محکمہ ایکسائز: او پی ایس کے تحت ملازمین کی ترقیاتی غیر قانونی قرار 

    محکمہ ایکسائز: او پی ایس کے تحت ملازمین کی ترقیاتی غیر قانونی قرار 

  

ملتان (نیوز رپورٹر) سیکرٹری ایکسائز ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول پنجاب وجیہ اللہ کنڈی نے ملتان سمیت صوبہ بھر میں او پی ایس کے تحت پرموٹ ہونیوالے ملازمین و افسران کی پروموشن کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انہیں اپنے سابقہ عہدوں پر کام کرنے کی ہدایت کردی ہے اور صوبہ بھر کے ڈائریکٹرز کو فوری طور پر اس پر عملدرآمد کرنے کے احکامات جاری (بقیہ نمبر5صفحہ 6پر)

کردیئے تاہم جو افسران ان احکامات پر عمل نہیں کریں گے ان کے خلاف محکمانہ کاروائی کی جائے گی سیکشن آفیسر کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق جو افسران و اہلکاران او پی ایس کی بنیاد پر پرموٹ ہوئے ہیں وہ دوبارہ اپنے پہلے عہدوں پر کام جاری رکھیں ان کی پرموشن ڈی پی سی کی میٹنگ، محکمانہ قوانین اور سروس رولز کے مطابق کی جائیگی اور آئندہ او پی ایس کے تحت بھرتیاں و پرموشن نہیں کی جائیگی اور جو ڈائریکٹر ان احکامات پر عمل نہیں کرے گا اس کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائیگی محکمہ ایکسائز ملتان ذرائع کے مطابق  ملتان ڈویڑن کے 14 سے 15 ملازمین اس نوٹیفکیشن کی زد میں آگئے ہیں جن میں سے 9 ملازمین ملتان آفس سے متعلقہ ہیں جو کلرکس سے پرموٹ ہوکر انسپکٹر بن چکے ہیں لیکن وہ بدستور 11 ویں سکیل کی تنخواہ لے رہے ہیں جبکہ وہ محکمہ میں انسپکٹرز کی ذمہ داریاں نبھارہے ہیں ذرائع کے مطابق اس نوٹیفکیشن کے اجراء  سے صوبہ بھر میں متعدد ڈائریکٹرز اور ای ٹی اوز سمیت حال ہی میں ڈائریکٹر جنرل ایکسائز ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس پنجاب تعینات ہونیوالی میڈم صالحہ سعید بھی زد میں آچکی ہیں انہیں بھی 19 گریڈ رکھنے کے باوجود او پی ایس کے تحت 20 ویں گریڈ کے عہدے پر تعینات کیا گیا ہے۔ دوسری طرف ٹیکس ماہرین کے مطابق اس اکھاڑ پچھاڑ سے ملازمین میں مایوسی پھیلنے سمیت ٹیکس ریکوری بھی شدید متاثر ہونے کے خدشات ہیں اور جو ملازمین او پی ایس کے تحت پرموٹ ہوئے ہیں ان کی رقوم واپس کون دلائے گا جو اس پرموشن کے لیئے ادا کردی گئی ہے۔ 

مزید :

ملتان صفحہ آخر -