انتظامیہ کی لاپروائی: رورل ہیلتھ سنٹر اوچ شریف پر ”مختلف بیماریوں“کا حملہ 

انتظامیہ کی لاپروائی: رورل ہیلتھ سنٹر اوچ شریف پر ”مختلف بیماریوں“کا حملہ 

  

اوچ شریف (نامہ نگار) محکمہ صحت کی عدم توجہی کے باعث 45سے زائد مواضعات کو صحت کی سہولیات فراہم کرنے والا اوچ شریف کا نصف صدی پرانا رورل ہیلتھ سنٹر مسائل کی دلدل میں دھنس گیا، تفصیلات کے مطابق سب تحصیل اوچ شریف اور اس کے ملحقہ(بقیہ نمبر38صفحہ 7پر)

 45سے زائد مواضعات کے لاکھوں مکینوں کو صحت کی بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے لئے اوچ شریف شہر کے وسط میں سرکاری طور پر رورل ہیلتھ سنٹر قائم کیا گیا تھا، 19مئی 1960ء میں قائم ہونے والے رورل ہیلتھ سنٹرکی عمارت کا سنگ بنیاد واجد علی خان برکی نے رکھا تھا جبکہ مذکورہ ہسپتال کے قیام کے لئے 6ایکڑ سے زائد قیمتی اراضی اس دور میں میونسپل کمیٹی اوچ شریف کے پہلے منتخب چیئرمین مخدوم سید حامد محمد شمس الدین گیلانی نے عطیہ کے طور پر حکومت کو دی، محکمہ صحت کی عدم توجہی اور مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث جہاں ہسپتال میں مریضوں کے وارڈز،کنٹین، ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل سٹاف کے کوارٹرزشکستگی اور انہدام کی طرف گامزن ہیں، وہاں اس کی خوبصورت عمارت کے نقش ونگارقصہ پارینہ جبکہ بچے کھچے درودیوار پر حسرتوں کی سیاہی پھیل چکی ہے، ہسپتال کی چاردیواری امتداد زمانہ کے بے رحم ہاتھوں نابود کیا ہوئی کہ راہ گیروں نے بیچوں بیچ داخلی وخارجی راستے بنا لئے، 1990ء کی دہائی میں سرجن ڈاکٹر سعید احمد ملک کی بطور سینئر میڈیکل آفیسر تعیناتی کے عرصے تک ہسپتال کا آپریشن تھیٹر بھی فعال تھا، جہاں ایمرجنسی مریضوں کا فوری آپریشن کیا جاتا تھااور اس دوران شاید ہی کسی مریض کو ملتان، بہاول پوریا کسی پرائیویٹ ہسپتال میں ریفر کیا گیا ہو لیکن ڈاکٹر سعید احمد ملک کی امریکا منتقل ہونے کے بعد ہسپتال کی شادابی معدوم، کنٹین بند اور آپریشن تھیٹر کو مستقل بنیادوں پر تالے لگ گئے، گردونواح کے علاقوں سے آنے والے مریضوں کے استفادے کے لئے قائم وارڈز اب کاٹھ کباڑ کے سامان کے لئے مختص ہو کر رہ گئے ہیں، لاکھوں مکینوں کو صحت کی سہولتیں فراہم کرنے والے اس اکلوتے مرکز صحت کو الٹراساؤنڈ سپیشلسٹ، چائلڈ سپیشلسٹ، ہیپاٹائٹس سپیشلسٹ، گائناکالوجسٹ اور دیگر ڈاکٹروں کی کمی کا سامنا ہے، اوچ شریف اور گردونواح میں ہیپاٹائٹس کا موذی مرض خوف ناک حد تک پھیل چکا ہے، کم علمی، عدم احتیاط اورمہنگے علاج کے باعث ہزاروں لوگ اس مرض میں مبتلا ہو کر ایڑیاں رگڑ رہے ہیں لیکن افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ ہسپتال میں اس حوالے سے نہ ہی کوئی خصوصی کاؤنٹر قائم کیا گیا ہے اور نہ ہی کوئی سپیشلسٹ ہے جو عوام کو ہیپاٹائٹس کے حوالے سے بروقت تشخیص، مشورے اور علاج کی سہولیات فراہم کر سکے، کورونا وائرس کی وباء کے دوران اوچ شریف میں متعدد لوگ اس موذی وباء کا شکار ہوئے اور چند جاں بحق بھی ہوئے لیکن اس موقع پر ہسپتال کا طبی عملہ اپنی”نگہداشت“تو بہتر طریقے سے کرتا رہا تاہم متاثرین کے لئے سوائے ”ظاہری نمود ونمائش“ کے اور کوئی اقدامات نہیں کئے گئے، ایمرجنسی اور دیگر ہنگامی طبی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے انتہائی نگہداشت کے حامل مریضوں کو تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال احمد پور شرقیہ، بہاول وکٹوریہ ہسپتال بہاول پوریا کسی نجی ہسپتال ریفر کر دیا جاتا ہے جو زندگی وموت کی کشمش میں مبتلا ہو کر راستے میں ہی دم توڑ دیتے ہیں۔

حملہ

مزید :

ملتان صفحہ آخر -