صدر ٹرمپ کی ہسپتال سے وائٹ ہاؤس منتقلی کی اطلاعات 

      صدر ٹرمپ کی ہسپتال سے وائٹ ہاؤس منتقلی کی اطلاعات 

  

واشنگٹن (اظہر زمان،بیورو چیف) صدر ٹرمپ کے کرونا وائرس میں مبتلا ہونے اور ہسپتال میں تین راتیں گزارنے کے بعد سوموار کی شام واپس وائٹ ہاؤس جانے کی اطلاعات ہیں،جبکہ اس دوران وائٹ ہاؤس میں 3مزید اہم عہدیداروں کے ٹیسٹ بھی مثبت آگئے ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیلی میکی نینی اور ان کے دو نائب بھی اس وائرس کا شکار ہوگئے ہیں۔ پریس سیکرٹری نے خود سوموار کے روز ایک بیان میں بتایا کہ ان کے ٹیسٹ منفی آتے رہے ہیں لیکن سوموار کے روز ان کا نیا ٹیسٹ مثبت آیا ہے جبکہ ان میں وائرس کی کوئی علامات نمودار نہیں ہوئیں۔ اس طرح وائٹ ہاؤس میں کرونا وائرس سے متاثر ہونیوالے اہلکار وں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ اور خاتون اول میلانیا ٹرمپ کے کرونا وائرس میں مبتلا ہونے کے بعد صدر کے مشیر ہوپ ہکس، انتخابی مہم کے منیجر بل سٹیفن اور آدھ درجن سے زائد سینئر سٹاف ممبر بھی اس کا شکار ہوگئے ہیں۔ ان میں کچھ وائٹ ہاؤس سے باہر اور کچھ اندر موجود ہیں۔ اب پریس سیکرٹری اور ان کے دو نائب کے مبتلا ہونے کی تازہ اطلاع ملی ہے۔ صدر ٹر مپ کی صحت کی صحیح صورتحال اور ان کے ہسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بارے میں کنفیوژن جاری ہے۔ ان کو آکسیجن کم ہونے کے باعث ”اینٹی باڈیز کاک ٹیل“ کے علاوہ سٹیرائڈ دیئے جارہے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ میں کرونا وائرس کے حوالے سے اہم ترین مشیر ڈاکٹر انتھونی فاچی نے صدر کے ہسپتال میں ہونیوالے علاج کی تعریف کرتے ہوئے کہا اس سے بہتر سلوک نہیں ہوسکتا۔ اگرچہ وائرس کی باقاعدہ منظور شدہ دوا کوئی نہیں لیکن شدید مرض میں ”ریمڈیسور“ دوا دی جاتی ہے۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق ان کو اس دوا کا کورس بھی شروع کرا دیا گیا ہے اس طرح ان کو جو دوائیں دی جارہی ہیں وہ شدید مرض میں استعمال ہوتی ہیں لیکن اس کے بارے میں کوئی بھی واضح طور پر تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ صدر کی بیماری شدید ہے۔ صدر ٹرمپ خود بھی کہہ چکے ہیں وہ سوموار کو ہسپتال سے ڈسچارج ہو سکتے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے چیف آف سٹاف مارک میڈوز بھی کہہ رہے ہیں کہ چونکہ صدر کی صحت بدستور بہتر ہو رہی ہے اسلئے انہیں سوموار کو ڈسچارج کیا جاسکتا ہے ایسا کیوں کیا جارہا ہے اس کی وجہ معلوم نہیں، تاہم یہ واضح ہے کہ ہسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بعد وائٹ ہاؤس میں بھی ان کا علاج جاری رہیگا۔

صدر ٹرمپ

مزید :

صفحہ اول -