خان، شہزاد اکبر اور نیب کی ملی بھگت سے یہ سب ہوا، میری شکایت کے بعد داد رسی ہوئی، میرے ساتھ غیرانسانی سلوک کیا گیا، مجھے شام کا کھانا زمین پر رکھ کر دیا گیا،مجھے کچھ ہوا تو عمران خان، شہزاد اکبر ذمہ دار ہوں گے،دوران سماعت فاضل جج نے کہا کہ حراست کا مطلب ہرگز نہیں کہ کسی کو زمین پر بیٹھا کر کھانا کھلائیں، آج اپنے فیصلے میں بھی لکھوں گا،شہباز شریف نے مزید کہا کہ میں عدالتی حکم پر تحویل میں ہوں لیکن میرا یہ بنیادی حق ہے،سارا زمانہ جانتا ہے کہ مجھے کمر کی تکلیف ہے، گزشتہ 25 سال سے اس سے مبتلا ہوں،میں عدالتی تحویل میں ہوں،فاضل جج نے شہباز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے اپنی شکایت مجھے بتا دی ہے، احکامات میرے چلیں گے جب تک عدالتی تحویل میں ہیں، میں دوران تحویل کوئی غیر انسانی سلوک برداشت نہیں کروں گا، فاضل جج نے کہا کہ میں اگر سپروائزر وزٹ کرلوں تو کہا جائے گا جج ملنے چلا گیا، یہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب رہ چکے ہیں ان کی عزت لازمی ہے، فاضل جج نے نیب کے پرایسکیوٹر کا مخاطب کرکے کہا کہ آئندہ ایسی شکایت کا موقع نہیں ملنا چاہیے، یہ بالکل برداشت نہیں کیا جائے گا کھانا زمین پر رکھا جائے، فاضل جج نے مزیدکہا کہ شہبازشریف تحویل میں ہیں وہاں حکم بھی عدالت کاچلے گا،کسی کو شکایت ہوگی تو اس نے یہاں ہی کرنی ہے،عدالت حکم دیتی ہے کہ کسی بھی ملزم کی تضحیک نہ کی جائے،شہبازشریف کو تمام سہولیات دی جارہی ہیں،شہبازشریف کو گھر کے کھانے کی سہولت حاصل ہے،نیب آزاد ادارہ،کسی کا دباؤ نہیں، ادویات لانے کی مکمل اجازت ہے، دوران سماعت سلمان شہباز سے متعلق رپورٹ وزارت خارجہ آفس کی جانب سے جمع کرا دی،جس میں بتایا گیا کہ میاں شہباز شریف کے صاحبزادے سلمان شہباز کے وارنٹ گرفتاری کسی نے وصول نہیں کئے، فاضل جج نے کہاآپ نے نوٹس وصول کروانے کا بتایا،یہ نوٹس نہیں وارنٹ گرفتاری تھے، پاکستان کا نظام قانون آپ کے مزاج سے مختلف ہے، عدلت میں سلمان شہباز،نصرت شہباز،رابعہ شہبازکے وارنٹ کی تفصیلات پیش کی گئیں، عدالت میں ہائی کمیشن نے بھی اپنی رپورٹ عدالت میں پیش کی،عدالت میں ڈپٹی ڈائریکٹر فارن آفیسر سرفراز نے بیان قلمبند کرواتے ہوئے کہا کہ سلمان شہباز،نصرت شہباز، رابعہ کو وارنٹ کی تعمیل کرادی، فاضل جج نے استفسار کیا کہ حمزہ شہباز کہاں ہیں؟عدالتی اہلکار نے بتایا کہ حمزہ شہباز کو آج پیش کیا جائے گا، فاضل جج نے کہا کہ کیا حمزہ کا ٹرائل جیل میں شروع نہ کردیا جائے؟نیب کے پراسیکیوتر نے کہا کہ یہ صرف تاخیری حربے استعمال کئے جارہے ہیں، بیماری پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے، لیکں عدالتی کارروائی متاثر نہیں ہونی چاہیے،دوران سماعت وکیل محمدنوازنے کہا کہ نصرت اوررابعہ شہباز کواشتہاری قرارنہ دیا جائے وہ پیش ہوجائیں گی،جس پر فاضل جج نے کہا کہ جب ٹرائل میں پیش ہوجائے گی تب وارنٹ کینسل کریں گے، عدالت نے مذکورہ بالااحکامات کے ساتھ کیس کی مزید سماعت آئندہ تاریخ پیشی تک ملتوی کردی،میاں شہبازشریف کی عدالت میں پیشی کے موقع پرپولیس کی جانب سے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔

شہباز شریف

مزید :

صفحہ اول -