آذر بائیجان نے آرمینیا سے جنگ بندی کیلئے ”نگور نور ا کا باخ“ سے انخلا ء کی شرط رکھ دی 

آذر بائیجان نے آرمینیا سے جنگ بندی کیلئے ”نگور نور ا کا باخ“ سے انخلا ء کی ...

  

  باکو (مانیٹرنگ ڈیسک)آذربائیجان نے جنگ بندی کیلئے آرمینیا سے متنازع علاقے ”نگورنو کاراباخ“سے انخلاء کا وقت دینے کی شرط رکھ دی۔آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان ’نگورنو کاراباخ‘ کے تنازع پر جاری جنگ دوسرے ہفتے میں داخل ہوگئی ہے، آذری افواج نے متعد د علاقوں سے آرمینیائی فوج اور باغیوں کا قبضہ چھڑا لیا ہے۔اس جنگ میں اب تک دونوں اطراف سے ایک دوسرے پر حملوں میں شہریوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا ہے، یورپی یونین اور ترکی سمیت کئی ممالک نے جنگ بندی پر زور دیا ہے۔گزشتہ دنوں آذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے قوم سے خطاب میں کہا تھا کہ نگورنو کاراباخ آذری علاقہ ہے جس سے ہر صورت قبضہ چھڑایا جائیگا،جبکہ ترک ٹی وی کو انٹرویو میں انکا کہنا تھا ہمارے مقبوضہ علاقے واپس دیے جائیں تو خطے میں امن ہوگا اور علاقے سے انخلا کی واضح تاریخ دینا ہوگی۔ادھر آذربائیجان کے مشیر خارجہ حکمت حاجیوف نے پاکستان کے نجی نیوز چینل سے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ آرمینیا شہری آبادی پربمباری کررہا ہے، بعض علا قوں سے آرمینیائی فوج پیچھے ہٹ رہی ہے۔ آذر بائیجان معاملے کو پْرامن طور پر بات چیت سے حل کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن آرمینیا کے مذاکرات نہ کرنے کے باعث صورتحال کشیدہ ہوئی۔مشیر خارجہ نے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق آرمینیا کی فوج کو آذربائیجان کے علاقے سے نکلنا چاہیے اور یو این کی قراردادوں کے مطابق معاملے کا حل چاہتے ہیں۔ حکمت حاجیوف نے نگورنوکارا باخ معاملے پر آذر بائیجان کے مؤقف کی حمایت کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہ پاکستان کی حمایت کے اعتراف میں آذربائیجان کے کئی شہروں کو پاکستانی پرچموں سے سجایا گیا۔یاد رہے عالمی سطح پر ’نگورنو کارا باخ‘ آذربائیجان کا تسلیم شدہ علاقہ ہے تاہم اس پر آرمینیا کے قبائلی گروہ نے فوج کی مدد سے قبضہ کررکھا ہے جبکہ اسی قبضے کے باعث پاکستان آرمینیا کو تسلیم نہ کرنیوالا واحد ملک ہے۔

آذربیجان شرط

مزید :

صفحہ اول -